صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب شوب اللبن بالماء:
باب: دودھ میں پانی ملانا (بشرطیکہ دھوکے سے بیچا نہ جائے) جائز ہے۔
حدیث نمبر: 5613
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَمَعَهُ صَاحِبٌ لَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ كَانَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فِي شَنَّةٍ وَإِلَّا كَرَعْنَا، قَالَ: وَالرَّجُلُ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فِي حَائِطِهِ، قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدِي مَاءٌ بَائِتٌ، فَانْطَلِقْ إِلَى الْعَرِيشِ، قَالَ: فَانْطَلَقَ بِهِمَا، فَسَكَبَ فِي قَدَحٍ، ثُمَّ حَلَبَ عَلَيْهِ مِنْ دَاجِنٍ لَهُ، قَالَ: فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ شَرِبَ الرَّجُلُ الَّذِي جَاءَ مَعَهُ".
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعامر نے، کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے سعید بن حارث نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ انصار کے ایک صحابی کے یہاں تشریف لے گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے ایک رفیق (ابوبکر رضی اللہ عنہ) بھی تھے۔ ان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہارے یہاں اسی رات کا باسی پانی کسی مشکیزے میں رکھا ہوا ہو (تو ہمیں پلاؤ) ورنہ منہ لگا کے پانی پی لیں گے۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ صاحب (جن کے یہاں آپ تشریف لیے گئے تھے) اپنے باغ میں پانی دے رہے تھے۔ بیان کیا کہ ان صاحب نے کہا کہ یا رسول اللہ! میرے پاس رات کا باسی پانی موجود ہے، آپ چھپر میں تشریف لے چلیں۔ بیان کیا کہ پھر وہ ان دونوں حضرات کو ساتھ لے کر گئے پھر انہوں نے ایک پیالہ میں پانی لیا اور اپنی ایک دودھ دینے والی بکری کا اس میں دودھ نکالا۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا، اس کے بعد آپ کے رفیق ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5613]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5621
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَمَعَهُ صَاحِبٌ لَهُ، فَسَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبُهُ، فَرَدَّ الرَّجُلُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، وَهِيَ سَاعَةٌ حَارَّةٌ وَهُوَ يُحَوِّلُ فِي حَائِطٍ لَهُ يَعْنِي الْمَاءَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ كَانَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ فِي شَنَّةٍ وَإِلَّا كَرَعْنَا، وَالرَّجُلُ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فِي حَائِطٍ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدِي مَاءٌ بَاتَ فِي شَنَّةٍ فَانْطَلَقَ إِلَى الْعَرِيشِ، فَسَكَبَ فِي قَدَحٍ مَاءً، ثُمَّ حَلَبَ عَلَيْهِ مِنْ دَاجِنٍ لَهُ، فَشَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَعَادَ، فَشَرِبَ الرَّجُلُ الَّذِي جَاءَ مَعَهُ".
ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے سعید بن حارث نے اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ انصار کے ایک صحابی کے یہاں تشریف لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے ایک رفیق بھی تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے رفیق نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے سلام کا جواب دیا۔ پھر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر نثار ہوں یہ بڑی گرمی کا وقت ہے وہ اپنے باغ میں پانی دے رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہارے پاس مشک میں رات کا رکھا ہوا پانی ہے (تو وہ پلا دو) ورنہ ہم منہ لگا کر پی لیں گے۔ وہ صاحب اس وقت بھی باغ میں پانی دے رہے تھے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے پاس مشک میں رات کا رکھا ہوا باسی پانی ہے پھر وہ چھپر میں گئے اور ایک پیالے میں باسی پانی لیا پھر اپنی ایک دودھ دینے والی بکری کا دودھ اس میں نکالا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا پھر وہ دوبارہ لائے اور اس مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رفیق ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5621]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة