صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. باب من دعا برفع الوباء والحمى:
باب: جو شخص وبا اور بخار کے دور کرنے کے لیے دعا کرے۔
حدیث نمبر: 5677
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ:" لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ، وَبِلَالٌ، قَالَتْ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهِمَا، فَقُلْتُ: يَا أَبَتِ كَيْفَ تَجِدُكَ؟، وَيَا بِلَالُ كَيْفَ تَجِدُكَ؟ قَالَتْ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى، يَقُولُ: كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ، وَكَانَ بِلَالٌ إِذَا أُقْلِعَ عَنْهُ يَرْفَعُ عَقِيرَتَهُ، فَيَقُولُ: أَلَا لَيْتَ شِعْرِي، هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مِجَنَّةٍ وَهَلْ تَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ، أَوْ أَشَدَّ، وَصَحِّحْهَا وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا، وَمُدِّهَا، وَانْقُلْ حُمَّاهَا فَاجْعَلْهَا بِالْجُحْفَةِ".
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو ابوبکر اور بلال رضی اللہ عنہما کو بخار ہو گیا۔ بیان کیا کہ پھر میں ان کے پاس (بیمار پرسی کے لیے) گئی اور پوچھا کہ محترم والد بزرگوار! آپ کا کیا حال ہے اور اے بلال! آپ کا کیا حال ہے بیان کیا کہ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بخار ہوتا تو وہ یہ شعر پڑھا کرتے تھے۔ ”ہر شخص اپنے گھر والوں میں صبح کرتا ہے اور موت اس کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے“ اور بلال رضی اللہ عنہ کا جب بخار اترتا تو بلند آواز سے وہ یہ اشعار پڑھتے۔ ”کاش مجھے معلوم ہوتا کہ میں ایک رات وادی (مکہ) میں اس طرح گزار سکوں گا کہ میرے چاروں طرف اذخر اور جلیل (گھاس) کے درخت ہوں گے اور کیا کبھی پھر میں مجنہ کے گھاٹ پر اتر سکوں گا اور کیا کبھی شامہ اور طفیل میں اپنے سامنے دیکھ سکوں گا۔“ راوی نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی «اللهم حبب إلينا المدينة كحبنا مكة أو أشد وصححها وبارك لنا في صاعها ومدها وانقل حماها فاجعلها بالجحفة» ”اے اللہ! ہمارے دلوں میں مدینہ کی محبت پیدا کر جیسا کہ ہمیں (اپنے وطن) مکہ کی محبت تھی بلکہ اس سے بھی زیادہ مدینہ کی محبت عطا کر اور اس کی آب و ہوا کو صحت بخش بنا دے اور ہمارے لیے اس کے صاع اور مد میں برکت عطا فرما اور اس کے بخار کو کہیں اور جگہ منتقل کر دے اسے جحفہ (نامی گاؤں) میں بھیج دے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المرضى/حدیث: 5677]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لائے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو بخار نے آ لیا۔ میں ان دونوں کے پاس عیادت کے لیے گئی اور پوچھا: ”اے والد محترم! آپ کا کیا حال ہے؟ اے بلال! تم کیسے ہو؟“ جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بخار ہوتا تو وہ یہ شعر پڑھتے: «كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ، وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ» ”ہر شخص اپنے اہل خانہ میں صبح کرتا ہے لیکن موت اس کے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے۔“ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا جب بخار اترتا تو بآواز بلند یہ اشعار پڑھتے: «أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً، بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ، وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مِجَنَّةٍ، وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ» ”کاش! میں ایسی وادی (مکہ) میں رات بسر کرتا کہ میرے چاروں طرف اذخر اور جلیل نامی گھاس ہوتی، کیا میں کسی دن مجنہ کے چشموں تک پہنچوں گا؟ اور کیا میرے سامنے شامہ اور طفیل نامی پہاڑ ظاہر ہوں گے؟“ راوی نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صورت حال سے آگاہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ سے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ، وَصَحِّحْهَا لَنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَمُدِّنَا، وَانْقُلْ حُمَّاهَا فَاجْعَلْهَا بِالْجُحْفَةِ» ”اے اللہ! ہمارے دلوں میں مدینہ طیبہ کی محبت پیدا کر دے جیسا کہ ہمیں مکہ مکرمہ محبوب ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ مدینہ طیبہ کی محبت عطا فرما اور اس کی آب و ہوا کو صحت بخش کر دے، ہمارے لیے اس کے صاع اور مد میں برکت عطا فرما اور اس کے بخار کو کہیں اور منتقل کر دے، اسے جحفہ میں بھیج دے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المرضى/حدیث: 5677]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1889
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ، وَبِلَالٌ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى، يَقُولُ: كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَكَانَ بِلَالٌ إِذَا أُقْلِعَ عَنْهُ الْحُمَّى يَرْفَعُ عَقِيرَتَهُ، يَقُولُ: أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مَجَنَّةٍ وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ قَالَ: اللَّهُمَّ الْعَنْ شَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَعُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ، كَمَا أَخْرَجُونَا مِنْ أَرْضِنَا إِلَى أَرْضِ الْوَبَاءِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَفِي مُدِّنَا وَصَحِّحْهَا لَنَا، وَانْقُلْ حُمَّاهَا إِلَى الْجُحْفَةِ"، قَالَتْ: وَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَهِيَ أَوْبَأُ أَرْضِ اللَّهِ، قَالَتْ: فَكَانَ بُطْحَانُ يَجْرِي نَجْلًا تَعْنِي مَاءً آجِنًا.
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو ابوبکر اور بلال رضی اللہ عنہما بخار میں مبتلا ہو گئے، ابوبکر رضی اللہ عنہ جب بخار میں مبتلا ہوئے تو یہ شعر پڑھتے: ہر آدمی اپنے گھر والوں میں صبح کرتا ہے حالانکہ اس کی موت اس کی جوتی کے تسمہ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ اور بلال رضی اللہ عنہ کا جب بخار اترتا تو آپ بلند آواز سے یہ اشعار پڑھتے: کاش! میں ایک رات مکہ کی وادی میں گزار سکتا اور میرے چاروں طرف اذخر اور جلیل (گھاس) ہوتیں۔ کاش! ایک دن میں مجنہ کے پانی پر پہنچتا اور کاش! میں شامہ اور طفیل (پہاڑوں) کو دیکھ سکتا۔ کہا کہ اے میرے اللہ! شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف مردودوں پر لعنت کر۔ انہوں نے اپنے وطن سے اس وبا کی زمین میں نکالا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا اے اللہ! ہمارے دلوں میں مدینہ کی محبت اسی طرح پیدا کر دے جس طرح مکہ کی محبت ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ! اے اللہ! ہمارے صاع اور ہمارے مد میں برکت عطا فرما اور مدینہ کی آب و ہوا ہمارے لیے صحت خیز کر دے یہاں کے بخار کو جحیفہ میں بھیج دے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب ہم مدینہ آئے تو یہ اللہ کی سب سے زیادہ وبا والی سر زمین تھی۔ انہوں نے کہا مدینہ میں بطحان نامی ایک نالہ سے ذرا ذرا بدمزہ اور بدبودار پانی بہا کرتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المرضى/حدیث: 1889]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو بخار آگیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جب بخار آتا تو یہ شعر پڑھتے: ”گھر میں اپنے صبح کرتا ہے ایک فردِ بشر، موت اس کی جوتی کے تسمے سے ہے نزدیک تر۔“ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا جب بخار اترتا تو باآوازِ بلند یہ شعر کہتے: ”کاش! پھر مکہ کی وادی میں رہوں میں ایک رات، سب طرف اُگے ہوں وہاں جلیل و اذخر نبات۔ کاش! پھر دیکھوں میں شامہ، کاش! پھر دیکھوں طفیل، اور پیوں پانی مجنہ کے جو ہیں آبِ حیات۔ اے اللہ! شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف پر تیری لعنت ہو، جنہوں نے ہمارے ملک سے ہمیں نکال کر ایک وبائی زمین کی طرف دھکیل دیا۔“ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ، وَصَحِّحْهَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّهَا وَصَاعِهَا، وَانْقُلْ حُمَّاهَا إِلَى الْجُحْفَةِ» ”اے اللہ! مدینہ طیبہ کی محبت اس طرح ہمارے دلوں میں ڈال دے جس طرح مکہ سے محبت کرتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اے اللہ! ہمارے صاع اور مد میں برکت فرما اور مدینہ کی آب و ہوا ہمارے لیے اچھی کر دے اور اس کا بخار جحفہ کی طرف بھیج دے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب ہم مدینہ طیبہ آئے تو وہ اللہ کی زمینوں میں سب سے وبائی زمین تھی اور اس وادیِ بطحان میں بدبودار اور بدمزہ پانی بہتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المرضى/حدیث: 1889]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة