صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب وقت العشاء إلى نصف الليل:
باب: اس بارے میں کہ عشاء کی نماز کا وقت آدھی رات تک رہتا ہے۔
حدیث نمبر: 572
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ الْمُحَارِبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" أَخَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ، ثُمَّ صَلَّى، ثُمَّ قَالَ: قَدْ صَلَّى النَّاسُ وَنَامُوا، أَمَا إِنَّكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا"، وَزَادَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، سَمِعَ أَنَسًا كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ لَيْلَتَئِذٍ.
ہم سے عبدالرحیم محاربی نے بیان کیا، کہا ہم سے زائدہ نے حمید طویل سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک دن) عشاء کی نماز آدھی رات گئے پڑھی۔ اور فرمایا کہ دوسرے لوگ نماز پڑھ کر سو گئے ہوں گے۔ (یعنی دوسری مساجد میں پڑھنے والے مسلمان) اور تم لوگ جب تک نماز کا انتظار کرتے رہے (گویا سارے وقت) نماز ہی پڑھتے رہے۔ ابن مریم نے اس میں یہ زیادہ کیا کہ ہمیں یحییٰ بن ایوب نے خبر دی۔ کہا مجھ سے حمید طویل نے بیان کیا، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے یہ سنا، گویا اس رات آپ کی انگوٹھی کی چمک کا نقشہ اس وقت بھی میری نظروں کے سامنے چمک رہا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 572]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء میں ایک مرتبہ نصف رات تک تاخیر فرمائی، پھر اسے ادا کیا اور فرمایا: ”لوگوں نے نماز پڑھ لی اور سو گئے لیکن تم لوگ جب تک نماز کا انتظار کرتے رہے ہو، نماز ہی میں رہے ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 572]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 176
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَزَالُ الْعَبْدُ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ، مَا لَمْ يُحْدِثْ"، فَقَالَ رَجُلٌ أَعْجَمِيٌّ: مَا الْحَدَثُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: الصَّوْتُ يَعْنِي الضَّرْطَةَ.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید المقبری نے بیان کیا، وہ ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ اس وقت تک نماز ہی میں رہتا ہے جب تک وہ مسجد میں نماز کا انتظار کرتا ہے۔ تاوقیتکہ وہ حدث نہ کرے۔ ایک عجمی آدمی نے پوچھا کہ اے ابوہریرہ! حدث کیا چیز ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہوا جو پیچھے سے خارج ہو۔ (جسے عرف عام میں گوز مارنا کہتے ہیں)۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 176]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ اس وقت تک نماز میں رہتا ہے جب تک وہ مسجد میں نماز کا انتظار کرتا ہے، بشرطیکہ اسے «حَدَثٌ» لاحق نہ ہو۔“ ایک عجمی شخص نے سوال کیا: ابوہریرہ! «حَدَثٌ» کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: «حَدَثٌ» آواز، یعنی گوز کو کہتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 176]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 566
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، قَالَتْ:" أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً بِالْعِشَاءِ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَفْشُوَ الْإِسْلَامُ، فَلَمْ يَخْرُجْ، حَتَّى قَالَ عُمَرُ: نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ فَخَرَجَ، فَقَالَ لِأَهْلِ الْمَسْجِدِ: مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ غَيْرَكُمْ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے عقیل کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ سے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز دیر سے پڑھی۔ یہ اسلام کے پھیلنے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک باہر تشریف نہیں لائے جب تک عمر رضی اللہ عنہ نے یہ نہ فرمایا کہ عورتیں اور بچے سو گئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ تمہارے علاوہ دنیا میں کوئی بھی انسان اس نماز کا انتظار نہیں کرتا۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 566]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں دیر فرمائی، یہ اسلام کے پھیلنے سے پہلے کا واقعہ ہے، چنانچہ آپ گھر سے نہیں نکلے تاآنکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ عورتوں اور بچوں کو نیند آ رہی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اہل مسجد سے فرمایا: ”روئے زمین پر تمہارے علاوہ اور کوئی اس نماز کا انتظار نہیں کر رہا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 566]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 600
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، قال: انْتَظَرْنَا الْحَسَنَ، وَرَاثَ عَلَيْنَا حَتَّى قَرُبْنَا مِنْ وَقْتِ قِيَامِهِ فَجَاءَ، فَقَالَ: دَعَانَا جِيرَانُنَا هَؤُلَاءِ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: انتَظَرْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى كَانَ شَطْرُ اللَّيْلِ يَبْلُغُهُ، فَجَاءَ فَصَلَّى لَنَا ثُمَّ خَطَبَنَا، فَقَالَ:" أَلَا إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا ثُمَّ رَقَدُوا، وَإِنَّكُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلَاةَ"، قَالَ الْحَسَنُ: وَإِنَّ الْقَوْمَ لَا يَزَالُونَ بِخَيْرٍ مَا انْتَظَرُوا الْخَيْرَ، قَالَ قُرَّةُ: هُوَ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے عبداللہ بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعلی عبیداللہ حنفی نے، کہا ہم سے قرہ بن خالد سدوسی نے، انہوں نے کہا کہ ایک دن حسن بصری رحمہ اللہ نے بڑی دیر کی۔ اور ہم آپ کا انتظار کرتے رہے۔ جب ان کے اٹھنے کا وقت قریب ہو گیا تو آپ آئے اور (بطور معذرت) فرمایا کہ میرے ان پڑوسیوں نے مجھے بلا لیا تھا (اس لیے دیر ہو گئی) پھر بتلایا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ ہم ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے رہے۔ تقریباً آدھی رات ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، پھر ہمیں نماز پڑھائی۔ اس کے بعد خطبہ دیا۔ پس آپ نے فرمایا کہ دوسروں نے نماز پڑھ لی اور سو گئے۔ لیکن تم لوگ جب تک نماز کے انتظار میں رہے ہو گویا نماز ہی کی حالت میں رہے ہو۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر لوگ کسی خیر کے انتظار میں بیٹھے رہیں تو وہ بھی خیر کی حالت ہی میں ہیں۔ قرہ بن خالد نے کہا کہ حسن کا یہ قول بھی انس رضی اللہ عنہ کی حدیث کا ہے جو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 600]
حضرت قرہ بن خالد رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم ایک دفعہ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کا انتظار کر رہے تھے۔ انہوں نے تشریف لانے میں اتنی دیر کر دی کہ (مسجد سے) ان کی برخاستگی کا وقت قریب آ گیا۔ بہرحال وہ تشریف لائے اور فرمایا: ہمیں ہمارے پڑوسیوں نے دعوت دی تھی (اس لیے دیر ہو گئی)، پھر انہوں نے کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا تھا کہ ہم نے ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کیا یہاں تک کہ آدھی رات ہو گئی، اس کے بعد آپ تشریف لائے اور ہمیں نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”خبردار! لوگ تو نماز پڑھ کر سو گئے اور تم برابر نماز میں رہے جب تک تم نماز کا انتظار کرتے رہے۔“ اس حدیث کے پیش نظر حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: لوگ اس وقت تک خیر میں رہتے ہیں جب تک وہ خیر کا انتظار کرتے رہیں۔ قرہ بن خالد رحمہ اللہ نے کہا: حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کا مذکورہ فرمان بھی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی اس حدیث سے ماخوذ ہے جو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 600]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 661
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ:" سُئِلَ أَنَسُ، هَلِ اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا؟، فَقَالَ: نَعَمْ، أَخَّرَ لَيْلَةً صَلَاةَ الْعِشَاءِ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ بَعْدَ مَا صَلَّى، فَقَالَ: صَلَّى النَّاسُ وَرَقَدُوا وَلَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مُنْذُ انْتَظَرْتُمُوهَا"، قَالَ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا حمید طویل سے، انہوں نے کہا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی انگوٹھی پہنی ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں! ایک رات عشاء کی نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدھی رات تک دیر کی۔ نماز کے بعد ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا، لوگ نماز پڑھ کر سو چکے ہوں گے۔ اور تم لوگ اس وقت تک نماز ہی کی حالت میں تھے جب تک تم نماز کا انتظار کرتے رہے۔ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا جیسے اس وقت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی چمک کا سماں میری آنکھوں میں ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 661]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی تھی؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء کو آدھی رات تک مؤخر فرمایا، نماز سے فراغت کے بعد اپنے چہرہ انور سے ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”لوگ تو نماز پڑھ کر سو گئے اور تم نے جب نماز کا انتظار کیا تو گویا تم نماز ہی کی حالت میں رہے۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: گویا میں اب بھی اس انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہن رکھی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 661]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 847
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، سَمِعَ يَزِيدَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ، قَالَ: أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ، ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَلَمَّا صَلَّى أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ:" إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَرَقَدُوا، وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلَاةَ".
ہم سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا، انہوں نے یزید بن ہارون سے سنا، انہیں حمید ذیلی نے خبر دی، اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات (عشاء کی) نماز میں دیر فرمائی تقریباً آدھی رات تک۔ پھر آخر حجرہ سے باہر تشریف لائے اور نماز کے بعد ہماری طرف منہ کیا اور فرمایا کہ دوسرے لوگ نماز پڑھ کر سو چکے لیکن تم لوگ جب تک نماز کا انتظار کرتے رہے گویا کہ نماز میں رہے (یعنی تم کو نماز کا ثواب ملتا رہا)۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 847]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ نماز کو آدھی رات تک مؤخر کر دیا، پھر ہمارے پاس نماز پڑھانے کے لیے آئے۔ جب نماز پڑھ چکے تو چہرہ انور سے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”لوگ تو نماز پڑھ کر سو چکے ہیں اور تم برابر نماز میں رہے کیونکہ تم نماز کا انتظار کرتے رہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 847]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 848
وَقَالَ لَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي فِي مَكَانِهِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ الْفَرِيضَةَ وَفَعَلَهُ الْقَاسِمُ وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ لَا يَتَطَوَّعُ الْإِمَامُ فِي مَكَانِهِ وَلَمْ يَصِحَّ.
اور ہم سے آدم بن ابی ایاس نے کہا کہ ان سے شعبہ نے بیان کیا ان سے ایوب سختیانی نے ان سے نافع نے، فرمایا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما (نفل) اسی جگہ پر پڑھتے تھے اور جس جگہ فرض پڑھتے اور قاسم بن محمد بن ابی بکر نے بھی اسی طرح کیا ہے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ امام اپنی (فرض پڑھنے کی) جگہ پر نفل نہ پڑھے اور یہ صحیح نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 848]
حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اسی جگہ پر نفل وغیرہ پڑھ لیتے تھے جہاں پہلے فرض نماز ادا کی ہوتی تھی۔ حضرت قاسم (ابن محمد بن ابی بکر صدیق) رحمہ اللہ نے بھی ایسے ہی کیا تھا، البتہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً بیان کیا جاتا ہے کہ: ”امام اسی جگہ نفل نماز نہ پڑھے جہاں اس نے فرض نماز ادا کی تھی،“ لیکن یہ حدیث صحیح نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 848]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5869
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ هَلِ اتَّخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا؟ قَالَ: أَخَّرَ لَيْلَةً صَلَاةَ الْعِشَاءِ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ، قَالَ:" إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا وَإِنَّكُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا".
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو یزید بن زریع نے خبر دی، کہا ہم کو حمید نے خبر دی، کہا انہوں نے کہ انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی تھی؟ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء کی نماز آدھی رات میں پڑھائی۔ پھر چہرہ مبارک ہماری طرف کیا، جیسے اب بھی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں۔ فرمایا کہ بہت سے لوگ نماز پڑھ کر سو چکے ہوں گے لیکن تم اس وقت بھی نماز میں ہو جب تک تم نماز کا انتظار کرتے رہے ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 5869]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ان سے دریافت کیا گیا: ”کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی تھی؟“ انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات نمازِ عشاء نصف رات تک مؤخر کی، پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے، میں اب بھی (چشم تصور سے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”بہت سے لوگ نماز عشاء پڑھ کر سو گئے ہیں، لیکن تم اس وقت سے نماز ہی میں ہو جب سے تم نماز کا انتظار کر رہے ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 5869]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة