🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب جبة الصوف فى الغزو:
باب: لڑائی میں اون کا جبہ پہننا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5799
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ: أَمَعَكَ مَاءٌ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَنَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ فَمَشَى حَتَّى تَوَارَى عَنِّي فِي سَوَادِ اللَّيْلِ، ثُمَّ جَاءَ، فَأَفْرَغْتُ عَلَيْهِ الْإِدَاوَةَ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُخْرِجَ ذِرَاعَيْهِ مِنْهَا حَتَّى أَخْرَجَهُمَا مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ، فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ أَهْوَيْتُ لِأَنْزِعَ خُفَّيْهِ، فَقَالَ: دَعْهُمَا، فَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ"، فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا نے بیان کیا، ان سے عامر نے، ان سے عروہ بن مغیرہ نے اور ان سے ان کے والد مغیرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں ایک رات سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا آپ نے دریافت فرمایا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور چلتے رہے یہاں تک کہ رات کی تاریکی میں آپ چھپ گئے پھر واپس تشریف لائے تو میں نے برتن کا پانی آپ کو استعمال کرایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ دھویا، ہاتھ دھوئے آپ اون کا جبہ پہنے ہوئے تھے جس کی آستین چڑھانی آپ کے لیے دشوار تھی چنانچہ آپ نے اپنے ہاتھ جبہ کے نیچے سے نکالے اور بازوؤں کو (کہنیوں تک) دھویا۔ پھر سر پر مسح کیا پھر میں بڑھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے موزے اتار دوں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رہنے دو میں نے طہارت کے بعد انہیں پہنا تھا چنانچہ آپ نے ان پر مسح کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5799]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں ایک رات دورانِ سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا، آپ نے دریافت فرمایا: کیا تیرے پاس پانی ہے؟ جی ہاں۔ آپ اپنی سواری سے اترے اور مسلسل چلتے رہے حتیٰ کہ آپ رات کی تاریکی میں چھپ گئے۔ پھر جب واپس تشریف لائے تو میں نے مشکیزے سے آپ پر پانی ڈالا۔ آپ نے اپنا چہرہ مبارک اور دونوں ہاتھ دھوئے۔ اس وقت آپ اونی جبہ پہنے ہوئے تھے۔ آپ اس کی آستینوں سے اپنے ہاتھ باہر نہ نکال سکے تو انہیں جبے کے نیچے سے نکالا، پھر اپنے بازوؤں کو کہنیوں تک دھویا اور اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر میں آپ کے موزے اتارنے کے لیے آگے بڑھا تو آپ نے فرمایا: انہیں رہنے دو، میں نے وضو کے بعد انہیں پہنا تھا۔ چنانچہ آپ نے ان پر مسح فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5799]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 182
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ،" أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، وَأَنَّهُ ذَهَبَ لِحَاجَةٍ لَهُ، وَأَنَّ مُغِيرَةَ جَعَلَ يَصُبُّ الْمَاءَ عَلَيْهِ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ".
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا، انہوں نے کہا مجھے سعد بن ابراہیم نے نافع بن جبیر بن مطعم سے بتلایا۔ انہوں نے عروہ بن مغیرہ بن شعبہ سے سنا، وہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ (وہاں) آپ رفع حاجت کے لیے تشریف لے گئے (جب آپ واپس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو شروع کیا) تو مغیرہ بن شعبہ آپ کے (اعضاء وضو) پر پانی ڈالنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر رہے تھے آپ نے اپنے منہ اور ہاتھوں کو دھویا، سر کا مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 182]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے (جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہو کر آئے) تو حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے پانی ڈالنا شروع کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرماتے رہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ اقدس اور دونوں ہاتھ دھوئے، سر کا مسح فرمایا اور دونوں موزوں پر بھی مسح کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 182]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 206
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَهْوَيْتُ لِأَنْزِعَ خُفَّيْهِ، فَقَالَ:" دَعْهُمَا، فَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ، فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا نے یحییٰ کے واسطے سے نقل کیا، وہ عامر سے وہ عروہ بن مغیرہ سے، وہ اپنے باپ (مغیرہ) سے روایت کرتے ہیں کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، تو میں نے چاہا (کہ وضو کرتے وقت) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے موزے اتار ڈالوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں رہنے دو۔ چونکہ جب میں نے انہیں پہنا تھا تو میرے پاؤں پاک تھے۔ (یعنی میں وضو سے تھا) پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر مسح کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 206]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا (آپ وضو کر رہے تھے) میں جھکا تاکہ آپ کے دونوں موزے اتاروں تو آپ نے فرمایا: انہیں رہنے دو، میں نے انہیں باوضو پہنا تھا۔ پھر آپ نے ان پر مسح فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 206]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں