Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
44. باب ما ينهى من السباب واللعن:
باب: گالی دینے اور لعنت کرنے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6048
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ صُرَدٍ، رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ أَحَدُهُمَا فَاشْتَدَّ غَضَبُهُ حَتَّى انْتَفَخَ وَجْهُهُ وَتَغَيَّرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ الَّذِي يَجِدُ"، فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ، فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: تَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَقَالَ: أَتُرَى بِي بَأْسٌ، أَمَجْنُونٌ أَنَا اذْهَبْ.
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عدی بن ثابت نے بیان کیا کہ میں نے سلیمان بن صرد سے سنا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں نے آپس میں گالی گلوچ کی ایک صاحب کو غصہ آ گیا اور بہت زیادہ آیا، ان کا چہرہ پھول گیا اور رنگ بدل دیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا کہ مجھے ایک کلمہ معلوم ہے کہ اگر (غصہ کرنے والا شخص) اسے کہہ لے تو اس کا غصہ دور ہو جائے گا۔ چنانچہ ایک صاحب نے جا کر غصہ ہونے والے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سنایا اور کہا شیطان سے اللہ کی پناہ مانگ وہ کہنے لگا کیا تم مجھ کو روگی سمجھتے ہو یا دیوانہ؟ جا اپنا راستہ لے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6048]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3282
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجُلَانِ يَسْتَبَّانِ فَأَحَدُهُمَا احْمَرَّ وَجْهُهُ وَانْتَفَخَتْ أَوْدَاجُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا ذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ لَوْ، قَالَ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ، فَقَالُوا: لَهُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَقَالَ: وَهَلْ بِي جُنُونٌ".
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ نے، ان سے اعمش نے، ان سے عدی بن ثابت نے اور ان سے سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا اور (قریب ہی) دو آدمی آپس میں گالی گلوچ کر رہے تھے کہ ایک شخص کا منہ سرخ ہو گیا اور گردن کی رگیں پھول گئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ اگر یہ شخص اسے پڑھ لے تو اس کا غصہ جاتا رہے گا۔ فرمایا «أعوذ بالله من الشيطان‏.‏» میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کی شیطان سے۔ تو اس کا غصہ جاتا رہے گا۔ لوگوں نے اس پر اس سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں کہ تمہیں شیطان سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہئے، اس نے کہا، کیا میں کوئی دیوانہ ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 3282]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6115
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ، قَالَ: اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ جُلُوسٌ وَأَحَدُهُمَا يَسُبُّ صَاحِبَهُ مُغْضَبًا قَدِ احْمَرَّ وَجْهُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ، لَوْ قَالَ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ"، فَقَالُوا لِلرَّجُلِ: أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنِّي لَسْتُ بِمَجْنُونٍ.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے عدی بن ثابت نے، ان سے سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ دو آدمیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں جھگڑا کیا، ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک شخص دوسرے کو غصہ کی حالت میں گالی دے رہا تھا اور اس کا چہرہ سرخ تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر یہ شخص اسے کہہ لے تو اس کا غصہ دور ہو جائے۔ اگر یہ «أعوذ بالله من الشيطان الرجيم» کہہ لے۔ صحابہ نے اس سے کہا کہ سنتے نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرما رہے ہیں؟ اس نے کہا کہ کیا میں دیوانہ ہوں؟ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6115]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں