صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
87. باب ما يكره من الغضب والجزع عند الضيف:
باب: مہمان کے سامنے غصہ اور رنج کا ظاہر کرنا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 6140
حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" أَنَّ أَبَا بَكْرٍ تَضَيَّفَ رَهْطًا، فَقَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ: دُونَكَ أَضْيَافَكَ فَإِنِّي مُنْطَلِقٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَافْرُغْ مِنْ قِرَاهُمْ قَبْلَ أَنْ أَجِيءَ، فَانْطَلَقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَأَتَاهُمْ بِمَا عِنْدَهُ، فَقَالَ: اطْعَمُوا، فَقَالُوا: أَيْنَ رَبُّ مَنْزِلِنَا؟ قَالَ: اطْعَمُوا، قَالُوا: مَا نَحْنُ بِآكِلِينَ حَتَّى يَجِيءَ رَبُّ مَنْزِلِنَا، قَالَ: اقْبَلُوا عَنَّا قِرَاكُمْ فَإِنَّهُ إِنْ جَاءَ وَلَمْ تَطْعَمُوا لَنَلْقَيَنَّ مِنْهُ فَأَبَوْا فَعَرَفْتُ أَنَّهُ يَجِدُ عَلَيَّ، فَلَمَّا جَاءَ تَنَحَّيْتُ عَنْهُ، فَقَالَ: مَا صَنَعْتُمْ؟ فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَسَكَتُّ، ثُمَّ قَالَ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَسَكَتُّ، فَقَالَ: يَا غُنْثَرُ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ إِنْ كُنْتَ تَسْمَعُ صَوْتِي لَمَّا جِئْتَ فَخَرَجْتُ، فَقُلْتُ: سَلْ أَضْيَافَكَ، فَقَالُوا: صَدَقَ أَتَانَا بِهِ قَالَ: فَإِنَّمَا انْتَظَرْتُمُونِي، وَاللَّهِ لَا أَطْعَمُهُ اللَّيْلَةَ، فَقَالَ الْآخَرُونَ: وَاللَّهِ لَا نَطْعَمُهُ حَتَّى تَطْعَمَهُ، قَالَ: لَمْ أَرَ فِي الشَّرِّ كَاللَّيْلَةِ، وَيْلَكُمْ مَا أَنْتُمْ لِمَ لَا تَقْبَلُونَ عَنَّا قِرَاكُمْ، هَاتِ طَعَامَكَ فَجَاءَهُ فَوَضَعَ يَدَهُ، فَقَالَ: بِاسْمِ اللَّهِ الْأُولَى لِلشَّيْطَانِ فَأَكَلَ وَأَكَلُوا".
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید الجریری نے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نہدی نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کی میزبانی کی اور عبدالرحمٰن سے کہا کہ مہمانوں کا پوری طرح خیال رکھنا کیونکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا، میرے آنے سے پہلے انہیں کھانا کھلا دینا۔ چنانچہ عبدالرحمٰن کھانا مہمانوں کے پاس لائے اور کہا کہ کھانا کھائیے۔ انہوں نے پوچھا کہ ہمارے گھر کے مالک کہاں ہیں؟ انہوں نے عرض کیا کہ آپ لوگ کھانا کھا لیں۔ مہمانوں نے کہا کہ جب تک ہمارے میزبان نہ آ جائیں ہم کھانا نہیں کھائیں گے۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ ہماری درخواست قبول کر لیجئے کیونکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آنے تک اگر آپ لوگ کھانے سے فارغ نہیں ہو گئے تو ہمیں ان کی خفگی کا سامنا ہو گا۔ انہوں نے اس پر بھی انکار کیا۔ میں جانتا تھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ پر ناراض ہوں گے۔ اس لیے جب وہ آئے میں ان سے بچنے لگا۔ انہوں نے پوچھا: تم لوگوں نے کیا کیا؟ گھر والوں نے انہیں بتایا تو انہوں نے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کو پکارا! میں خاموش رہا۔ پھر انہوں نے پکارا! عبدالرحمٰن! میں اس مرتبہ بھی خاموش رہا۔ پھر انہوں نے کہا ارے پاجی میں تجھ کو قسم دیتا ہوں کہ اگر تو میری آواز سن رہا ہے تو باہر آ جا، میں باہر نکلا اور عرض کیا کہ آپ اپنے مہمانوں سے پوچھ لیں۔ مہمانوں نے بھی کہا عبدالرحمٰن سچ کہہ رہا ہے۔ وہ کھانا ہمارے پاس لائے تھے۔ آخر والد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم لوگوں نے میرا انتظار کیا، اللہ کی قسم! میں آج رات کھانا نہیں کھاؤں گا۔ مہمانوں نے بھی قسم کھا لی اللہ کی قسم جب تک آپ نہ کھائیں ہم بھی نہ کھائیں گے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا بھائی میں نے ایسی خراب بات کبھی نہیں دیکھی۔ مہمانو! تم لوگ ہماری میزبانی سے کیوں انکار کرتے ہو۔ خیر عبدالرحمٰن کھانا لا، وہ کھانا لائے تو آپ نے اس پر اپنا ہاتھ رکھ کر کہا، اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، پہلی حالت (کھانا نہ کھانے کی قسم) شیطان کی طرف سے تھی۔ چنانچہ انہوں نے کھانا کھایا اور ان کے ساتھ مہمانوں نے بھی کھایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6140]
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے چند لوگوں کو مہمان بنایا اور عبدالرحمن سے کہا: ”ان مہمانوں کا پوری طرح خیال رکھنا کیونکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جا رہا ہوں، میرے آنے سے پہلے پہلے انہیں کھانا کھلا دینا۔“ چنانچہ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ گئے اور جو کھانا حاضر تھا وہ مہمانوں کے سامنے پیش کر دیا اور کہا: ”کھانا تناول فرمائیں۔“ مہمانوں نے کہا: ”صاحب خانہ کہاں ہیں؟“ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا: ”آپ کھانا کھائیں۔“ انہوں نے کہا: ”جب تک صاحب خانہ نہ آ جائیں ہم کھانا نہیں کھائیں گے۔“ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا: ”آپ ہماری درخواست قبول کریں کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے واپس آنے تک اگر آپ حضرات کھانے سے فارغ نہ ہوئے تو مجھے ان کی طرف سے خفگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔“ انہوں نے کھانے سے انکار ہی کیا۔ میں جانتا تھا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مجھ پر ناراض ہوں گے اس لیے جب وہ تشریف لائے تو میں ایک طرف ہو گیا۔ انہوں نے پوچھا: ”تم لوگوں نے کیا کیا ہے؟“ گھر والوں نے انہیں صورت حال سے آگاہ کیا تو انہوں نے ”عبدالرحمن“ کہہ کر آواز دی۔ میں خاموش رہا۔ پھر انہوں نے فرمایا: ”اے جاہل! میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ اگر تو میری آواز سنتا ہے تو میرے پاس آ جا۔“ چنانچہ میں باہر نکلا اور (مہمانوں نے) کہا: ”عبدالرحمن سچ کہہ رہا ہے، وہ کھانا ہمارے پاس لایا تھا۔“ آخر کار انہوں نے فرمایا: ”تم نے صرف میرے انتظار میں کھانا لیٹ کیا، اللہ کی قسم! میں آج رات کھانا نہیں کھاؤں گا۔“ مہمانوں نے بھی قسم اٹھائی: «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم! جب تک آپ نہیں کھائیں گے ہم بھی نہیں کھائیں گے۔“ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے آج رات جیسی تکلیف دہ رات نہیں دیکھی، مہمانو! افسوس ہے تم لوگ ہماری میزبانی سے کیوں انکار کرتے ہو؟ اے عبدالرحمن! کھانا لاؤ۔“ چنانچہ وہ کھانا لائے تو آپ نے اس پر ہاتھ رکھ کر کہا: «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے (شروع کرتا ہوں)، پہلی حالت شیطان کی طرف سے تھی۔“ پھر انہوں نے کھانا کھایا تو مہمانوں نے بھی (ان کے ساتھ) تناول کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6140]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 602
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ أَصْحَابَ الصُّفَّةِ كَانُوا أُنَاسًا فُقَرَاءَ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ اثْنَيْنِ فَلْيَذْهَبْ بِثَالِثٍ، وَإِنْ أَرْبَعٌ فَخَامِسٌ أَوْ سَادِسٌ، وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ بِثَلَاثَةٍ، فَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَشَرَةٍ، قَالَ: فَهُوَ أَنَا وَأَبِي وَأُمِّي، فَلَا أَدْرِي، قَالَ: وَامْرَأَتِي وَخَادِمٌ بَيْنَنَا وَبَيْنَ بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ تَعَشَّى عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ لَبِثَ حَيْثُ صُلِّيَتِ الْعِشَاءُ، ثُمَّ رَجَعَ فَلَبِثَ حَتَّى تَعَشَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ بَعْدَ مَا مَضَى مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ، قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: وَمَا حَبَسَكَ عَنْ أَضْيَافِكَ أَوْ قَالَتْ ضَيْفِكَ، قَالَ: أَوَمَا عَشَّيْتِيهِمْ، قَالَتْ: أَبَوْا حَتَّى تَجِيءَ، قَدْ عُرِضُوا فَأَبَوْا، قَالَ: فَذَهَبْتُ أَنَا فَاخْتَبَأْتُ، فَقَالَ: يَا غُنْثَرُ، فَجَدَّعَ وَسَبَّ، وَقَالَ كُلُوا لَا هَنِيئًا، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أَطْعَمُهُ أَبَدًا وَايْمُ اللَّهِ مَا كُنَّا نَأْخُذُ مِنْ لُقْمَةٍ إِلَّا رَبَا مِنْ أَسْفَلِهَا أَكْثَرُ مِنْهَا، قَالَ: يَعْنِي حَتَّى شَبِعُوا وَصَارَتْ أَكْثَرَ مِمَّا كَانَتْ قَبْلَ ذَلِكَ، فَنَظَرَ إِلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ فَإِذَا هِيَ كَمَا هِيَ أَوْ أَكْثَرُ مِنْهَا، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: يَا أُخْتَ بَنِي فِرَاسٍ، مَا هَذَا؟ قَالَتْ: لَا وَقُرَّةِ عَيْنِي، لَهِيَ الْآنَ أَكْثَرُ مِنْهَا قَبْلَ ذَلِكَ بِثَلَاثِ مَرَّاتٍ، فَأَكَلَ مِنْهَا أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ: إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ يَعْنِي يَمِينَهُ، ثُمَّ أَكَلَ مِنْهَا لُقْمَةً، ثُمَّ حَمَلَهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصْبَحَتْ عِنْدَهُ، وَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمٍ عَقْدٌ فَمَضَى الْأَجَلُ فَفَرَّقَنَا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مَعَ كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ أُنَاسٌ اللَّهُ أَعْلَمُ كَمْ مَعَ كُلِّ رَجُلٍ، فَأَكَلُوا مِنْهَا أَجْمَعُونَ أَوْ كَمَا قَالَ".
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ سلیمان بن طرخان نے، کہا کہ ہم سے ابوعثمان نہدی نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث بیان کی کہ اصحاب صفہ نادار مسکین لوگ تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے گھر میں دو آدمیوں کا کھانا ہو تو وہ تیسرے (اصحاب صفہ میں سے کسی) کو اپنے ساتھ لیتا جائے۔ اور جس کے ہاں چار آدمیوں کا کھانا ہے تو وہ پانچویں یا چھٹے آدمی کو سائبان والوں میں سے اپنے ساتھ لے جائے۔ پس ابوبکر رضی اللہ عنہ تین آدمی اپنے ساتھ لائے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دس آدمیوں کو اپنے ساتھ لے گئے۔ عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ گھر کے افراد میں اس وقت باپ، ماں اور میں تھا۔ ابوعثمان راوی کا بیان ہے کہ مجھے یاد نہیں کہ عبدالرحمٰن بن ابی بکر نے یہ کہا یا نہیں کہ میری بیوی اور ایک خادم جو میرے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ دونوں کے گھر کے لیے تھا یہ بھی تھے۔ خیر ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں ٹھہر گئے۔ (اور غالباً کھانا بھی وہیں کھایا۔ صورت یہ ہوئی کہ) نماز عشاء تک وہیں رہے۔ پھر (مسجد سے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ مبارک میں آئے اور وہیں ٹھہرے رہے تاآنکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھانا کھا لیا۔ اور رات کا ایک حصہ گزر جانے کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے چاہا تو آپ گھر تشریف لائے تو ان کی بیوی (ام رومان) نے کہا کہ کیا بات پیش آئی کہ مہمانوں کی خبر بھی آپ نے نہ لی، یا یہ کہ مہمان کی خبر نہ لی۔ آپ نے پوچھا، کیا تم نے ابھی انہیں رات کا کھانا نہیں کھلایا۔ ام رومان نے کہا کہ میں کیا کروں آپ کے آنے تک انہوں نے کھانے سے انکار کیا۔ کھانے کے لیے ان سے کہا گیا تھا لیکن وہ نہ مانے۔ عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں ڈر کر چھپ گیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پکارا اے غنثر! (یعنی او پاجی) آپ نے برا بھلا کہا اور کوسنے دئیے۔ فرمایا کہ کھاؤ تمہیں مبارک نہ ہو! اللہ کی قسم! میں اس کھانے کو کبھی نہیں کھاؤں گا۔ (آخر مہمانوں کو کھانا کھلایا گیا) (عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے کہا) اللہ گواہ ہے کہ ہم ادھر ایک لقمہ لیتے تھے اور نیچے سے پہلے سے بھی زیادہ کھانا ہو جاتا تھا۔ بیان کیا کہ سب لوگ شکم سیر ہو گئے۔ اور کھانا پہلے سے بھی زیادہ بچ گیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو کھانا پہلے ہی اتنا یا اس سے بھی زیادہ تھا۔ اپنی بیوی سے بولے۔ بنوفراس کی بہن! یہ کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا کہ میری آنکھ کی ٹھنڈک کی قسم! یہ تو پہلے سے تین گنا ہے۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی وہ کھانا کھایا اور کہا کہ میرا قسم کھانا ایک شیطانی وسوسہ تھا۔ پھر ایک لقمہ اس میں سے کھایا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بقیہ کھانا لے گئے اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ وہ صبح تک آپ کے پاس رکھا رہا۔ عبدالرحمٰن نے کہا کہ ہم مسلمانوں کا ایک دوسرے قبیلے کے لوگوں سے معاہدہ تھا۔ اور معاہدہ کی مدت پوری ہو چکی تھی۔ (اس قبیلہ کا وفد معاہدہ سے متعلق بات چیت کرنے مدینہ میں آیا ہوا تھا) ہم نے ان میں سے بارہ آدمی جدا کئے اور ہر ایک کے ساتھ کتنے آدمی تھے اللہ کو ہی معلوم ہے ان سب نے ان میں سے کھایا۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے کچھ ایسا ہی کہا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 602]
حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اصحابِ صفہ نادار لوگ تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کے متعلق) فرمایا تھا: ”جس کے پاس دو آدمیوں کا کھانا ہے، وہ تیسرا آدمی ساتھ لے جائے اور اگر چار کا ہو تو پانچواں یا چھٹا (ان میں سے لے جائے)۔“ چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ تین آدمی لے کر گئے اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہمراہ دس آدمیوں کو لیا۔ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہما نے کہا کہ گھر میں اس وقت میں اور میرے والدین (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ام رومان رضی اللہ عنہا) تھے۔ راوی کہتا ہے کہ مجھے یاد نہیں کہ آپ نے یہ کہا یا نہیں کہ گھر میں میری اہلیہ اور خادم بھی تھا جو میرے اور میرے والد گرامی کے گھر میں مشترکہ طور پر کام کرتا تھا۔ الغرض حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں رات کا کھانا کھا لیا اور تھوڑی دیر کے لیے وہاں ٹھہر گئے، پھر عشاء کی نماز پڑھ لی گئی، لوٹ کر پھر تھوڑی دیر ٹھہرے، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کا کھانا تناول فرمایا۔ اس کے بعد آپ کافی رات گئے اپنے گھر واپس آئے تو ان کی بیوی (رضی اللہ عنہا) نے کہا: تم اپنے مہمانوں یا مہمان کو چھوڑ کر کہاں اٹک گئے تھے؟ وہ بولے: کیا تم نے انہیں کھانا نہیں کھلایا؟ انہوں نے بتایا کہ آپ کے آنے تک مہمانوں نے کھانا کھانے سے انکار کر دیا تھا۔ کھانا پیش کیا گیا لیکن وہ نہ مانے۔ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں تو (مارے خوف کے) کہیں چھپ گیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے غنثر! آپ نے بہت سخت سست کہا اور خوب کوسا، پھر مہمانوں سے گویا ہوئے: کھاؤ تمہیں خوشگوار نہ ہو، اور کہا: اللہ کی قسم! میں ہرگز نہ کھاؤں گا۔ (حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:) اللہ کی قسم! ہم جب لقمہ لیتے تو نیچے سے زیادہ بڑھ جاتا تاآنکہ سب مہمان سیر ہو گئے اور جس قدر کھانا پہلے تھا اس سے کہیں زیادہ بچ گیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب کھانا دیکھا کہ وہ ویسے ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے تو انہوں نے اپنی اہلیہ (رضی اللہ عنہا) سے فرمایا: اے قبیلہ بنو فراس کی بہن! یہ کیا ماجرا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: اے میری آنکھوں کی ٹھنڈک! یہ کھانا اس وقت پہلے سے تین گنا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ پھر اس میں سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کچھ تناول فرمایا اور کہا کہ ان کی یہ قسم شیطان ہی کی طرف سے تھی۔ پھر ایک لقمہ اس سے (مزید) کھایا اور باقی ماندہ کھانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھا کر لے گئے اور وہ صبح تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پڑا رہا۔ (حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہما نے کہا:) ہمارے اور ایک گروہ کے درمیان کچھ عہد تھا جس کی مدت گزر چکی تھی تو ہم نے بارہ آدمی علیحدہ کر دیے۔ ان میں سے ہر ایک کے ساتھ کچھ آدمی تھے۔ یہ تو اللہ ہی جانتا ہے کہ ہر شخص کے ساتھ کتنے آدمی تھے۔ ان سب نے اس میں سے کھانا، یا جیسے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہما نے کہا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 602]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة