صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب آية الحجاب:
باب: پردہ کی آیت کے بارے میں۔
حدیث نمبر: 6239
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ أَبِي: حَدَّثَنَا أَبُو مِجْلَزٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ، دَخَلَ الْقَوْمُ فَطَعِمُوا، ثُمَّ جَلَسُوا يَتَحَدَّثُونَ، فَأَخَذَ كَأَنَّهُ يَتَهَيَّأُ لِلْقِيَامِ، فَلَمْ يَقُومُوا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَامَ، فَلَمَّا قَامَ قَامَ مَنْ قَامَ مِنَ الْقَوْمِ وَقَعَدَ بَقِيَّةُ الْقَوْمِ، وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ لِيَدْخُلَ، فَإِذَا الْقَوْمُ جُلُوسٌ، ثُمَّ إِنَّهُمْ قَامُوا فَانْطَلَقُوا، فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ حَتَّى دَخَلَ، فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ فَأَلْقَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ سورة الأحزاب آية 53 الْآيَةَ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: فِيهِ مِنَ الْفِقْهِ أَنَّهُ لَمْ يَسْتَأْذِنْهُمْ حِينَ قَامَ، وَخَرَجَ وَفِيهِ أَنَّهُ تَهَيَّأَ لِلْقِيَامِ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَقُومُوا.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ ان سے ابومجلز نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو لوگ اندر آئے اور کھانا کھایا پھر بیٹھ کے باتیں کرتے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح اظہار کیا گویا آپ کھڑے ہونا چاہتے ہیں۔ لیکن وہ کھڑے نہیں ہوئے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو کھڑے ہو گئے۔ آپ کے کھڑے ہونے پر قوم کے جن لوگوں کو کھڑا ہونا تھا وہ بھی کھڑے ہو گئے لیکن بعض لوگ اب بھی بیٹھے رہے اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل ہونے کے لیے تشریف لائے تو کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے (آپ واپس ہو گئے) اور پھر جب وہ لوگ بھی کھڑے ہوئے اور چلے گئے تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اندر داخل ہو گئے۔ میں نے بھی اندر جانا چاہا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال لیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي» ”اے ایمان والو! نبی کے گھر میں نہ داخل ہو۔“ آخر تک۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 6239]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا تو لوگ دعوتِ ولیمہ کے لیے آئے، کھانا کھایا، پھر بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح اظہار کیا گویا آپ اٹھنے لگے ہیں لیکن لوگ نہ اٹھے۔ جب آپ نے یہ صورت حال دیکھی تو آپ کھڑے ہو گئے۔ جب آپ اٹھے تو کچھ لوگ کھڑے ہو کر چلے گئے لیکن بعض لوگ پھر بھی بیٹھے رہے۔ بہرحال، نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہونے کے لیے تشریف لائے تو کیا دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں، پھر وہ بھی اٹھ کر چلے گئے۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس امر کی اطلاع دی تو آپ اندر داخل ہو گئے۔ میں نے بھی اندر جانا چاہا لیکن آپ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال لیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ﴾ [سورة الأحزاب: 53] ”اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو...““ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا: ”اس حدیث سے یہ مسئلہ ثابت ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب اٹھے اور باہر تشریف لے گئے تو ان سے اس کی اجازت نہ لی اور یہ بھی ثابت ہوا کہ آپ نے ان کے سامنے اٹھنے کی تیاری کی اور آپ یہ چاہتے تھے کہ لوگ اٹھ کر چلے جائیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 6239]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4791
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: حَدَّثَنَا أَبُو مِجْلَزٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَمَّا تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ دَعَا الْقَوْمَ، فَطَعِمُوا، ثُمَّ جَلَسُوا يَتَحَدَّثُونَ، وَإِذَا هُوَ كَأَنَّهُ يَتَهَيَّأُ لِلْقِيَامِ، فَلَمْ يَقُومُوا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَامَ، فَلَمَّا قَامَ قَامَ مَنْ قَامَ وَقَعَدَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَدْخُلَ، فَإِذَا الْقَوْمُ جُلُوسٌ، ثُمَّ إِنَّهُمْ قَامُوا، فَانْطَلَقْتُ، فَجِئْتُ فَأَخْبَرْتُ، النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدِ انْطَلَقُوا، فَجَاءَ حَتَّى دَخَلَ، فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ، فَأَلْقَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ سورة الأحزاب آية 53 الْآيَةَ".
ہم سے محمد بن عبداللہ رقاشی نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے بیان کیا ہم سے ابومجلز نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو قوم کو آپ نے دعوت ولیمہ دی، کھانا کھانے کے بعد لوگ (گھر کے اندر ہی) بیٹھے (دیر تک) باتیں کرتے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا گویا آپ اٹھنا چاہتے ہیں (تاکہ لوگ سمجھ جائیں اور اٹھ جائیں) لیکن کوئی بھی نہیں اٹھا، جب آپ نے دیکھا کہ کوئی نہیں اٹھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو دوسرے لوگ بھی کھڑے ہو گئے، لیکن تین آدمی اب بھی بیٹھے رہ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب باہر سے اندر جانے کے لیے آئے تو دیکھا کہ کچھ اب بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد وہ لوگ بھی اٹھ گئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر خبر دی کہ وہ لوگ بھی چلے گئے ہیں تو آپ اندر تشریف لائے۔ میں نے بھی چاہا کہ اندر جاؤں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور میرے بیچ میں دروازہ کا پردہ گرا لیا، اس کے بعد آیت (مذکورہ بالا) نازل ہوئی «يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي» کہ ”اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں مت جایا کرو۔“ آخر آیت تک۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 4791]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو لوگوں کو آپ نے دعوتِ ولیمہ دی، کھانے کے بعد لوگ بیٹھے باتیں کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا گویا آپ اٹھنا چاہتے ہیں لیکن لوگ پھر بھی نہ اٹھے۔ جب آپ نے دیکھا کہ کوئی نہیں اٹھتا تو آپ کھڑے ہو گئے۔ جب آپ اٹھے تو دوسرے لوگ بھی کھڑے ہو گئے لیکن تین آدمی پھر بھی بیٹھے رہے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب باہر سے اندر جانے کے لیے تشریف لائے تو دیکھا کہ لوگ اب بھی بیٹھے ہوئے ہیں، پھر وہ لوگ اٹھے اور اٹھ کر چلے گئے۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر بتایا کہ وہ لوگ بھی چلے گئے ہیں تو آپ اندر تشریف لے گئے۔ میں نے بھی اندر داخل ہونا چاہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ گرا لیا۔ اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی: ﴿اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں مت جایا کرو﴾ [سورة الأحزاب: 53] ۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 4791]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4792
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ:" أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِهَذِهِ الْآيَةِ آيَةِ الْحِجَابِ لَمَّا أُهْدِيَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ مَعَهُ فِي الْبَيْتِ صَنَعَ طَعَامًا، وَدَعَا الْقَوْمَ فَقَعَدُوا يَتَحَدَّثُونَ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ، ثُمَّ يَرْجِعُ، وَهُمْ قُعُودٌ يَتَحَدَّثُونَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ إِلَى قَوْلِهِ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ سورة الأحزاب آية 53، فَضُرِبَ الْحِجَابُ، وَقَامَ الْقَوْمُ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے ابوقلابہ نے کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس آیت یعنی آیت پردہ (کے شان نزول) کے متعلق میں سب سے زیادہ جانتا ہوں، جب زینب رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا اور وہ آپ کے ساتھ آپ کے گھر ہی میں تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا تیار کروایا اور قوم کو بلایا (کھانے سے فارغ ہونے کے بعد) لوگ بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر جاتے اور پھر اندر آتے (تاکہ لوگ اٹھ جائیں) لیکن لوگ بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي إلا أن يؤذن لكم إلى طعام غير ناظرين إناه» کہ ”اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں مت جایا کرو۔ سوائے اس وقت کے جب تمہیں (کھانے کے لیے) آنے کی اجازت دی جائے۔ ایسے طور پر کہ اس کی تیاری کے منتظر نہ رہو۔“ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «من وراء حجاب» تک اس کے بعد پردہ ڈال دیا گیا اور لوگ کھڑے ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 4792]
حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں اس آیت، یعنی آیتِ حجاب کے متعلق سب لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں۔ جب حضرت زینب بنتِ جحش رضی اللہ عنہا کو دلہن بنا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا گیا اور وہ آپ کے ساتھ آپ کے گھر ہی میں تھیں تو آپ نے کھانا تیار کروایا اور لوگوں کو دعوت (ولیمہ) دی۔ لوگ فراغت کے بعد بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ صورت حال دیکھ کر باہر جاتے، پھر اندر آتے لیکن لوگ بیٹھے باتیں کرتے رہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَىٰ طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ﴾ [سورة الأحزاب: 53] ”اے ایمان والو! تم نبی کے گھروں میں مت جایا کرو الا یہ کہ تمہیں کھانے کے لیے اجازت دی جائے، اس حال میں کہ اس کے پکنے کا انتظار کرنے والے نہ ہو...“ اس کے بعد پردہ ڈال دیا گیا اور لوگ اٹھ کر چلے گئے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 4792]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4794
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَنَى بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، فَأَشْبَعَ النَّاسَ خُبْزًا وَلَحْمًا، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى حُجَرِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ صَبِيحَةَ بِنَائِهِ، فَيُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ، وَيُسَلِّمْنَ عَلَيْهِ، وَيَدْعُو لَهُنَّ، وَيَدْعُونَ لَهُ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ رَأَى رَجُلَيْنِ جَرَى بِهِمَا الْحَدِيثُ، فَلَمَّا رَآهُمَا رَجَعَ عَنْ بَيْتِهِ، فَلَمَّا رَأَى الرَّجُلَانِ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَعَ عَنْ بَيْتِهِ، وَثَبَا مُسْرِعَيْنِ، فَمَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ بِخُرُوجِهِمَا أَمْ أُخْبِرَ، فَرَجَعَ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ وَأَرْخَى السِّتْرَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، وَأُنْزِلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ. وَقَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، سَمِعَ أَنَسًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن بکر سہمی نے خبر دی، کہا ہم سے حمید طویل نے بیان کیا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح پر دعوت ولیمہ کی اور گوشت اور روٹی لوگوں کو کھلائی۔ پھر امہات المؤمنین کے حجروں کی طرف گئے، جیسا کہ آپ کا معمول تھا کہ نکاح کی صبح کو آپ جایا کرتے تھے، آپ انہیں سلام کرتے اور ان کے حق میں دعا کرتے اور امہات المؤمنین بھی آپ کو سلام کرتیں اور آپ کے لیے دعا کرتیں۔ امہات المؤمنین کے حجروں سے جب آپ اپنے حجرہ میں واپس تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ دو آدمی آپس میں گفتگو کر رہے ہیں۔ جب آپ نے انہیں بیٹھے ہوئے دیکھا تو پھر آپ حجرہ سے نکل گئے۔ ان دونوں نے جب دیکھا کہ اللہ کے نبی اپنے حجرہ سے واپس چلے گئے ہیں تو بڑی جلدی جلدی وہ اٹھ کر باہر نکل گئے۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے چلے جانے کی اطلاع دی یا کسی اور نے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے اور گھر میں آتے ہی دروازہ کا پردہ گرا لیا اور آیت حجاب نازل ہوئی۔ اور سعید ابن ابی مریم نے بیان کیا کہ ہم کو یحی ٰبن کثیر نے خبر دی، کہا مجھ سے حمید طویل نے بیان کیا اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 4794]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ایک مزید روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح پر دعوتِ ولیمہ کی اور لوگوں کو روٹی اور گوشت کھلایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم امہات المومنین رضی اللہ عنہن کے حجروں کی طرف گئے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ نکاح کی صبح آپ صلی اللہ علیہ وسلم جایا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سلام کرتے اور انہیں دعائیں دیتے۔ امہات المومنین رضی اللہ عنہن بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دعائیں کرتیں۔ امہات المومنین رضی اللہ عنہن کے حجروں سے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے کی طرف تشریف لائے تو دیکھا کہ دو آدمی آپس میں بیٹھے گفتگو کر رہے ہیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیٹھے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجرے سے باہر نکل آئے۔ ان دونوں حضرات نے جب دیکھا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے سے واپس تشریف لے گئے ہیں تو وہ بڑی جلدی سے اٹھ کر باہر نکل گئے۔ مجھے یاد نہیں کہ ان کے چلے جانے کی اطلاع میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی یا کسی اور نے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے اور گھر میں آتے ہی دروازے کا پردہ نیچے گرا دیا اور آیتِ حجاب نازل ہوئی۔“ سعید بن مریم نے بیان کیا، انہیں یحییٰ نے خبر دی، ان سے حمید نے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 4794]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5154
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" أَوْلَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَيْنَبَ، فَأَوْسَعَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا فَخَرَجَ كَمَا يَصْنَعُ إِذَا تَزَوَّجَ، فَأَتَى حُجَرَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ يَدْعُو وَيَدْعُونَ لَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَرَأَى رَجُلَيْنِ، فَرَجَعَ، لَا أَدْرِي أَخْبَرْتُهُ أَوْ أُخْبِرَ بِخُرُوجِهِمَا".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے حمیدی نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح پر دعوت ولیمہ کی اور مسلمانوں کے لیے کھانے کا انتظام کیا۔ (کھانے سے فراغت کے بعد) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے، جیسا کہ نکاح کے بعد آپ کا دستور تھا۔ پھر آپ امہات المؤمنین کے حجروں میں تشریف لے گئے۔ آپ نے ان کے لیے دعا کی اور انہوں نے آپ کے لیے دعا کی۔ پھر آپ واپس تشریف لائے تو دو صحابہ کو دیکھا (کہ ابھی بیٹھے ہوئے تھے) اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر تشریف لے گئے۔ (انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ) مجھے پوری طرح یاد نہیں کہ میں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی یا کسی اور نے خبر دی کہ وہ دونوں صحابی بھی چلے گئے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 5154]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا ولیمہ کیا تو مسلمانوں کو خوب سیر ہو کر کھانا کھلایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکاح کے موقع پر کرتے تھے اور امہات المومنین کے گھروں میں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے دعا فرماتے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دعا کرتیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے تو وہاں دو آدمی دیکھے تو لوٹ گئے۔“ (حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) ”مجھے یاد نہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کسی اور نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانے کی خبر دی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 5154]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5166
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّهُ كَانَ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ مَقْدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، فَكَانَ أُمَّهَاتِي يُوَاظِبْنَنِي عَلَى خِدْمَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَدَمْتُهُ عَشْرَ سِنِينَ وَتُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عِشْرِينَ سَنَةً، فَكُنْتُ أَعْلَمَ النَّاسِ بِشَأْنِ الْحِجَابِ حِينَ أُنْزِلَ وَكَانَ أَوَّلَ مَا أُنْزِلَ فِي مُبْتَنَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، أَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا عَرُوسًا، فَدَعَا الْقَوْمَ فَأَصَابُوا مِنَ الطَّعَامِ، ثُمَّ خَرَجُوا وَبَقِيَ رَهْطٌ مِنْهُمْ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَطَالُوا الْمُكْثَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ وَخَرَجْتُ مَعَهُ لِكَيْ يَخْرُجُوا فَمَشَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَشَيْتُ حَتَّى جَاءَ عَتَبَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ، ثُمَّ ظَنَّ أَنَّهُمْ خَرَجُوا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا دَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ لَمْ يَقُومُوا، فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا بَلَغَ عَتَبَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ وَظَنَّ أَنَّهُمْ خَرَجُوا، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَإِذَا هُمْ قَدْ خَرَجُوا، فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ بِالسِّتْرِ وَأُنْزِلَ الْحِجَابُ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ ہجرت کر کے آئے تو ان کی عمر دس برس کی تھی۔ میری ماں اور بہنیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لیے مجھ کو تاکید کرتی رہتی تھیں۔ چنانچہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دس برس تک خدمت کی اور جب آپ کی وفات ہوئی تو میں بیس برس کا تھا۔ پردہ کے متعلق میں سب سے زیادہ جاننے والوں میں سے ہوں کہ کب نازل ہوا۔ سب سے پہلے یہ حکم اس وقت نازل ہوا تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زینب بنت جحش رضی اللہ عنہما سے نکاح کے بعد انہیں اپنے گھر لائے تھے، آپ ان کے دولہا بنے تھے۔ پھر آپ نے لوگوں کو (دعوت ولیمہ پر) بلایا۔ لوگوں نے کھانا کھایا اور چلے گئے۔ لیکن کچھ لوگ ان میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں (کھانے کے بعد بھی) دیر تک وہیں بیٹھے (باتیں کرتے رہے) آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور باہر تشریف لے گئے۔ میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باہر گیا تاکہ یہ لوگ بھی چلے جائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے اور میں بھی آپ کے ساتھ رہا۔ جب آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے پاس دروازے پر آئے تو آپ کو معلوم ہوا کہ وہ لوگ چلے گئے ہیں۔ اس لیے آپ واپس تشریف لائے اور میں بھی آپ کے ساتھ آیا۔ جب آپ زینب رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ وہ لوگ ابھی بیٹھے ہوئے ہیں اور ابھی تک نہیں گئے ہیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے پھر واپس تشریف لائے اور میں بھی آپ کے ساتھ واپس آ گیا جب آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے دروازے پر پہنچے اور آپ کو معلوم ہوا کہ وہ لوگ چلے گئے ہیں تو آپ پھر واپس تشریف لائے اور میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا۔ اب وہ لوگ واقعی جا چکے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد اپنے اور میرے بیچ میں پردہ ڈال دیا اور پردہ کی آیت نازل ہوئی۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 5166]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو میری عمر دس برس تھی، میری مائیں مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرنے کا ہمیشہ حکم دیتی تھیں۔ میں نے دس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اس وقت میری عمر بیس برس تھی۔ جب پردے کے احکام نازل ہوئے تو میں انہیں سب سے زیادہ جاننے والا ہوں کہ کب نازل ہوئے۔ سب سے پہلے پردے کا حکم اس وقت نازل ہوا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کو نکاح کے بعد اپنے گھر لائے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے دولہا بنے تھے۔ آپ نے لوگوں کی دعوت کی انہیں بلایا۔ لوگوں نے کھانا کھایا اور چلے گئے لیکن کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں دیر تک بیٹھے رہے۔ اس دوران میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور باہر تشریف لے گئے۔ میں بھی آپ کے ہمراہ باہر چلا گیا تاکہ یہ لوگ بھی چلے جائیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے اور میں بھی آپ کے ساتھ رہا حتیٰ کہ آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس آئے تو آپ کو خیال آیا کہ وہ لوگ چلے گئے ہوں گے، اس لیے آپ واپس آئے تو میں بھی آپ کے ساتھ واپس آ گیا۔ جب آپ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے تو دیکھا کہ وہ اپنی جگہ بیٹھے ہوئے ہیں اور وہاں سے نہیں اٹھے لہذا آپ وہاں سے پھر واپس تشریف لائے اور میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا۔ جب آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے دروازے پر پہنچے تو معلوم ہوا وہ لوگ جا چکے ہیں، چنانچہ آپ واپس آئے تو میں بھی آپ کے ساتھ واپس آ گیا۔ اب وہ لوگ (واقعی) جا چکے تھے۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا اور پردے کی آیات نازل ہوئیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 5166]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5466
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَنَسًا، قَالَ:" أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِالْحِجَابِ كَانَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَسْأَلُنِي عَنْهُ، أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَكَانَ تَزَوَّجَهَا بِالْمَدِينَةِ، فَدَعَا النَّاسَ لِلطَّعَامِ بَعْدَ ارْتِفَاعِ النَّهَارِ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَلَسَ مَعَهُ رِجَالٌ بَعْدَ مَا قَامَ الْقَوْمُ حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَشَى وَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى بَلَغَ بَابَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ ثُمَّ ظَنَّ أَنَّهُمْ خَرَجُوا، فَرَجَعْتُ مَعَهُ فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ مَكَانَهُمْ، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ بَابَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَإِذَا هُمْ قَدْ قَامُوا، فَضَرَبَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ سِتْرًا وَأُنْزِلَ الْحِجَابُ".
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں پردہ کے حکم کے بارے میں زیادہ جانتا ہوں۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بھی مجھ سے اس کے بارے میں پوچھا کرتے تھے۔ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی کا موقع تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح مدینہ منورہ میں کیا تھا۔ دن چڑھنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی کھانے کی دعوت کی تھی۔ آپ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے ساتھ بعض اور صحابہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اس وقت تک دوسرے لوگ (کھانے سے فارغ ہو کر) جا چکے تھے۔ آخر آپ بھی کھڑے ہو گئے اور چلتے رہے۔ میں بھی آپ کے ساتھ چلتا رہا۔ آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے پر پہنچے پھر آپ نے خیال کیا کہ وہ لوگ (بھی جو کھانے کے بعد گھر بیٹھے رہ گئے تھے) جا چکے ہوں گے (اس لیے آپ واپس تشریف لائے) میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا لیکن وہ لوگ اب بھی اسی جگہ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ پھر واپس آ گئے۔ میں بھی آپ کے ساتھ دوبارہ واپس آیا۔ آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ پر پہنچے پھر آپ وہاں سے واپس ہوئے۔ میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ اب وہ لوگ جا چکے تھے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور میرے درمیان پردہ لٹکایا اور پردہ کی آیت نازل ہوئی۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 5466]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نزولِ حجاب کے متعلق لوگوں سے زیادہ معلومات رکھتا ہوں۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بھی مجھ سے اس کے بارے میں پوچھا کرتے تھے۔ ہوا یوں کہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی کا موقع تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے مدینہ طیبہ میں نکاح کیا تھا۔ دن چڑھنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو کھانے کی دعوت دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں تشریف فرما تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دیگر صحابہ بھی بیٹھے تھے، اس وقت دوسرے لوگ کھانے سے فارغ ہو کر جا چکے تھے، حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھنے اور چلنے لگے تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے پر پہنچے تو خیال آیا کہ شاید لوگ چلے گئے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں سے واپس آئے۔ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ واپس آیا تو دیکھا کہ لوگ اب بھی وہاں بیٹھے ہوئے ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر واپس ہوئے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ دوبارہ واپس آ گیا۔ جب دوسری مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے تک پہنچے تو واپس آ گئے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوٹ آیا۔ اب وہ لوگ جا چکے تھے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکایا اور آیتِ حجاب نازل ہوئی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 5466]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6238
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: أَنَّهُ كَانَ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ مَقْدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، فَخَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرًا حَيَاتَهُ، وَكُنْتُ أَعْلَمَ النَّاسِ بِشَأْنِ الْحِجَابِ حِينَ أُنْزِلَ، وَقَدْ كَانَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَسْأَلُنِي عَنْهُ، وَكَانَ أَوَّلَ مَا نَزَلَ فِي مُبْتَنَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ أَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا عَرُوسًا، فَدَعَا الْقَوْمَ، فَأَصَابُوا مِنَ الطَّعَامِ، ثُمَّ خَرَجُوا وَبَقِيَ مِنْهُمْ رَهْطٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَطَالُوا الْمُكْثَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ وَخَرَجْتُ مَعَهُ كَيْ يَخْرُجُوا، فَمَشَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى جَاءَ عَتَبَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ، ثُمَّ ظَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ خَرَجُوا، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ، فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ لَمْ يَتَفَرَّقُوا، فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَجَعْتُ مَعَهُ حَتَّى بَلَغَ عَتَبَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ، فَظَنَّ أَنْ قَدْ خَرَجُوا، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ، فَإِذَا هُمْ قَدْ خَرَجُوا، فَأُنْزِلَ آيَةُ الْحِجَابِ، فَضَرَبَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ سِتْرًا".
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا مجھ کو یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے کہا کہ مجھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ (ہجرت کر کے) تشریف لائے تو ان کی عمر دس سال تھی۔ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے باقی دس سالوں میں آپ کی خدمت کی اور میں پردہ کے حکم کے متعلق سب سے زیادہ جانتا ہوں کہ کب نازل ہوا تھا۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مجھ سے اس کے بارے میں پوچھا کرتے تھے۔ پردہ کے حکم کا نزول سب سے پہلے اس رات ہوا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کے بعد ان کے ساتھ پہلی خلوت کی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے دولہا تھے اور آپ نے صحابہ کو دعوت ولیمہ پر بلایا تھا۔ کھانے سے فارغ ہو کر سب لوگ چلے گئے لیکن چند آدمی آپ کے پاس بیٹھے رہ گئے اور بہت دیر تک وہیں ٹھہرے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر باہر تشریف لے گئے اور میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا گیا تاکہ وہ لوگ بھی چلے جائیں۔ نبی کریم چلتے رہے اور میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا رہا اور سمجھا کہ وہ لوگ اب چلے گئے ہیں۔ اس لیے واپس تشریف لائے اور میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ واپس آیا لیکن آپ جب زینب رضی اللہ عنہا کے حجرے میں داخل ہوئے تو وہ لوگ ابھی بیٹھے ہوئے تھے اور ابھی تک واپس نہیں گئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ وہاں سے لوٹ گئے اور میں بھی آپ کے ساتھ لوٹ گیا۔ جب آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کی چوکھٹ تک پہنچے تو آپ نے سمجھا کہ وہ لوگ نکل چکے ہوں گے۔ پھر آپ لوٹ کر آئے اور میں بھی آپ کے ساتھ لوٹ آیا تو واقعی وہ لوگ جا چکے تھے۔ پھر پردہ کی آیت نازل ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 6238]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو ان کی عمر دس برس تھی۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں آپ کی دس سال تک خدمت کی۔ میں پردے کے حکم کے متعلق تمام لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں کہ کب نازل ہوا تھا۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مجھ سے اس کے متعلق پوچھا کرتے تھے۔ آیتِ حجاب کا نزول سب سے پہلے اس وقت ہوا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ساتھ خلوت کی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دولہا کی حیثیت سے صبح کی تھی اور آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دعوتِ ولیمہ پر بلایا تھا، چنانچہ انہوں نے کھانا کھایا اور واپس چلے گئے لیکن چند (لوگ وہیں بیٹھے رہے)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر باہر تشریف لے گئے اور میں بھی آپ کے ہمراہ باہر نکلا تاکہ وہ لوگ بھی چلے جائیں! آپ چلتے رہے اور میں بھی آپ کے ہمراہ تھا یہاں تک کہ آپ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کی چوکھٹ تک پہنچ گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیال فرمایا کہ وہ لوگ چلے گئے ہوں گے، اس لیے آپ واپس آگئے، میں بھی آپ کے ساتھ واپس آ گیا حتیٰ کہ آپ ام المومنین حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے مکان میں تشریف لے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے دوبارہ تشریف لے گئے اور میں بھی آپ کے ساتھ واپس آ گیا۔ جب آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کی چوکھٹ تک پہنچے تو آپ نے سمجھا کہ اب وہ لوگ جا چکے ہوں گے، اس لیے پھر لوٹ گئے اور میں بھی آپ کے ساتھ واپس آ گیا، دیکھا کہ واقعی وہ لوگ جا چکے ہیں، اس وقت آیتِ حجاب نازل ہوئی چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا لیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 6238]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6271
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ، دَعَا النَّاسَ طَعِمُوا ثُمَّ جَلَسُوا يَتَحَدَّثُونَ، قَالَ: فَأَخَذَ كَأَنَّهُ يَتَهَيَّأُ لِلْقِيَامِ، فَلَمْ يَقُومُوا فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَامَ، فَلَمَّا قَامَ قَامَ مَنْ قَامَ مَعَهُ مِنَ النَّاسِ، وَبَقِيَ ثَلَاثَةٌ، وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ لِيَدْخُلَ، فَإِذَا الْقَوْمُ جُلُوسٌ، ثُمَّ إِنَّهُمْ قَامُوا فَانْطَلَقُوا، قَالَ: فَجِئْتُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدِ انْطَلَقُوا، فَجَاءَ حَتَّى دَخَلَ، فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ فَأَرْخَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى قَوْلِهِ: إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا سورة الأحزاب آية 53.
ہم سے حسن بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے، کہا میں نے اپنے والد سے سنا، وہ ابومجلز (حق بن حمید) سے بیان کرتے تھے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا تو لوگوں کو (دعوت ولیمہ پر) بلایا۔ لوگوں نے کھانا کھایا پھر بیٹھ کر باتیں کرتے رہے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا گویا آپ اٹھنا چاہتے ہیں۔ لیکن لوگ (پھر بھی بیٹھے ہوئے تھے) پھر بھی کھڑے نہیں ہوئے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو آپ کھڑے ہو گئے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو آپ کے ساتھ اور بھی بہت سے صحابہ کھڑے ہو گئے لیکن تین آدمی اب بھی باقی رہ گئے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر جانے کے لیے تشریف لائے لیکن وہ لوگ اب بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اس کے بعد وہ لوگ بھی چلے گئے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں آیا اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی کہ وہ (تین آدمی) بھی جا چکے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اندر داخل ہو گئے۔ میں نے بھی اندر جانا چاہا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال لیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي إلا أن يؤذن لكم» اے ایمان والو! نبی کے گھر میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے۔“ ارشاد ہوا «إن ذلكم كان عند الله عظيما» تک۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 6271]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو لوگوں کو دعوتِ ولیمہ کے لیے بلایا۔ انہوں نے کھانا کھایا پھر بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اٹھانے کے لیے ایسا کیا گویا خود اٹھنا چاہتے ہیں لیکن لوگ پھر بھی کھڑے نہ ہوئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ حالت دیکھی تو خود کھڑے ہو گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور بھی بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم کھڑے ہو گئے لیکن تین آدمی اب بھی باقی رہ گئے۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے تاکہ گھر میں داخل ہوں لیکن وہ لوگ اب بھی بیٹھے ہوئے تھے، اس کے بعد وہ لوگ بھی چلے گئے۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”میں آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے جانے کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اندر داخل ہو گئے۔ میں نے بھی اندر جانا چاہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال لیا۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ... إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا﴾ [سورة الأحزاب: 53] ”اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں داخل نہ ہو مگر تم کو اجازت دی جائے۔۔۔۔۔ یہ اللہ کے ہاں بہت بڑی بات ہے۔““ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 6271]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة