🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب قول الله تعالى: {يا أيها الناس إن وعد الله حق فلا تغرنكم الحياة الدنيا ولا يغرنكم بالله الغرور إن الشيطان لكم عدو فاتخذوه عدوا إنما يدعو حزبه ليكونوا من أصحاب السعير} :
باب: اللہ پاک کا (سورۃ فاطر میں) فرمانا کہ اللہ کا وعدہ حق ہے پس تمہیں دنیا کی زندگی دھوکہ میں نہ ڈال دے (کہ آخرت کو بھول جاؤ) اور نہ کوئی دھوکہ دینے والی چیز تمہیں اللہ سے غافل کر دے۔ بلاشبہ شیطان تمہارا دشمن ہے پس تم اسے اپنا دشمن ہی سمجھو، وہ تو اپنے گروہ کو بلاتا ہے کہ وہ جہنمی ہو جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6433
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُعَاذُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ، أَخْبَرَهُ، قَالَ: أَتَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ بِطَهُورٍ وَهُوَ جَالِسٌ عَلَى الْمَقَاعِدِ، فَتَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَهُوَ فِي هَذَا الْمَجْلِسِ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ مِثْلَ هَذَا الْوُضُوءِ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ جَلَسَ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، قَالَ: وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَغْتَرُّوا".
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شیبان بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابراہیم قرشی نے بیان کیا کہ مجھے معاذ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی، انہیں حمران بن ابان نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے وضو کا پانی لے کر آیا وہ چبوترے پر بیٹھے ہوئے تھے، پھر انہوں نے اچھی طرح وضو کیا۔ اس کے بعد کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی جگہ وضو کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اچھی طرح وضو کیا، پھر فرمایا کہ جس نے اس طرح وضو کیا اور پھر مسجد میں آ کر دو رکعت نماز پڑھی تو اس کے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر یہ بھی فرمایا کہ اس پر مغرور نہ ہو جاؤ۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6433]
حمران بن ابان سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس وضو کا پانی لے کر حاضر ہوا جبکہ وہ چبوترے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے اچھی طرح وضو کرنے کے بعد فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی جگہ وضو کرتے دیکھا ہے، آپ نے اچھی طرح وضو کیا، پھر فرمایا: جس نے اس طرح وضو کیا، پھر مسجد میں آیا اور دو رکعتیں ادا کیں، پھر وہیں بیٹھا رہا تو اس کے سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ بھی) فرمایا: اس پر مغرور نہ ہو جاؤ۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6433]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 160
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَلَكِنْ عُرْوَةُ يُحَدِّثُ، عَنْ حُمْرَانَ، فَلَمَّا تَوَضَّأَ عُثْمَانُ، قَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا لَوْلَا آيَةٌ مَا حَدَّثْتُكُمُوهُ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا يَتَوَضَّأُ رَجُلٌ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ وَيُصَلِّي الصَّلَاةَ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلَاةِ حَتَّى يُصَلِّيَهَا. قَالَ عُرْوَةُ الْآيَةَ: إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ سورة البقرة آية 159.
اور روایت کی عبدالعزیز نے ابراہیم سے، انہوں نے صالح بن کیسان سے، انہوں نے ابن شہاب سے، لیکن عروہ حمران سے روایت کرتے ہیں کہ جب عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کیا تو فرمایا میں تم کو ایک حدیث سناتا ہوں، اگر قرآن پاک کی ایک آیت (نازل) نہ ہوتی تو میں یہ حدیث تم کو نہ سناتا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جب بھی کوئی شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے اور (خلوص کے ساتھ) نماز پڑھتا ہے تو اس کے ایک نماز سے دوسری نماز کے پڑھنے تک کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ عروہ کہتے ہیں وہ آیت یہ ہے «إن الذين يكتمون ما أنزلنا من البينات‏» (جس کا ترجمہ یہ ہے کہ) جو لوگ اللہ کی اس نازل کی ہوئی ہدایت کو چھپاتے ہیں جو اس نے لوگوں کے لیے اپنی کتاب میں بیان کی ہے۔ ان پر اللہ کی لعنت ہے اور (دوسرے) لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 160]
جناب حمران ہی سے روایت ہے کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کر لیا تو فرمایا: میں تمہیں ایک حدیث نہ سناؤں؟ اگر قرآن میں ایک آیت نہ ہوتی تو میں تمہیں وہ حدیث نہ سناتا۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص اچھی طرح وضو کرے اور نماز پڑھے، تو جتنے گناہ اس نماز سے دوسری نماز تک ہوں گے، وہ بخش دیے جائیں گے۔ حضرت عروہ رحمہ اللہ نے کہا: وہ آیت یہ ہے: ﴿بے شک وہ لوگ جو ہماری نازل کردہ کھلی آیات اور ہدایت کو چھپاتے ہیں، اس کے بعد کہ ہم کتاب میں ان لوگوں کے لیے صاف بیان کر چکے ہیں، ان پر اللہ بھی لعنت بھیجتا ہے اور لعنت کرنے والے بھی ان پر لعنت کرتے ہیں﴾ [سورة البقرة: 159] ۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 160]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 164
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، أَنَّهُ رَأَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّان دَعَا بِوَضُوءٍ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ مِنْ إِنَائِهِ فَغَسَلَهُمَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الْوَضُوءِ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثًا، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ كُلَّ رِجْلٍ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا، وَقَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ، غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے زہری کے واسطے سے خبر دی، کہا ہم کو عطاء بن یزید نے حمران مولیٰ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے واسطے سے خبر دی، انہوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کا پانی منگوایا اور اپنے دونوں ہاتھوں پر برتن سے پانی (لے کر) ڈالا۔ پھر دونوں ہاتھوں کو تین دفعہ دھویا۔ پھر اپنا داہنا ہاتھ وضو کر کے پانی میں ڈالا۔ پھر کلی کی، پھر ناک میں پانی دیا، پھر ناک صاف کی۔ پھر تین دفعہ اپنا منہ دھویا اور کہنیوں تک تین دفعہ ہاتھ دھوئے، پھر اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر ہر ایک پاؤں تین دفعہ دھویا۔ پھر فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ میرے اس وضو جیسا وضو فرمایا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص میرے اس وضو جیسا وضو کرے اور (حضور قلب سے) دو رکعت پڑھے جس میں اپنے دل سے باتیں نہ کرے۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 164]
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حمران رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کے لیے پانی منگوایا، پھر اسے اپنے دونوں ہاتھوں پر ڈالا اور انہیں تین مرتبہ دھویا، اس کے بعد اپنا دایاں ہاتھ برتن میں ڈالا، کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، پھر اسے صاف کیا۔ بعد ازیں اپنا چہرہ تین مرتبہ دھویا، اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک تین بار دھوئے، پھر سر کا مسح کیا، پھر ہر پاؤں کو تین دفعہ دھویا۔ اس کے بعد انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اس وضو کی طرح وضو کرتے دیکھا ہے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: جس شخص نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اور دو رکعت بایں طور پڑھیں کہ اپنے دل سے باتیں نہ کیں تو اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ گناہ معاف کر دے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 164]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں