صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
49. باب من نوقش الحساب عذب:
باب: جس کے حساب میں کھود کرید کی گئی اس کو عذاب کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 6538
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" يُجَاءُ بِالْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ لَهُ: أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ مِلْءُ الْأَرْضِ ذَهَبًا أَكُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ، فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيُقَالُ لَهُ: قَدْ كُنْتَ سُئِلْتَ مَا هُوَ أَيْسَرُ مِنْ ذَلِكَ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوسری سند) اور مجھ سے محمد بن معمر نے بیان کیا، کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، کہا ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ قیامت کے دن کافر کو لایا جائے گا اور اس سے پوچھا جائے گا کہ تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر زمین بھر کر تمہارے پاس سونا ہو تو کیا سب کو (اپنی نجات کے لیے) فدیہ میں دے دو گے؟ وہ کہے گا کہ ہاں، تو اس وقت اس سے کہا جائے گا کہ تم سے اس سے بہت آسان چیز کا (دنیا میں) مطالبہ کیا گیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6538]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”قیامت کے دن کافر کو لایا جائے گا اور اس سے پوچھا جائے گا: بھلا بتا تو سہی اگر تیرے پاس زمین بھر کر سونا ہو تو کیا (وہ سارے کا سارا) تو بطور فدیہ دے دے گا؟ وہ کہے گا: ہاں۔ (اس وقت) اسے کہا جائے گا: یقیناً تجھ سے (دنیا میں) اس سے بہت آسان چیز کا مطالبہ کیا گیا تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6538]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3334
حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ أَنَسٍ يَرْفَعُهُ، إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ:" لِأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا لَوْ أَنَّ لَكَ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ كُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَقَدْ سَأَلْتُكَ مَا هُوَ أَهْوَنُ مِنْ هَذَا وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ أَنْ لَا تُشْرِكَ بِي فَأَبَيْتَ إِلَّا الشِّرْكَ".
ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوعمران جونی نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) اس شخص سے پوچھے گا جسے دوزخ کا سب سے ہلکا عذاب کیا گیا ہو گا۔ اگر دنیا میں تمہاری کوئی چیز ہوتی تو کیا تو اس عذاب سے نجات پانے کے لیے اسے بدلے میں دے سکتا تھا؟ وہ شخص کہے گا کہ جی ہاں اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جب تو آدم کی پیٹھ میں تھا تو میں نے تجھ سے اس سے بھی معمولی چیز کا مطالبہ کیا تھا (روز ازل میں) کہ میرا کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرانا، لیکن (جب تو دنیا میں آیا تو) اسی شرک کا عمل اختیار کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 3334]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اسے مرفوع بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس شخص سے پوچھے گا جسے دوزخ میں سب سے ہلکا عذاب دیا جا رہا ہوگا: اگر تیرے لیے روئے زمین کی سب چیزیں ہوں تو کیا وہ سب چیزیں اس عذاب سے چھٹکارے کے لیے قربان کر دے گا؟ وہ کہے گا: جی ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جب تو آدم کی پشت میں تھا تو میں نے اس سے بھی آسان چیز کا مطالبہ کیا تھا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، لیکن تو نے شرک کے سوا ہر چیز کا انکار کر دیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 3334]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة