صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. باب لا يرث المسلم الكافر ولا الكافر المسلم، وإذا أسلم قبل أن يقسم الميراث فلا ميراث له:
باب: مسلمان کافر کا وارث نہیں ہو سکتا اور نہ کافر مسلمان کا اور اگر میراث کی تقسیم سے پہلے اسلام لایا تب بھی میراث میں اس کا حق نہیں ہو گا۔
حدیث نمبر: 6764
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ، وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ".
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے علی بن حسین نے بیان کیا، ان سے عمر بن عثمان نے بیان کیا اور ان سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مسلمان باپ کافر بیٹے کا وارث نہیں ہوتا اور نہ کافر بیٹا مسلمان باپ کا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6764]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا اور نہ کافر کسی مسلمان کا وارث ہوتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6764]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1588
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ، قال: أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ تَنْزِلُ فِي دَارِكَ بِمَكَّةَ؟ , فَقَالَ: وَهَلْ تَرَكَ عَقِيلٌ مِنْ رِبَاعٍ أَوْ دُورٍ، وَكَانَ عَقِيلٌ وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ هُوَ وَطَالِبٌ، وَلَمْ يَرِثْهُ جَعْفَرٌ وَلَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا شَيْئًا لِأَنَّهُمَا كَانَا مُسْلِمَيْنِ، وَكَانَ عَقِيلٌ وَطَالِبٌ كَافِرَيْنِ، فَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: لَا يَرِثُ الْمُؤْمِنُ الْكَافِرَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَكَانُوا يَتَأَوَّلُونَ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى: إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ آوَوْا وَنَصَرُوا أُولَئِكَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ سورة الأنفال آية 72".
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے عبداللہ بن وہب نے خبر دی، انہیں یونس نے، انہیں ابن شہاب نے، انہیں علی بن حسین نے، انہیں عمرو بن عثمان نے اور انہیں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے کہ انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! آپ مکہ میں کیا اپنے گھر میں قیام فرمائیں گے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عقیل نے ہمارے لیے محلہ یا مکان چھوڑا ہی کب ہے۔ (سب بیچ کھوچ کر برابر کر دئیے) عقیل اور طالب، ابوطالب کے وارث ہوئے تھے۔ جعفر اور علی رضی اللہ عنہما کو وراثت میں کچھ نہیں ملا تھا، کیونکہ یہ دونوں مسلمان ہو گئے تھے اور عقیل رضی اللہ عنہ (ابتداء میں) اور طالب اسلام نہیں لائے تھے۔ اسی بنیاد پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا۔ ابن شہاب نے کہا کہ لوگ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے دلیل لیتے ہیں کہ ”جو لوگ ایمان لائے، ہجرت کی اور اپنے مال اور جان کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور وہ لوگ جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی، وہی ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 1588]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے (حجۃ الوداع کو جاتے وقت) عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اپنے مکہ والے گھر میں کہاں نزول فرمائیں گے؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عقیل نے ہمارے لیے کوئی جائیداد یا مکان کہاں چھوڑا ہے؟“ عقیل اور طالب تو ابو طالب کے وارث ٹھہرے، حضرت جعفر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما ان کی کسی چیز کے وارث نہ ہوئے کیونکہ یہ دونوں مسلمان ہو گئے تھے جبکہ عقیل اور طالب (اس وقت) کافر تھے۔ اسی بنیاد پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ کوئی مسلمان کسی کافر کا وارث نہیں ہوتا۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ اس معاملے کے لیے لوگ ارشاد باری تعالیٰ ﴿إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ آوَوا وَّنَصَرُوا أُولَٰئِكَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ﴾ [سورة الأنفال: 72] کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں: ”جو لوگ ایمان لائے، ہجرت کی اور اپنے مال و جان کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور وہ لوگ جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی وہی ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 1588]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4283
ثُمَّ قَالَ:" لَا يَرِثُ الْمُؤْمِنُ الْكَافِرَ، وَلَا يَرِثُ الْكَافِرُ الْمُؤْمِنَ"، قِيلَ لِلزُّهْرِيِّ: وَمَنْ وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ؟ قَالَ: وَرِثَهُ عَقِيلٌ، وَطَالِبٌ، قَالَ مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ: أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا فِي حَجَّتِهِ؟ وَلَمْ يَقُلْ يُونُسُ حَجَّتِهِ، وَلَا زَمَنَ الْفَتْحِ.
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن ‘ کافر کا وارث نہیں ہو سکتا اور نہ کافر مومن کا وارث ہو سکتا ہے۔ زہری سے پوچھا گیا کہ پھر ابوطالب کی وراثت کسے ملی تھی؟ انہوں نے بتایا کہ ان کے وارث عقیل اور طالب ہوئے تھے۔ معمر نے زہری سے (اسامہ رضی اللہ عنہ کا سوال یوں نقل کیا ہے کہ) آپ اپنے حج کے دوران کہاں قیام فرمائیں گے؟ اور یونس نے (اپنی روایت میں) نہ حج کا ذکر کیا ہے اور نہ فتح مکہ کا۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 4283]
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن، کافر کا وارث نہیں بنتا اور نہ کافر مومن کا وارث بنتا ہے۔“ زہری رحمہ اللہ سے کہا گیا: ابوطالب کا وارث کون ہوا تھا؟ تو انہوں نے کہا: عقیل رضی اللہ عنہ اور طالب وارث ہوئے تھے۔ معمر رحمہ اللہ نے زہری رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہوئے کہا: ”ہم کل کہاں اقامت کریں گے؟“ یہ حجۃ الوداع کے وقت کہا تھا۔ البتہ یونس رحمہ اللہ نے اپنی روایت میں حجۃ الوداع کا ذکر نہیں کیا اور نہ فتح مکہ ہی کا زمانہ کہا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 4283]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة