صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب العين الجارية فى المنام:
باب: خواب میں پانی کا بہتا چشمہ دیکھنا۔
حدیث نمبر: 7018
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ الْعَلَاءِ، وَهِيَ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِمْ بَايَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" طَارَ لَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ فِي السُّكْنَى حِينَ اقْتَرَعَتِ الْأَنْصَارُ عَلَى سُكْنَى الْمُهَاجِرِينَ، فَاشْتَكَى، فَمَرَّضْنَاهُ حَتَّى تُوُفِّيَ، ثُمَّ جَعَلْنَاهُ فِي أَثْوَابِهِ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ أَبَا السَّائِبِ فَشَهَادَتِي عَلَيْكَ لَقَدْ أَكْرَمَكَ اللَّهُ، قَالَ وَمَا يُدْرِيكِ؟، قُلْتُ: لَا أَدْرِي وَاللَّهِ، قَالَ: أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ إِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ مِنَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا أَدْرِي وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ، قَالَتْ أُمُّ الْعَلَاءِ: فَوَاللَّهِ لَا أُزَكِّي أَحَدًا بَعْدَهُ، قَالَتْ: وَرَأَيْتُ لِعُثْمَانَ فِي النَّوْمِ عَيْنًا تَجْرِي، فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: ذَاكِ عَمَلُهُ يَجْرِي لَهُ".
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں خارجہ بن زید بن ثابت نے اور ان سے ام علاء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا جو انہیں کی ایک خاتون ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔ انہوں نے بیان کیا کہ جب انصار نے مہاجرین کے قیام کے لیے قرعہ اندازی کی تو عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا نام ہمارے یہاں ٹھہرنے کے لیے نکلا۔ پھر وہ بیمار پڑ گئے، ہم نے ان کی تیمارداری کی لیکن ان کی وفات ہو گئی۔ پھر ہم نے انہیں ان کے کپڑوں میں لپیٹ دیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے تو میں نے کہا: ابوالسائب! تم پر اللہ کی رحمتیں ہوں، میری گواہی ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے عزت بخشی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم مجھے معلوم نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد فرمایا کہ جہاں تک ان کا تعلق ہے تو یقینی بات (موت) ان تک پہنچ چکی ہے اور میں اللہ سے ان کے لیے خیر کی امید رکھتا ہوں لیکن اللہ کی قسم میں رسول اللہ ہوں اور اس کے باوجود مجھے معلوم نہیں کہ میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔ ام العلاء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ واللہ! اس کے بعد میں کسی انسان کی پاکی نہیں بیان کروں گی۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے خواب میں ایک جاری چشمہ دیکھا تھا۔ چنانچہ میں نے حاضر ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ان کا نیک عمل ہے جس کا ثواب ان کے لیے جاری ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب التعبير/حدیث: 7018]
حضرت ام العلاء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، جو انصاری خواتین میں سے تھیں اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی، وہ فرماتی ہیں: ”جب انصار نے مہاجرین کے قیام کے لیے قرعہ اندازی کی تو حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا قرعہ ہمارے نام نکلا۔ وہ ہمارے ہاں آکر بیمار ہو گئے۔ ہم نے ان کی تیمارداری کی لیکن وہ اسی بیماری میں وفات پا گئے۔ ہم نے انہیں ان کے کپڑوں میں کفن دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے تو میں نے کہا: اے ابو سائب! تم پر اللہ کی رحمتیں ہوں، میری گواہی ہے کہ تمہیں اللہ نے عزت بخشی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! مجھے معلوم نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ اسے موت آ چکی ہے اور میں اس کے لیے خیر و برکت کی امید رکھتا ہوں، لیکن اللہ کی قسم! میں اللہ کا رسول ہونے کے باوجود نہیں جانتا کہ خود میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا سلوک ہوگا؟“ حضرت ام العلاء رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اللہ کی قسم! اس کے بعد میں کسی کا تزکیہ (پاکبازی کی گواہی) نہیں کروں گی۔“ انہوں نے مزید کہا: میں نے خواب میں حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے لیے ایک جاری چشمہ دیکھا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ان کا نیک عمل ہے جس کا ثواب ان کے لیے جاری رہے گا۔““ [صحيح البخاري/كتاب التعبير/حدیث: 7018]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1234
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَغَهُ أَنَّ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ كَانَ بَيْنَهُمْ شَيْءٌ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْلِحُ بَيْنَهُمْ فِي أُنَاسٍ مَعَهُ، فَحُبِسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَانَتِ الصَّلَاةُ، فَجَاءَ بِلَالٌ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ حُبِسَ وَقَدْ حَانَتِ الصَّلَاةُ، فَهَلْ لَكَ أَنْ تَؤُمَّ النَّاسَ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنْ شِئْتَ، فَأَقَامَ بِلَالٌ وَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَكَبَّرَ لِلنَّاسِ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي فِي الصُّفُوفِ حَتَّى قَامَ فِي الصَّفِّ فَأَخَذَ النَّاسُ فِي التَّصْفِيقِ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ، فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ الْتَفَتَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُهُ أَنْ يُصَلِّيَ فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ، وَرَجَعَ الْقَهْقَرَى وَرَاءَهُ حَتَّى قَامَ فِي الصَّفِّ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى لِلنَّاسِ، فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ , فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَا لَكُمْ حِينَ نَابَكُمْ شَيْءٌ فِي الصَّلَاةِ أَخَذْتُمْ فِي التَّصْفِيقِ إِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ، مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَقُلْ سُبْحَانَ اللَّهِ فَإِنَّهُ لَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ حِينَ يَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ، إِلَّا الْتَفَتَ يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ لِلنَّاسِ حِينَ أَشَرْتُ إِلَيْكَ؟ , فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا كَانَ يَنْبَغِي لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے، ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچی کہ بنی عمرو بن عوف کے لوگوں میں باہم کوئی جھگڑا پیدا ہو گیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ ملاپ کرانے کے لیے وہاں تشریف لے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی مشغول ہی تھے کہ نماز کا وقت ہو گیا۔ اس لیے بلال رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تک تشریف نہیں لائے۔ ادھر نماز کا وقت ہو گیا ہے۔ کیا آپ لوگوں کی امامت کریں گے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں اگر تم چاہو۔ چنانچہ بلال رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر تکبیر (تحریمہ) کہی۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی صفوں سے گزرتے ہوئے پہلی صف میں آ کر کھڑے ہو گئے۔ لوگوں نے (ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آگاہ کرنے کے لیے) ہاتھ پر ہاتھ بجانے شروع کر دیئے لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں کسی طرف دھیان نہیں دیا کرتے تھے۔ جب لوگوں نے بہت تالیاں بجائیں تو آپ متوجہ ہوئے اور کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ سے انہیں نماز پڑھاتے رہنے کے لیے کہا، اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور الٹے پاؤں پیچھے کی طرف آ کر صف میں کھڑے ہو گئے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی۔ نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ لوگو! نماز میں ایک امر پیش آیا تو تم لوگ ہاتھ پر ہاتھ کیوں مارنے لگے تھے، یہ دستک دینا تو صرف عورتوں کے لیے ہے۔ جس کو نماز میں کوئی حادثہ پیش آئے تو «سبحان الله» کہے کیونکہ جب بھی کوئی «سبحان الله» سنے گا وہ ادھر خیال کرے گا اور اے ابوبکر! میرے اشارے کے باوجود تم لوگوں کو نماز کیوں نہیں پڑھاتے رہے؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ بھلا ابوقحافہ کے بیٹے کی کیا مجال تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے نماز پڑھائے۔ [صحيح البخاري/كتاب التعبير/حدیث: 1234]
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع ملی کہ قبیلہ بنو عمرو بن عوف میں کوئی جھگڑا ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر ان میں صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں دیر ہو گئی اور ادھر نماز کا وقت ہو گیا۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا: ”اے ابوبکر! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں دیر ہو گئی ہے، جبکہ نماز کا وقت قریب آ گیا ہے، کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے؟“ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر تم چاہتے ہو تو میں تیار ہوں۔“ چنانچہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور لوگوں کو نماز پڑھانے کے لیے تکبیرِ تحریمہ کہی۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور صفوں سے گزرتے ہوئے پہلی صف میں آ کر کھڑے ہو گئے۔ لوگوں نے تالیاں بجانا شروع کر دیں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں بالکل کسی طرف بھی متوجہ نہیں ہوا کرتے تھے۔ جب لوگوں نے بکثرت تالیاں بجانا شروع کر دیں تو متوجہ ہوئے، کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا چکے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا جس کے ذریعے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں نماز پڑھانے کا حکم دے رہے تھے مگر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور الٹے پاؤں واپس ہوئے تا آنکہ صف میں کھڑے ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! تمہیں کیا ہو گیا، جب نماز میں کوئی بات پیش آئی تو تم نے تالیاں بجانا شروع کر دیں؟ تالی بجانا تو عورتوں کا کام ہے، جسے نماز میں کوئی بات پیش آئے تو وہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“ کہے، اس لیے کہ جو شخص بھی «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“ سنے گا تو ضرور متوجہ ہو گا۔ اے ابوبکر! جب میں نے تمہیں (نماز پڑھاتے رہنے کا) اشارہ کر دیا تھا تو پھر کس چیز نے تمہیں لوگوں کو نماز پڑھانے سے باز رکھا؟“ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ گویا ہوئے کہ ابو قحافہ کے بیٹے کو زیب نہیں دیتا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑا ہو کر نماز پڑھائے۔ [صحيح البخاري/كتاب التعبير/حدیث: 1234]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1243
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ أُمَّ الْعَلَاءِ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ بَايَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ" اقْتُسِمَ الْمُهَاجِرُونَ قُرْعَةً فَطَارَ لَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ فَأَنْزَلْنَاهُ فِي أَبْيَاتِنَا، فَوَجِعَ وَجَعَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَلَمَّا تُوُفِّيَ وَغُسِّلَ وَكُفِّنَ فِي أَثْوَابِهِ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ أَبَا السَّائِبِ فَشَهَادَتِي عَلَيْكَ لَقَدْ أَكْرَمَكَ اللَّهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَمَا يُدْرِيكِ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَكْرَمَهُ؟ , فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَنْ يُكْرِمُهُ اللَّهُ؟ , فَقَالَ: أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ مَا يُفْعَلُ بِي، قَالَتْ: فَوَاللَّهِ لَا أُزَكِّي أَحَدًا بَعْدَهُ أَبَدًا".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے کہا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہوں نے فرمایا کہ مجھے خارجہ بن زید بن ثابت نے خبر دی کہ ام العلاء رضی اللہ عنہا انصار کی ایک عورت نے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی، نے انہیں خبر دی کہ مہاجرین قرعہ ڈال کر انصار میں بانٹ دیئے گئے تو عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ہمارے حصہ میں آئے۔ چنانچہ ہم نے انہیں اپنے گھر میں رکھا۔ آخر وہ بیمار ہوئے اور اسی میں وفات پا گئے۔ وفات کے بعد غسل دیا گیا اور کفن میں لپیٹ دیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ میں نے کہا ابوسائب آپ پر اللہ کی رحمتیں ہوں میری آپ کے متعلق شہادت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی عزت فرمائی ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی عزت فرمائی ہے؟ میں نے کہا یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں پھر کس کی اللہ تعالیٰ عزت افزائی کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس میں شبہ نہیں کہ ان کی موت آ چکی، قسم اللہ کی کہ میں بھی ان کے لیے خیر ہی کی امید رکھتا ہوں لیکن واللہ! مجھے خود اپنے متعلق بھی معلوم نہیں کہ میرے ساتھ کیا معاملہ ہو گا۔ حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ ام العلاء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اللہ کی قسم! اب میں کبھی کسی کے متعلق (اس طرح کی) گواہی نہیں دوں گی۔ [صحيح البخاري/كتاب التعبير/حدیث: 1243]
ایک انصاری خاتون ام علاء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے (جو ان عورتوں میں شامل ہیں) جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی، انہوں نے فرمایا: جب مہاجرین بذریعہ قرعہ اندازی تقسیم ہوئے تو ہمارے حصے میں عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ آئے جنہیں ہم اپنے گھر لے آئے اور وہ اچانک مرضِ وفات میں مبتلا ہو گئے۔ جب وہ فوت ہوئے تو انہیں غسل دیا گیا اور انہی کے کپڑوں میں کفنایا گیا۔ دریں اثنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے کہا: اے ابو سائب! تم پر اللہ کی رحمت ہو۔ تمہارے لیے میری شہادت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں سرفراز کر دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیا معلوم کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں عزت دی ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں! تو پھر اللہ تعالیٰ کسے سرفراز کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ انہیں اچھی حالت میں موت آئی ہے، «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ میں بھی ان کے لیے بھلائی کی امید رکھتا ہوں، «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ میں اللہ کا رسول ہو کر بھی اپنے متعلق نہیں جانتا کہ میرے بارے میں کیا معاملہ کیا جائے گا؟“ ام علاء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اللہ کی قسم! اس کے بعد میں نے کسی کے پاکباز ہونے کی شہادت نہیں دی۔ سعید بن عفیر نے بھی لیث سے اسی طرح بیان کیا ہے۔ نافع بن یزید نے عقیل راوی سے یہ الفاظ بیان کیے ہیں: ”میں نہیں جانتا کہ عثمان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔“ شعیب، عمرو بن دینار اور معمر نے عقیل کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب التعبير/حدیث: 1243]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2687
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ،" أَنَّ أُمَّ الْعَلَاءِ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِمْ قَدْ بَايَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ طَارَ لَهُ سَهْمُهُ فِي السُّكْنَى حِينَ أَقْرَعَتِ الْأَنْصَارُ سُكْنَى الْمُهَاجِرِينَ، قَالَتْ أُمُّ الْعَلَاءِ: فَسَكَنَ عِنْدَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ، فَاشْتَكَى، فَمَرَّضْنَاهُ حَتَّى إِذَا تُوُفِّيَ وَجَعَلْنَاهُ فِي ثِيَابِهِ، دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ أَبَا السَّائِبِ، فَشَهَادَتِي عَلَيْكَ لَقَدْ أَكْرَمَكَ اللَّهُ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَمَا يُدْرِيكِ أَنَّ اللَّهَ أَكْرَمَهُ؟ فَقُلْتُ: لَا أَدْرِي، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَّا عُثْمَانُ فَقَدْ جَاءَهُ وَاللَّهِ الْيَقِينُ، وَإِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ، وَاللَّهِ مَا أَدْرِي، وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ مَا يُفْعَلُ بِهِ، قَالَتْ: فَوَاللَّهِ لَا أُزَكِّي أَحَدًا بَعْدَهُ أَبَدًا، وَأَحْزَنَنِي ذَلِكَ، قَالَتْ: فَنِمْتُ فَأُرِيتُ لِعُثْمَانَ عَيْنًا تَجْرِي، فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: ذَاكِ عَمَلُهُ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی زہری سے، ان سے خارجہ بن زید انصاری نے بیان کیا کہ ان کی رشتہ دار ایک عورت ام علاء نامی نے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت بھی کی تھی، انہیں خبر دی کہ انصار نے مہاجرین کو اپنے یہاں ٹھہرانے کے لیے قرعے ڈالے تو عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا قیام ہمارے حصے میں آیا۔ ام علاء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ہمارے گھر ٹھہرے اور کچھ مدت بعد وہ بیمار پڑ گئے۔ ہم نے ان کی تیمارداری کی مگر کچھ دن بعد ان کی وفات ہو گئی۔ جب ہم انہیں کفن دے چکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ میں نے کہا، ابوالسائب! (عثمان رضی اللہ عنہ کی کنیت) تم پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، میری گواہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے یہاں تمہاری ضرور عزت اور بڑائی کی ہو گی۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بات تمہیں کیسے معلوم ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی عزت اور بڑائی کی ہو گی۔ میں نے عرض کیا، میرے ماں اور باپ آپ پر فدا ہوں، مجھے یہ بات کسی ذریعہ سے معلوم نہیں ہوئی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عثمان کا جہاں تک معاملہ ہے، تو اللہ گواہ ہے کہ ان کی وفات ہو چکی اور میں ان کے بارے میں اللہ سے خیر ہی کی امید رکھتا ہوں، لیکن اللہ کی قسم! اللہ کے رسول ہونے کے باوجود مجھے بھی یہ علم نہیں کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ ہو گا۔ ام علاء رضی اللہ عنہا کہنے لگیں، اللہ کی قسم! اب اس کے بعد میں کسی شخص کی پاکی کبھی بیان نہیں کروں گی۔ اس سے مجھے رنج بھی ہوا (کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میں نے ایک ایسی بات کہی جس کا مجھے حقیقی علم نہیں تھا) انہوں نے کہا (ایک دن) میں سو رہی تھی، میں نے خواب میں عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے ایک بہتا ہوا چشمہ دیکھا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خواب بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ان کا عمل (نیک) تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب التعبير/حدیث: 2687]
حضرت ام علاء انصاریہ رضی اللہ عنہا ان عورتوں میں سے ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی، انہوں نے خبر دی کہ جب مہاجرین کی رہائش کے لیے انصار نے قرعہ اندازی کی تو حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا قرعہ ہمارے نام نکلا، اس بنا پر وہ ہمارے پاس رہنے لگے۔ ایک دفعہ وہ بیمار ہو گئے تو ہم نے ان کی خوب دیکھ بھال کی تاآنکہ وہ وفات پا گئے، چنانچہ ہم نے انہیں کفن دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو میں نے کہا: اے ابو السائب! تم پر اللہ کی رحمت ہو۔ میں تمہارے لیے گواہی دیتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ضرور اعزاز بخشے گا اور تمہارا اکرام کرے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تمہیں کیا علم کہ اللہ تعالیٰ اسے عزت و اکرام دے گا؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، واقعی مجھے علم نہیں ہے۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو موت آچکی ہے اور میں ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے خیر کی امید کرتا ہوں۔ اللہ کی قسم! میں اللہ کا رسول ہوں، اس کے باوجود نہیں جانتا کہ ان کے ساتھ کیا کیا جائے گا۔“ حضرت ام علاء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اللہ کی قسم! اس کے بعد میں نے کسی کو پاکباز نہیں کہا، البتہ ان کے متعلق اس گفتگو نے مجھے غمناک کر دیا، چنانچہ ایک دن مجھے نیند آئی تو مجھے خواب میں حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا چشمہ دکھایا گیا جس میں پانی جاری تھا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ واقعہ عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ (چشمہ) ان کا عمل ہے (جو اب بھی جاری ہے)۔“ [صحيح البخاري/كتاب التعبير/حدیث: 2687]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3929
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ أُمَّ الْعَلَاءِ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِمْ بَايَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ طَارَ لَهُمْ فِي السُّكْنَى حِينَ اقْتَرَعَتْ الْأَنْصَارُ عَلَى سُكْنَى الْمُهَاجِرِينَ، قَالَتْ أُمُّ الْعَلَاءِ: فَاشْتَكَى عُثْمَانُ عِنْدَنَا , فَمَرَّضْتُهُ حَتَّى تُوُفِّيَ وَجَعَلْنَاهُ فِي أَثْوَابِهِ , فَدَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ أَبَا السَّائِبِ شَهَادَتِي عَلَيْكَ لَقَدْ أَكْرَمَكَ اللَّهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَمَا يُدْرِيكِ أَنَّ اللَّهَ أَكْرَمَهُ"، قَالَتْ: قُلْتُ: لَا أَدْرِي بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَنْ، قَالَ:" أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ وَاللَّهِ الْيَقِينُ وَاللَّهِ , إِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ وَمَا أَدْرِي وَاللَّهِ وَأَنَا رَسُولُ اللَّه مَا يُفْعَلُ بِي"، قَالَتْ: فَوَاللَّهِ لَا أُزَكِّي أَحَدًا بَعْدَهُ، قَالَتْ: فَأَحْزَنَنِي ذَلِكَ فَنِمْتُ فَرِيتُ لِعُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ عَيْنًا تَجْرِي , فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ:" ذَلِكِ عَمَلُهُ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہیں ابن شہاب نے خبر دی، انہیں خارجہ بن زید بن ثابت نے کہ (ان کی والدہ) ام علاء رضی اللہ عنہا (ایک انصاری خاتون جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی) نے انہیں خبر دی کہ جب انصار نے مہاجرین کی میزبانی کے لیے قرعہ ڈالا تو عثمان بن مظعون ان کے گھرانے کے حصے میں آئے تھے۔ ام علاء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر عثمان رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں بیمار پڑ گئے۔ میں نے ان کی پوری طرح تیمارداری کی وہ نہ بچ سکے۔ ہم نے انہیں ان کے کپڑوں میں لپیٹ دیا تھا۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے تو میں نے کہا: ابوسائب! (عثمان رضی اللہ عنہ کی کنیت) تم پر اللہ کی رحمتیں ہوں، میری تمہارے متعلق گواہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنے اکرام سے نوازا ہے۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے اکرام سے نوازا ہے؟ میں نے عرض کیا مجھے تو اس سلسلے میں کچھ خبر نہیں ہے۔ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں یا رسول اللہ! لیکن اور کسے نوازے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں تو واقعی کوئی شک و شبہ نہیں کہ ایک یقینی امر (موت) ان کو آ چکا ہے۔ اللہ کی قسم کہ میں بھی ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے خیر خواہی کی امید رکھتا ہوں لیکن میں حالانکہ اللہ کا رسول ہوں خود اپنے متعلق نہیں جان سکتا کہ میرے ساتھ کیا معاملہ ہو گا۔ ام علاء رضی اللہ عنہا نے عرض کیا پھر اللہ کی قسم کہ اس کے بعد میں اب کسی کے بارے میں اس کی پاکی نہیں کروں گی۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس واقعہ پر مجھے بڑا رنج ہوا۔ پھر میں سو گئی تو میں نے خواب میں دیکھا کہ عثمان بن مظعون کے لیے ایک بہتا ہوا چشمہ ہے۔ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ سے اپنا خواب بیان کیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ ان کا عمل تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب التعبير/حدیث: 3929]
حضرت ام علاء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، جو انصاری خاتون ہیں اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت بھی کی تھی، انہوں نے بیان کیا کہ جب انصار نے مہاجرین کی میزبانی کے لیے قرعہ اندازی کی تو حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ان کے حصے میں آئے۔ وہ ہمارے پاس آ کر بیمار ہو گئے تو میں نے ان کی خوب دیکھ بھال کی لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔ جب وہ فوت ہوئے تو ہم نے انہیں ان کے کپڑوں میں رہنے دیا، اس دوران میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے کہا: ”ابو سائب! تم پر اللہ کی رحمت ہو، میری تمہارے لیے گواہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنے ہاں اکرام سے نوازا ہے۔“ (یہ سن کر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیا معلوم کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے اکرام سے نوازا ہے؟“ حضرت ام علاء رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ”واقعی مجھے کوئی علم نہیں ہے لیکن اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اللہ اور کسے نوازے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واقعی عثمان انتقال کر چکے ہیں۔ اللہ کی قسم! میں ان کے لیے اچھی امید رکھتا ہوں لیکن حتمی طور پر میں اپنے متعلق بھی نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا، حالانکہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔“ حضرت ام علاء رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اللہ کی قسم! اس کے بعد میں کسی کا تزکیہ نہیں کروں گی، البتہ مجھے اس واقعے سے کافی رنج ہوا۔“ پھر میں سو گئی تو میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے لیے ایک بہتا ہوا چشمہ ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ خواب بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ عثمان کا عمل ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب التعبير/حدیث: 3929]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7004
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا، وَقَالَ:" مَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِهِ، قَالَتْ: وَأَحْزَنَنِي فَنِمْتُ فَرَأَيْتُ لِعُثْمَانَ عَيْنًا تَجْرِي، فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ذَلِكَ عَمَلُهُ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی اور انہیں زہری نے یہی حدیث بیان کی اور بیان کیا کہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ) میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس کا مجھے رنج ہوا۔ (کہ عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق کوئی بات یقین کے ساتھ معلوم نہیں ہے) چنانچہ میں سو گئی اور میں نے خواب میں دیکھا کہ عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے ایک جاری چشمہ ہے۔ میں نے اس کی اطلاع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ان کا نیک عمل ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب التعبير/حدیث: 7004]
ایک دوسری روایت ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟“ تو مجھے بہت رنج ہوا، چنانچہ میں سو گئی تو میں نے خواب میں حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا ایک چشمہ دیکھا جو جاری تھا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ان (عثمان رضی اللہ عنہ) کا نیک عمل ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب التعبير/حدیث: 7004]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة