🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب قول النبى صلى الله عليه وسلم: سترون بعدي أمورا تنكرونها :
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا ”میرے بعد تم بعض کام دیکھو گے جو تم کو برے لگیں گے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7055
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، قَالَ:" دَخَلْنَا عَلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَهُوَ مَرِيضٌ، قُلْنَا: أَصْلَحَكَ اللَّهُ، حَدِّثْ بِحَدِيثٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهِ سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: دَعَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَايَعْنَاهُ.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے عمرو بن حارث نے، ان سے بکیر بن عبداللہ نے، ان سے بسر بن سعید نے، ان سے جنادہ بن ابی امیہ نے بیان کیا کہ ہم عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچے وہ مریض تھے اور ہم نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ آپ کو صحت عطا فرمائے۔ کوئی حدیث بیان کیجئے جس کا نفع آپ کو اللہ تعالیٰ پہنچائے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لیلۃالعقبہ میں سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلایا اور ہم نے آپ سے بیعت کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7055]
حضرت جنادہ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ وہ بیمار تھے۔ ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو صحت و سلامتی عطا کرے! آپ ہمیں کوئی ایسی حدیث بیان کریں جس سے اللہ تعالیٰ آپ کو نفع پہنچائے اور جسے آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو۔ انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلایا تو ہم نے آپ کی بیعت کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7055]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا وَهُوَ أَحَدُ النُّقَبَاءِ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ وَحَوْلَهُ عِصَابَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ:" بَايِعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ، وَلَا تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ، وَلَا تَعْصُوا فِي مَعْرُوفٍ، فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعُوقِبَ فِي الدُّنْيَا فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ثُمَّ سَتَرَهُ اللَّهُ فَهُوَ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ وَإِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ"، فَبَايَعْنَاهُ عَلَى ذَلِك.
ہم سے اس حدیث کو ابوالیمان نے بیان کیا، ان کو شعیب نے خبر دی، وہ زہری سے نقل کرتے ہیں، انہیں ابوادریس عائذ اللہ بن عبداللہ نے خبر دی کہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ جو بدر کی لڑائی میں شریک تھے اور لیلۃالعقبہ کے (بارہ) نقیبوں میں سے تھے۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت جب آپ کے گرد صحابہ کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی فرمایا کہ مجھ سے بیعت کرو اس بات پر کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو گے، چوری نہ کرو گے، زنا نہ کرو گے، اپنی اولاد کو قتل نہ کرو گے اور نہ عمداً کسی پر کوئی ناحق بہتان باندھو گے اور کسی بھی اچھی بات میں (اللہ کی) نافرمانی نہ کرو گے۔ جو کوئی تم میں (اس عہد کو) پورا کرے گا تو اس کا ثواب اللہ کے ذمے ہے اور جو کوئی ان (بری باتوں) میں سے کسی کا ارتکاب کرے اور اسے دنیا میں (اسلامی قانون کے تحت) سزا دے دی گئی تو یہ سزا اس کے (گناہوں کے) لیے بدلا ہو جائے گی اور جو کوئی ان میں سے کسی بات میں مبتلا ہو گیا اور اللہ نے اس کے (گناہ) کو چھپا لیا تو پھر اس کا (معاملہ) اللہ کے حوالہ ہے، اگر چاہے معاف کرے اور اگر چاہے سزا دیدے۔ (عبادہ کہتے ہیں کہ) پھر ہم سب نے ان (سب باتوں) پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر لی۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 18]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے، اور یہ بدری صحابی اور عقبہ والی رات کے نقباء میں سے ایک نقیب ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، جب کہ آپ کے اردگرد صحابہ کی ایک جماعت تھی، فرمایا: تم سب مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ گے، چوری نہیں کرو گے، زنا نہیں کرو گے، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے۔ اپنے ہاتھ اور پاؤں کے سامنے (دیدہ دانستہ) کسی پر افترا پردازی نہیں کرو گے اور اچھے کاموں میں نافرمانی نہ کرو گے۔ پھر جو کوئی تم میں سے یہ عہد پورا کرے گا، اس کا ثواب اللہ کے ذمے ہے اور جو کوئی ان گناہوں میں سے کچھ کر بیٹھے اور اسے دنیا میں اس کی سزا مل جائے تو اس کا گناہ اتر جائے گا۔ اور جو کوئی ان جرائم میں سے کسی کا ارتکاب کرے، پھر اللہ نے دنیا میں اس کی پردہ پوشی فرمائی تو وہ اللہ کے حوالے ہے کہ چاہے تو (قیامت کے دن) اسے سزا دے یا معاف کر دے۔ ہم نے ان سب شرطوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر لی۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 18]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں