🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب:
باب:۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7107
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي مَسْعُودٍ، وَأَبِي مُوسَى، وَعَمَّارٍ، فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ:" مَا مِنْ أَصْحَابِكَ أَحَدٌ إِلَّا لَوْ شِئْتُ لَقُلْتُ فِيهِ غَيْرَكَ، وَمَا رَأَيْتُ مِنْكَ شَيْئًا مُنْذُ صَحِبْت النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْيَبَ عِنْدِي مِنَ اسْتِسْرَاعِكَ فِي هَذَا الْأَمْرِ، قَالَ عَمَّارٌ: يَا أَبَا مَسْعُودٍ، وَمَا رَأَيْتُ مِنْكَ وَلَا مِنْ صَاحِبِكَ هَذَا شَيْئًا مُنْذُ صَحِبْتُمَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْيَبَ عِنْدِي مِنْ إِبْطَائِكُمَا فِي هَذَا الْأَمْرِ، فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ وَكَانَ مُوسِرًا: يَا غُلَامُ، هَاتِ حُلَّتَيْنِ، فَأَعْطَى إِحْدَاهُمَا أَبَا مُوسَى وَالْأُخْرَى عَمَّارًا، وَقَالَ: رُوحَا فِيهِ إِلَى الْجُمُعَةِ".
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے شقیق بن سلمہ نے کہ میں ابومسعود، ابوموسیٰ اور عمار رضی اللہ عنہم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ سے کہا ہمارے ساتھ والے جتنے لوگ ہیں میں اگر چاہوں تو تمہارے سوا ان میں سے ہر ایک کا کچھ نہ کچھ عیب بیان کر سکتا ہوں۔ (لیکن تم ایک بےعیب ہو) اور جب سے تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی، میں نے کوئی عیب کا کام تمہارا نہیں دیکھا۔ ایک یہی عیب کا کام دیکھتا ہوں، تم اس دور میں یعنی لوگوں کو جنگ کے لیے اٹھانے میں جلدی کر رہے ہو۔ عمار رضی اللہ عنہ نے کہا ابومسعود رضی اللہ عنہ تم سے اور تمہارے ساتھی ابوموسیٰ اشعری سے جب سے تم دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی ہے میں نے کوئی عیب کا کام اس سے زیادہ نہیں دیکھا جو تم دونوں اس کام میں دیر کر رہے ہو۔ اس پر ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا اور وہ مالدار آدمی تھے کہ غلام! دو حلے لاؤ۔ چنانچہ انہوں نے ایک حلہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو دیا اور دوسرا عمار رضی اللہ عنہ کو اور کہا کہ آپ دونوں بھائی کپڑے پہن کر جمعہ پڑھنے چلیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7107]
حضرت شقیق بن سلمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ، حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے (حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے) کہا: تمہارے ساتھ جتنے لوگ ہیں اگر میں چاہوں تو تمہارے علاوہ ہر ایک کے متعلق کچھ نہ کچھ کہہ سکتا ہوں، لیکن جب سے تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی ہے میں نے تمہارا کوئی عیب نہیں دیکھا، بس یہی ایک بات ہے کہ تم اس معاملے میں جلد بازی سے کام لے رہے ہو۔ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابومسعود! جب سے تم دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی ہے میں نے تمہارے اس ساتھی کے متعلق کوئی عیب نہیں دیکھا سوائے اس بات کے کہ تم اس معاملے میں دیر کر رہے ہو۔ حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ چونکہ صاحبِ ثروت تھے، انہوں نے اپنے غلام سے کہا: دو جوڑے لاؤ۔ چنانچہ انہوں نے ایک جوڑا حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو دیا اور دوسرا حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو دیا، پھر ان دونوں سے فرمایا: انہیں زیب تن کر کے جمعہ ادا کرنے کے لیے جاؤ۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7107]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7102
حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، يَقُولُ: دَخَلَ أَبُو مُوسَى، وَأَبُو مَسْعُودٍ، عَلَى عَمَّارٍ حَيْثُ بَعَثَهُ عَلِيٌّ إِلَى أَهْلِ الْكُوفَةِ يَسْتَنْفِرُهُمْ، فَقَالَا: مَا رَأَيْنَاكَ أَتَيْتَ أَمْرًا أَكْرَهَ عِنْدَنَا مِنْ إِسْرَاعِكَ فِي هَذَا الْأَمْرِ مُنْذُ أَسْلَمْتَ، فَقَالَ عَمَّارٌ:" مَا رَأَيْتُ مِنْكُمَا مُنْذُ أَسْلَمْتُمَا أَمْرًا أَكْرَهَ عِنْدِي مِنْ إِبْطَائِكُمَا عَنْ هَذَا الْأَمْرِ، وَكَسَاهُمَا حُلَّةً حُلَّةً ثُمَّ رَاحُوا إِلَى الْمَسْجِدِ".
ہم سے بدل بن محبر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ کو عمرو نے خبر دی کہ میں نے ابووائل سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ابوموسیٰ اور ابومسعود رضی اللہ عنہما دونوں عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے پاس گئے جب انہیں علی رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ لوگوں کو لڑنے کے لیے تیار کریں۔ ابوموسیٰ اور ابومسعود رضی اللہ عنہما دونوں عمار رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے جب سے تم مسلمانوں ہوئے ہو ہم نے کوئی بات اس سے زیادہ بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں جلدی کر رہے ہو۔ عمار رضی اللہ عنہ نے جواب دیا میں نے بھی جب سے تم دونوں مسلمان ہوئے ہو تمہاری کوئی بات اس سے بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں دیر کر رہے ہو۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ دونوں کو ایک ایک کپڑے کا نیا جوڑا پہنایا پھر تینوں مل کر مسجد میں تشریف لے گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7102]
حضرت ابو وائل سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ دونوں حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے جبکہ انہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کی طرف بھیجا تھا کہ وہ انہیں مدد کے لیے نکلنے پر آمادہ کریں۔ ان دونوں نے (حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے) کہا: جب سے تم مسلمان ہوئے ہو ہم نے کوئی بات اس سے زیادہ بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں جلد بازی دکھا رہے ہو۔ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب دیا: میں نے بھی جب سے تم مسلمان ہوئے ہو تمہاری کوئی بات اس سے بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں دیر کر رہے ہو۔ حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو ایک ایک نیا جوڑا پہنایا، پھر وہ (تینوں مل کر) مسجد میں تشریف لے گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7102]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7103
حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، يَقُولُ: دَخَلَ أَبُو مُوسَى، وَأَبُو مَسْعُودٍ، عَلَى عَمَّارٍ حَيْثُ بَعَثَهُ عَلِيٌّ إِلَى أَهْلِ الْكُوفَةِ يَسْتَنْفِرُهُمْ، فَقَالَا: مَا رَأَيْنَاكَ أَتَيْتَ أَمْرًا أَكْرَهَ عِنْدَنَا مِنْ إِسْرَاعِكَ فِي هَذَا الْأَمْرِ مُنْذُ أَسْلَمْتَ، فَقَالَ عَمَّارٌ:" مَا رَأَيْتُ مِنْكُمَا مُنْذُ أَسْلَمْتُمَا أَمْرًا أَكْرَهَ عِنْدِي مِنْ إِبْطَائِكُمَا عَنْ هَذَا الْأَمْرِ، وَكَسَاهُمَا حُلَّةً حُلَّةً ثُمَّ رَاحُوا إِلَى الْمَسْجِدِ".
ہم سے بدل بن محبر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ کو عمرو نے خبر دی کہ میں نے ابووائل سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ابوموسیٰ اور ابومسعود رضی اللہ عنہما دونوں عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے پاس گئے جب انہیں علی رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ لوگوں کو لڑنے کے لیے تیار کریں۔ ابوموسیٰ اور ابومسعود رضی اللہ عنہما دونوں عمار رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے جب سے تم مسلمانوں ہوئے ہو ہم نے کوئی بات اس سے زیادہ بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں جلدی کر رہے ہو۔ عمار رضی اللہ عنہ نے جواب دیا میں نے بھی جب سے تم دونوں مسلمان ہوئے ہو تمہاری کوئی بات اس سے بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں دیر کر رہے ہو۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ دونوں کو ایک ایک کپڑے کا نیا جوڑا پہنایا پھر تینوں مل کر مسجد میں تشریف لے گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7103]
حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت ابو موسیٰ اشعری اور حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہما دونوں حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے جبکہ انہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کی طرف بھیجا تھا کہ وہ انہیں مدد کے لیے نکلنے پر آمادہ کریں۔ ان دونوں نے (حضرت عمار رضی اللہ عنہ) سے کہا: جب سے تم مسلمان ہوئے ہو ہم نے کوئی بات اس سے زیادہ بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں جلد بازی دکھا رہے ہو۔ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب دیا: میں نے بھی جب سے تم مسلمان ہوئے ہو تمہاری کوئی بات اس سے بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں دیر کر رہے ہو۔ حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کو ایک ایک نیا جوڑا پہنایا، پھر وہ (تینوں مل کر) مسجد میں تشریف لے گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7103]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7104
حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، يَقُولُ: دَخَلَ أَبُو مُوسَى، وَأَبُو مَسْعُودٍ، عَلَى عَمَّارٍ حَيْثُ بَعَثَهُ عَلِيٌّ إِلَى أَهْلِ الْكُوفَةِ يَسْتَنْفِرُهُمْ، فَقَالَا: مَا رَأَيْنَاكَ أَتَيْتَ أَمْرًا أَكْرَهَ عِنْدَنَا مِنْ إِسْرَاعِكَ فِي هَذَا الْأَمْرِ مُنْذُ أَسْلَمْتَ، فَقَالَ عَمَّارٌ:" مَا رَأَيْتُ مِنْكُمَا مُنْذُ أَسْلَمْتُمَا أَمْرًا أَكْرَهَ عِنْدِي مِنْ إِبْطَائِكُمَا عَنْ هَذَا الْأَمْرِ، وَكَسَاهُمَا حُلَّةً حُلَّةً ثُمَّ رَاحُوا إِلَى الْمَسْجِدِ".
ہم سے بدل بن محبر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ کو عمرو نے خبر دی کہ میں نے ابووائل سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ابوموسیٰ اور ابومسعود رضی اللہ عنہما دونوں عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے پاس گئے جب انہیں علی رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ لوگوں کو لڑنے کے لیے تیار کریں۔ ابوموسیٰ اور ابومسعود رضی اللہ عنہما دونوں عمار رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے جب سے تم مسلمانوں ہوئے ہو ہم نے کوئی بات اس سے زیادہ بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں جلدی کر رہے ہو۔ عمار رضی اللہ عنہ نے جواب دیا میں نے بھی جب سے تم دونوں مسلمان ہوئے ہو تمہاری کوئی بات اس سے بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں دیر کر رہے ہو۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ دونوں کو ایک ایک کپڑے کا نیا جوڑا پہنایا پھر تینوں مل کر مسجد میں تشریف لے گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7104]
حضرت ابو وائل سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت ابو موسیٰ اشعری اور حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہما دونوں حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، جبکہ انہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کی طرف بھیجا تھا کہ وہ انہیں مدد کے لیے نکلنے پر آمادہ کریں۔ ان دونوں نے (حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے) کہا: جب سے تم مسلمان ہوئے ہو، ہم نے کوئی بات اس سے زیادہ بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں جلد بازی دکھا رہے ہو۔ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب دیا: میں نے بھی جب سے تم مسلمان ہوئے ہو، تمہاری کوئی بات اس سے بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں دیر کر رہے ہو۔ حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو ایک ایک نیا جوڑا پہنایا، پھر وہ (تینوں مل کر) مسجد میں تشریف لے گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7104]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں