صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب ما يجوز من اللو:
باب: لفظ ”اگر مگر“ کے استعمال کا جواز۔
حدیث نمبر: 7238
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: ذَكَرَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ: أَهِيَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا امْرَأَةً مِنْ غَيْرِ بَيِّنَةٍ؟، قَالَ: لَا تِلْكَ امْرَأَةٌ أَعْلَنَتْ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے قاسم بن محمد نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دو لعان کرنے والوں کا ذکر کیا تو اس پر عبداللہ بن شداد نے پوچھا: کیا یہی وہ ہیں جن کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ”اگر میں کسی عورت کو بغیر گواہ کے رجم کر سکتا تو اسے کرتا۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نہیں وہ ایک (اور) عورت تھی جو (اسلام لانے کے بعد) کھلے عام (فحش کام) کرتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب التمني/حدیث: 7238]
حضرت قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دو لعان کرنے والوں کا ذکر کیا تو حضرت عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”کیا یہ وہی عورت تھی جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”اگر میں کسی عورت کو بغیر گواہ رجم کرتا تو اسے کرتا۔““ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: ”نہیں، وہ ایک عورت تھی جو کھلے عام فحش کاری کرتی تھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب التمني/حدیث: 7238]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5310
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنَّهُ ذُكِرَ التَّلَاعُنُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فِي ذَلِكَ قَوْلًا، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ يَشْكُو إِلَيْهِ أَنَّهُ قَدْ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، فَقَالَ عَاصِمٌ: مَا ابْتُلِيتُ بِهَذَا الْأَمْرِ إِلَّا لِقَوْلِي، فَذَهَبَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي وَجَدَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مُصْفَرًّا، قَلِيلَ اللَّحْمِ، سَبْطَ الشَّعَرِ، وَكَانَ الَّذِي ادَّعَى عَلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَهُ عِنْدَ أَهْلِهِ خَدْلًا آدَمَ، كَثِيرَ اللَّحْمِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ بَيِّنْ، فَجَاءَتْ شَبِيهًا بِالرَّجُلِ الَّذِي ذَكَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَهُ فَلَاعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا. قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْمَجْلِسِ: هِيَ الَّتِي قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ رَجَمْتُ هَذِهِ؟ فَقَالَ: لَا، تِلْكَ امْرَأَةٌ كَانَتْ تُظْهِرُ فِي الْإِسْلَامِ السُّوءَ. قَالَ أَبُو صَالِحٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ: آدَمَ خَدِلًا.
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں لعان کا ذکر ہوا اور عاصم رضی اللہ عنہ نے اس سلسلہ میں کوئی بات کہی (کہ میں اگر اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھ لوں تو وہیں قتل کر دوں) اور چلے گئے، پھر ان کی قوم کے ایک صحابی (عویمر رضی اللہ عنہ) ان کے پاس آئے یہ شکایت لے کر کہ انہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک غیر مرد کو پایا ہے۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے آج یہ ابتلاء میری اسی بات کی وجہ سے ہوا ہے (جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کہی تھی) پھر وہ انہیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ واقعہ بتایا جس میں ملوث اس صحابی نے اپنی کو پایا تھا۔ یہ صاحب زرد رنگ، کم گوشت والے (پتلے دبلے) اور سیدھے بال والے تھے اور جس کے متعلق انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اسے انہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ (تنہائی میں) پایا، وہ گھٹے ہوئے جسم کا، گندمی اور بھرے گوشت والا تھا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ اے اللہ! اس معاملہ کو صاف کر دے۔ چنانچہ اس عورت نے بچہ اسی مرد کی شکل کا جنا جس کے متعلق شوہر نے دعویٰ کیا تھا کہ اسے انہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ پایا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میاں بیوی کے درمیان لعان کرایا۔ ایک شاگرد نے مجلس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کیا یہی وہ عورت ہے جس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں کسی کو بلا شہادت کے سنگسار کر سکتا تو اس عورت کو سنگسار کرتا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نہیں (یہ جملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) اس عورت کے متعلق فرمایا تھا جس کی بدکاری اسلام کے زمانہ میں کھل گئی تھی۔ ابوصالح اور عبداللہ بن یوسف نے اس حدیث میں بجائے «خدلا.» کے کسرہ کے ساتھ دال «خدلا.» روایت کیا ہے لیکن معنی وہی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب التمني/حدیث: 5310]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لعان کا ذکر کیا گیا تو حضرت عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق بات کی، پھر وہ چلے گئے پھر انہوں نے اپنی قوم کے ایک مرد کو پایا، حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا: ”آج یہ آزمائش میری ہی ایک بات کی وجہ سے پیش آئی ہے۔“ چنانچہ وہ اس آدمی کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس آدمی کے بارے میں بتایا کہ اس نے اپنی بیوی کو مکروہ حالت میں پایا ہے، وہ آدمی خود زرد رنگ، کم گوشت والا اور سیدھے بالوں والا تھا اور جس کے متعلق اس نے دعویٰ کیا تھا کہ اسے اپنی بیوی کے ساتھ پایا ہے وہ بڑی بڑی پنڈلیوں والا، گندمی رنگ اور بھرے گوشت والا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ بَيِّنْ» ”اے اللہ! یہ معاملہ واضح فرما دے۔“ چنانچہ اس عورت نے اس مرد کے مشابہ بچہ جنم دیا جس کے متعلق اس کے شوہر نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے اسے بیوی کے ساتھ پایا ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (میاں بیوی) دونوں کے درمیان لعان کرایا، مجلس میں ایک شاگرد نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”یہ وہی عورت ہے جس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”اگر میں کسی کو گواہی کے بغیر سنگسار کر سکتا تو اس عورت کو کرتا۔“؟“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں، یہ تو اس عورت کے متعلق فرمایا تھا جس کی بدکاری زمانہ اسلام میں کھل گئی تھی۔“ ابو صالح اور عبداللہ بن یوسف نے ایک لفظ «خَدْلًا» پڑھا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب التمني/حدیث: 5310]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6855
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ:" ذَكَرَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ: هِيَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا امْرَأَةً عَنْ غَيْرِ بَيِّنَةٍ". قَالَ: لَا تِلْكَ امْرَأَةٌ أَعْلَنَتْ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے قائم بن محمد نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دو لعان کرنے والوں کا ذکر کیا تو عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہما نے کہا کہ یہ وہی تھی جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں کسی عورت کو بلا گواہی رجم کر سکتا (تو اسے ضرور کرتا) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نہیں یہ وہ عورت تھی جو (فسق و فجور) ظاہر کیا کرتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب التمني/حدیث: 6855]
حضرت قاسم بن محمد سے روایت ہے انہوں نے کہا: ”حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے دو لعان کرنے والوں کا ذکر کیا تو حضرت عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”کیا یہ وہی عورت تھی جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”اگر میں کسی عورت کو بلا ثبوت سنگسار کرتا تو اسے ضرور کرتا؟““ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”نہیں، یہ بات آپ نے اس عورت کے متعلق کہی تھی جس کا بدکاری کے متعلق عام چرچا تھا۔““ [صحيح البخاري/كتاب التمني/حدیث: 6855]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة