صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب ما يكره من التعمق والتنازع فى العلم والغلو فى الدين والبدع:
باب: کسی امر میں تشدد اور سختی کرنا۔
حدیث نمبر: 7302
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ:" كَادَ الْخَيِّرَانِ أَنْ يَهْلِكَا أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ لَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفْدُ بَنِي تَمِيمٍ أَشَارَ أَحَدُهُمَا بِالْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ التَّمِيمِيِّ الْحَنْظَلِيِّ أَخِي بَنِي مُجَاشِعٍ وَأَشَارَ الْآخَرُ بِغَيْرِهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ: إِنَّمَا أَرَدْتَ خِلَافِي، فَقَالَ عُمَرُ: مَا أَرَدْتُ خِلَافَكَ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتْ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ إِلَى قَوْلِهِ عَظِيمٌ سورة الحجرات آية 2- 3"، قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: فَكَانَ عُمَرُ بَعْدُ وَلَمْ يَذْكُرْ ذَلِكَ عَنْ أَبِيهِ يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ إِذَا حَدَّثَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثٍ حَدَّثَهُ كَأَخِي السِّرَارِ لَمْ يُسْمِعْهُ حَتَّى يَسْتَفْهِمَهُ.
ہم سے محمد بن مقاتل ابوالحسن مروزی نے بیان کیا، کہا ہم کو وکیع نے خبر نے دی، انہیں نافع بن عمر نے، ان سے ابن ابی ملکیہ نے بیان کیا کہ امت کے دو بہترین انسان قریب تھا کہ ہلاک ہو جاتے (یعنی ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنی تمیم کا وفد آیا تو ان میں سے ایک صاحب (عمر رضی اللہ عنہ) نے بنی مجاشع میں سے اقرع بن حابس حنظلی رضی اللہ عنہ کو ان کا سردار بنائے جانے کا مشورہ دیا (تو انہوں نے یہ درخواست کی کہ کسی کو ہمارا سردار بنا دیجئیے) اور دوسرے صاحب (ابوبکر رضی اللہ عنہ) نے دوسرے (قعقاع بن سعید بن زرارہ) کو بنائے جانے کا مشورہ دیا۔ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ کا مقصد صرف میری مخالفت کرنا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میری نیت آپ کی مخالفت کرنا نہیں ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دونوں بزرگوں کی آواز بلند ہو گئی۔ چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی «يا أيها الذين آمنوا لا ترفعوا أصواتكم» ”اے لوگوں! جو ایمان لے آئے ہو اپنی آواز کو بلند نہ کرو۔“ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «عظيم» تک۔ ابن ابی ملکیہ نے بیان کیا کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہا کہتے تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کے اترنے کے بعد یہ طریقہ اختیار کیا اور ابن زبیر نے ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے نانا کا ذکر کیا وہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ عرض کرتے تو اتنی آہستگی سے جیسے کوئی کان میں بات کرتا ہے حتیٰ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بات سنائی نہ دیتی تو آپ دوبارہ پوچھتے کیا کہا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7302]
حضرت ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: قریب تھا کہ دو بہترین آدمی حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما ہلاک ہو جاتے۔ جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنو تمیم کا وفد آیا تو ان میں سے ایک صاحب نے بنو مجاشع سے اقرع بن حابس تمیمی حنظلی رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر بنانے کا مشورہ دیا جبکہ دوسرے نے اس کے علاوہ کسی اور کی طرف اشارہ کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: ”آپ کا مقصد صرف میری مخالفت کرنا ہے۔“ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میری خواہش آپ کی مخالفت کرنا نہیں۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دونوں بزرگوں کی آوازیں بلند ہو گئیں تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ﴾ [سورة الحجرات: 2-3] ”اے ایمان والو! تم اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند نہ کرو۔۔۔۔۔اجر عظیم ہے۔“ ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا اس آیت کے بعد یہ انداز تھا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات کرتے تو اتنی آہستگی سے جیسے کوئی کان میں بات کرتا ہے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بات نہ سنا سکتے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ پوچھتے (”کیا کہا ہے؟“) لیکن حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اپنے نانا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے یہ بات بیان نہیں کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7302]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4367
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُم: أَنَّهُ قَدِمَ رَكْبٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:" أَمِّرْ الْقَعْقَاعَ بْنَ مَعْبَدِ بْنِ زُرَارَةَ"، قَالَ عُمَرُ:" بَلْ أَمِّرْ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ"، قَالَ أَبُو بَكْرٍ:" مَا أَرَدْتَ إِلَّا خِلَافِي"، قَالَ عُمَرُ:" مَا أَرَدْتُ خِلَافَكَ"، فَتَمَارَيَا حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا، فَنَزَلَ فِي ذَلِكَ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تُقَدِّمُوا سورة الحجرات آية 1 حَتَّى انْقَضَتْ.
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے خبر دی، انہیں ابن ابی ملیکہ نے اور انہیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ بنو تمیم کے چند سوار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا کہ آپ ہمارا کوئی امیر منتخب کر دیجئیے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ قعقاع بن معبد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کو امیر منتخب کر دیجئیے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! بلکہ آپ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر منتخب فرما دیجئیے۔ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تمہارا مقصد صرف مجھ سے اختلاف کرنا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نہیں میری غرض مخالفت کی نہیں ہے۔ دونوں اتنا جھگڑے کی آواز بلند ہو گئی۔ اسی پر سورۃ الحجرات کی یہ آیت نازل ہوئی «يا أيها الذين آمنوا لا تقدموا» آخر آیت تک۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 4367]
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”بنو تمیم کے چند سوار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”آپ قعقاع بن معبد بن زرارہ کو امیر مقرر کر دیں۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”بلکہ آپ اقرع بن حابس کو ان کا امیر بنا دیں۔“ اس بات پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”تمہارا مقصد صرف مجھ سے اختلاف کرنا ہے۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میری غرض آپ کی مخالفت کرنا نہیں ہے۔“ دونوں اتنا جھگڑے کہ ان کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ﴾ ”ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے مت بڑھو“ [سورة الحجرات: 1] آخر آیت تک۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 4367]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة