🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب قول الله تعالى: {وهو الذى خلق السموات والأرض بالحق} :
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الانعام میں) ارشاد ”اور وہی ذات ہے جس نے آسمان اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7385
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو مِنَ اللَّيْلِ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ قَوْلُكَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ لِي غَيْرُكَ"، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا، وَقَالَ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ.
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے سلیمان احول نے، ان سے طاؤس نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں یہ دعا کرتے تھے «اللهم لك الحمد أنت رب السموات والأرض،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ لك الحمد أنت قيم السموات والأرض ومن فيهن،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ لك الحمد أنت نور السموات والأرض،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قولك الحق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ووعدك الحق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ولقاؤك حق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ والجنة حق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ والنار حق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ والساعة حق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اللهم لك أسلمت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وبك آمنت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وعليك توكلت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإليك أنبت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وبك خاصمت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإليك حاكمت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فاغفر لي ما قدمت وما أخرت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وأسررت وأعلنت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أنت إلهي لا إله لي غيرك ‏"‏‏.‏» اے اللہ! تیرے ہی لیے تعریف ہے تو آسمان و زمین کا مالک ہے، حمد تیرے لیے ہی ہے تو آسمان و زمین کا قائم کرنے والا ہے اور ان سب کا جو اس میں ہیں۔ تیری ہی لیے حمد ہے تو آسمان و زمین کا نور ہے۔ تیرا قول حق ہے اور تیرا وعدہ سچ ہے اور تیری ملاقات سچ اور جنت سچ اور دوزخ سچ ہے اور قیامت سچ ہے۔ اے اللہ! میں نے تیرے ہی سامنے سر جھکا دیا، میں تجھ ہی پر ایمان لایا، میں نے تیرے ہی اوپر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف رجوع کیا۔ میں نے تیری ہی مدد کے ساتھ مقابلہ کیا اور میں تجھی سے انصاف کا طلب گار ہوں۔ پس تو میری مغفرت کر، ان تمام گناہوں میں جو میں پہلے کر چکا ہوں اور جو بعد میں مجھ سے صادر ہوں جو میں نے چھپا رکھے ہیں اور جن کا میں نے اظہار کیا ہے، تو ہی میرا معبود ہے اور تیرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ اور ہم سے ثابت بن محمد نے بیان کیا اور کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے پھر یہی حدیث بیان کی اور اس میں یوں ہے «أنت الحق وقولك الحق‏.‏» کہ تو حق ہے اور تیرا کلام حق ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7385]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت اکثر یہ دعا پڑھا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ مَلِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، قَوْلُكَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ الْحَقُّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» اے اللہ! تیرے ہی لیے تعریف ہے۔ تو آسمانوں اور زمین کا مالک ہے۔ حمد و ثنا تیرے ہی لیے ہے۔ تو آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان سب کو قائم کرنے والا ہے۔ تعریف تجھے ہی سزاوار ہے۔ تو آسمانوں و زمین کا نور ہے۔ تیرا قول برحق، تیرا وعدہ مبنی بر حقیقت ہے، تیری ملاقات برحق، جنت سچ اور جہنم برحق نیز روزِ قیامت بھی حق ہے، اے اللہ! میں نے تیرے حضور اپنا سر جھکا دیا۔ میں تجھی پر ایمان لایا۔ میں نے تجھی پر بھروسا کیا اور تیری ہی طرف رجوع کیا۔ میں تیری ہی مدد سے باطل کے خلاف برسرِ پیکار ہوں اور تجھی سے انصاف کا طلب گار ہوں۔ میرے ان تمام گناہوں کو معاف کر دے جو میں پہلے کر چکا ہوں اور جو بعد میں مجھ سے صادر ہوں۔ وہ گناہ بھی معاف کر دے جو میں نے پوشیدہ طور پر کیے ہیں اور جو میں نے اعلانیہ کیے ہیں، تو ہی میرا معبود ہے۔ تیرے سوا کوئی بھی معبودِ برحق نہیں۔ ثابت بن محمد کہتے ہیں کہ سفیان ثوری رحمہ اللہ نے ہم سے یہ الفاظ بیان کیے تھے: تو حق ہے اور تیرا کلام سچ ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7385]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1120
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَتَهَجَّدُ , قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ لَكَ مُلْكُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَقَوْلُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ , وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقٌّ , وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَوْ لَا إِلَهَ غَيْرُكَ"، قَالَ سُفْيَانُ: وَزَادَ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ , قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ، سَمِعَهُ مِنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سلیمان بن ابی مسلم نے بیان کیا، ان سے طاؤس نے اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ دعا پڑھتے۔ «اللهم لك الحمد أنت قيم السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ لك ملك السموات والأرض ومن فيهن،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ولك الحمد أنت نور السموات والأرض،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ولك الحمد أنت الحق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ووعدك الحق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ولقاؤك حق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وقولك حق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ والجنة حق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ والنار حق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ والنبيون حق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ومحمد صلى الله عليه وسلم حق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ والساعة حق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اللهم لك أسلمت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وبك آمنت وعليك توكلت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإليك أنبت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وبك خاصمت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإليك حاكمت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فاغفر لي ما قدمت وما أخرت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وما أسررت وما أعلنت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أنت المقدم وأنت المؤخر،‏‏‏‏ ‏‏‏‏لا إله إلا أنت، لا إله غيرك» (ترجمہ) اے میرے اللہ! ہر طرح کی تعریف تیرے ہی لیے زیبا ہے، تو آسمان اور زمین اور ان میں رہنے والی تمام مخلوق کا سنبھالنے والا ہے اور حمد تمام کی تمام بس تیرے ہی لیے مناسب ہے آسمان اور زمین اور ان کی تمام مخلوقات پر حکومت صرف تیرے ہی لیے ہے اور تعریف تیرے ہی لیے ہے، تو آسمان اور زمین کا نور ہے اور تعریف تیرے ہی لیے زیبا ہے، تو سچا ہے، تیرا وعدہ سچا، تیری ملاقات سچی، تیرا فرمان سچا ہے، جنت سچ ہے، دوزخ سچ ہے، انبیاء سچے ہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں اور قیامت کا ہونا سچ ہے۔ اے میرے اللہ! میں تیرا ہی فرماں بردار ہوں اور تجھی پر ایمان رکھتا ہوں، تجھی پر بھروسہ ہے، تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں، تیرے ہی عطا کئے ہوئے دلائل کے ذریعہ بحث کرتا ہوں اور تجھی کو حکم بناتا ہوں۔ پس جو خطائیں مجھ سے پہلے ہوئیں اور جو بعد میں ہوں گی ان سب کی مغفرت فرما، خواہ وہ ظاہر ہوئی ہوں یا پوشیدہ۔ آگے کرنے والا اور پیچھے رکھنے والا تو ہی ہے۔ معبود صرف تو ہی ہے۔ یا (یہ کہا کہ) تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ ابوسفیان نے بیان کیا کہ عبدالکریم ابوامیہ نے اس دعا میں یہ زیادتی کی ہے ( «لا حول ولا قوة إلا بالله») سفیان نے بیان کیا کہ سلیمان بن مسلم نے طاؤس سے یہ حدیث سنی تھی، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 1120]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے وقت تہجد پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ لَكَ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ مَلِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَقَوْلُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ، وَمُحَمَّدٌ صلی اللہ علیہ وسلم حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ - أَوْ لَا إِلَهَ غَيْرُكَ» اے اللہ! تو ہی تعریف کے لائق ہے۔ تو ہی آسمان و زمین اور جو ان میں ہے انہیں سنبھالنے والا ہے۔ تیرے ہی لیے تعریف ہے۔ تیرے ہی لیے زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے ان کی سربراہی ہے۔ تیرے ہی لیے تعریف ہے۔ تو ہی آسمان و زمین کا نور ہے۔ تو ہی ہر طرح کی تعریف کا سزاوار ہے۔ تو ہی آسمان و زمین کا بادشاہ ہے۔ تیرے ہی لیے تعریف لائق ہے، تو خود بھی سچا ہے۔ اور تیرا وعدہ بھی سچا ہے تیری ملاقات یقینی اور تیری بات برحق ہے۔ جنت اور دوزخ برحق، تمام انبیاء برحق اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی برحق ہیں، نیز قیامت برحق ہے۔ اے اللہ! میں تیرا فرماں بردار اور تجھ پر ایمان لایا ہوں، تجھ ہی پر بھروسا کرتا اور تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں۔ تیری ہی مدد کے ساتھ مخالفین سے برسرپیکار ہوں اور تجھ ہی سے فیصلہ چاہتا ہوں۔ تو میرے اگلے، پچھلے، پوشیدہ اور ظاہری گناہوں کو معاف کر دے۔ تو ہی پہلے تھا اور تو ہی آخر میں ہو گا۔ تیرے سوا کوئی بھی معبود برحق نہیں ہے۔ سفیان کہتے ہیں کہ (راوی حدیث) عبدالکریم ابو امیہ نے اس دعا کے آخر میں درج ذیل الفاظ بھی بیان کیے ہیں: «وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» اور اللہ کی مدد کے بغیر نیکی کرنے کی طاقت اور برائی سے باز رہنے کی ہمت نہیں۔ سفیان نے کہا کہ سلیمان بن ابومسلم نے طاؤس سے یہ حدیث سنی تھی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 1120]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6317
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَتَهَجَّدُ قَالَ:" اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ حَقٌّ، وَقَوْلُكَ حَقٌّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ، وَمُحَمَّدٌ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَوْ لَا إِلَهَ غَيْرُكَ".
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا میں نے سلیمان بن ابی مسلم سے سنا، انہوں نے طاؤس سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ دعا کرتے «اللهم لك الحمد،‏‏‏‏ أنت نور السموات والأرض ومن فيهن،‏‏‏‏ ولك الحمد أنت قيم السموات والأرض ومن فيهن،‏‏‏‏ ولك الحمد،‏‏‏‏ أنت الحق ووعدك حق،‏‏‏‏ وقولك حق،‏‏‏‏ ولقاؤك حق،‏‏‏‏ والجنة حق،‏‏‏‏ والنار حق،‏‏‏‏ والساعة حق،‏‏‏‏ والنبيون حق،‏‏‏‏ ومحمد حق،‏‏‏‏ اللهم لك أسلمت وعليك توكلت وبك آمنت،‏‏‏‏ وإليك أنبت،‏‏‏‏ وبك خاصمت،‏‏‏‏ وإليك حاكمت،‏‏‏‏ فاغفر لي ما قدمت وما أخرت،‏‏‏‏ وما أسررت،‏‏‏‏ وما أعلنت،‏‏‏‏ أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت» اے اللہ! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں تو آسمان و زمین اور ان میں موجود تمام چیزوں کا نور ہے، تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں تو آسمان اور زمین اور ان میں موجود تمام چیزوں کا قائم رکھنے والا ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، تو حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، تیرا قول حق ہے، تجھ سے ملنا حق ہے، جنت حق ہے، دوزخ حق ہے، قیامت حق ہے، انبیاء حق ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حق ہیں۔ اے اللہ! تیرے سپرد کیا، تجھ پر بھروسہ کیا، تجھ پر ایمان لایا، تیری طرف رجوع کیا، دشمنوں کا معاملہ تیرے سپرد کیا، فیصلہ تیرے سپرد کیا، پس میری اگلی پچھلی خطائیں معاف کر۔ وہ بھی جو میں نے چھپ کر کی ہیں اور وہ بھی جو کھل کر کی ہیں تو ہی سب سے پہلے ہے اور تو ہی سب سے بعد میں ہے، صرف تو ہی معبود ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 6317]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے وقت تہجد کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَقَوْلُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ الْحَقُّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ، وَمُحَمَّدٌ صلی اللہ علیہ وسلم حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» اے اللہ! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں۔ آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں موجود ہے تو ان سب کو روشن کرنے والا ہے۔ تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں۔ تو آسمان و زمین اور ان میں موجود تمام چیزوں کو قائم رکھنے والا ہے۔ تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں۔ تو حق ہے، تیرا وعدہ برحق، تیری بات مبنی بر حقیقت، تیری ملاقات بھی حق، جنت حق، دوزخ حق، قیامت حق، تمام انبیاء برحق اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی برحق ہیں۔ اے اللہ! میں نے تیرے سپرد کیا، تجھ پر بھروسا کیا، تجھ پر ایمان لایا، تیری طرف رجوع کیا، تیرے سبب خصومت کرتا ہوں اور تیری طرف فیصلہ لے جاتا ہوں، اس لیے میری اگلی پچھلی خطاؤں کو معاف کر دے، وہ خطائیں بھی جو میں نے خفیہ کی ہیں اور وہ جو برسرعام کی ہیں۔ تو ہی سب سے پہلے ہے اور سب سے بعد میں ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 6317]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7442
حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا تَهَجَّدَ مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ الْحَقُّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ خَاصَمْتُ وَبِكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: قَالَ قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ وَأَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُسٍ قَيَّامُ وَقَالَ مُجَاهِدٌ الْقَيُّومُ الْقَائِمُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَقَرَأَ عُمَرُ الْقَيَّامُ وَكِلَاهُمَا مَدْحٌ.
مجھ سے ثابت بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے سلیمان احول نے بیان کیا، ان سے طاؤس نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت تہجد کی نماز میں یہ دعا کرتے تھے «اللهم ربنا لك الحمد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏أنت قيم السموات والأرض،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ولك الحمد أنت رب السموات والأرض ومن فيهن،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ولك الحمد أنت نور السموات والأرض ومن فيهن،‏‏‏‏ ‏‏‏‏أنت الحق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏وقولك الحق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ووعدك الحق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ولقاؤك الحق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏والجنة حق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏والنار حق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏والساعة حق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏اللهم لك أسلمت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وبك آمنت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏وعليك توكلت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏وإليك خاصمت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏وبك حاكمت،‏‏‏‏ فاغفر لي ما قدمت وما أخرت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏وأسررت وأعلنت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏وما أنت أعلم به مني،‏‏‏‏ ‏‏‏‏لا إله إلا أنت» اے اللہ! اے ہمارے رب! حمد تیرے ہی لیے ہے، تو آسمان و زمین کا تھامنے والا ہے اور ان سب کا جو ان میں ہیں اور تیرے ہی لیے حمد ہے، تو آسمان و زمین کا نور ہے اور ان سب کا جو ان میں ہیں۔ تو سچا ہے، تیرا قول سچا، تیرا وعدہ سچا، تیری ملاقات سچی ہے، جنت سچ ہے، دوزخ سچ ہے، قیامت سچ ہے۔ اے اللہ! میں تیرے سامنے جھکا، تجھ پر ایمان لایا، تجھ پر بھروسہ کیا، تیرے پاس اپنے جھگڑے لے گیا اور تیری ہی مدد سے مقابلہ کیا، پس تو مجھے معاف کر دے، میرے وہ گناہ بھی جو میں پہلے کر چکا ہوں اور وہ بھی جو بعد میں کروں گا اور وہ بھی جو میں نے پوشیدہ طور پر کئے اور وہ بھی جو ظاہر طور پر کیا اور وہ بھی جن میں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ تیرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ قیس بن سعد اور ابو الزبیر نے طاؤس کے حوالہ سے «قيام» بیان کیا اور مجاہد نے «قيوم» کہا یعنی ہر چیز کی نگرانی کرنے والا اور عمر رضی اللہ عنہ نے «قيام» پڑھا اور دونوں ہی مدح کے لیے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7442]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے وقت تہجد کی نماز پڑھتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے حمد و ثنا ہے، تو آسمان و زمین کو تھامنے والا ہے۔ تیرے ہی لیے ساری تعریف ہے۔ تو آسمان و زمین اور جو ان کے درمیان ہے سب کا رب ہے۔ اور تو ہی ہر قسم کی تعریف کا سزاوار ہے۔ تو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کو روشن کرنے والا ہے۔ تو سچا، تیری بات سچی، تیرا وعدہ مبنی بر حقیقت اور تیری ملاقات بھی حقیقت ہے، جنت سچ، دوزخ برحق اور قیامت بھی مبنی بر حقیقت ہے۔ اے اللہ! میں نے تیرے حضور سرِ تسلیم خم کر دیا، میں تجھ پر ایمان لایا اور تجھی پر بھروسا کیا۔ تیرے پاس ہی اپنے جھگڑے لے گیا اور تیری ہی مدد سے میں نے مقابلہ کیا۔ اے اللہ! مجھے معاف کر دے جو میں پہلے کر چکا ہوں اور جو بعد میں کروں گا اور وہ گناہ بھی جو چھپ کر کیے، نیز وہ بھی جو علانیہ کیے اور وہ گناہ بھی جنہیں تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے، تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔ قیس بن سعد اور ابو زبیر نے امام طاؤس رحمہ اللہ کے حوالے سے ( «قَيِّم» کے بجائے) «قِيَام» بیان کیا ہے۔ امام مجاہد رحمہ اللہ نے کہا: «الْقَيُّومُ» وہ ہے جو ہر چیز کی نگرانی کرنے والا ہو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے «قِيَام» پڑھا ہے۔ «قَيُّوم» اور «قِيَام» دونوں مدح کے لیے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7442]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7499
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ، أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا تَهَجَّدَ مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَقَوْلُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ الْحَقُّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ".
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے مجھ کو سلیمان احول نے خبر دی، انہیں طاؤس یمانی نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد پڑھنے اٹھتے تو کہتے «اللهم لك الحمد أنت نور السموات والأرض،‏‏‏‏ ولك الحمد أنت قيم السموات والأرض،‏‏‏‏ ولك الحمد أنت رب السموات والأرض،‏‏‏‏ ومن فيهن أنت الحق،‏‏‏‏ ووعدك الحق وقولك الحق،‏‏‏‏ ولقاؤك الحق،‏‏‏‏ والجنة حق،‏‏‏‏ والنار حق،‏‏‏‏ والنبيون حق،‏‏‏‏ والساعة حق،‏‏‏‏ اللهم لك أسلمت،‏‏‏‏ وبك آمنت،‏‏‏‏ وعليك توكلت،‏‏‏‏ وإليك أنبت،‏‏‏‏ وبك خاصمت،‏‏‏‏ وإليك حاكمت،‏‏‏‏ فاغفر لي ما قدمت وما أخرت،‏‏‏‏ وما أسررت وما أعلنت،‏‏‏‏ أنت إلهي،‏‏‏‏ لا إله إلا أنت» حمد تیرے ہی لیے ہے کہ تو آسمان و زمین کا نور ہے، حمد تیرے ہی لیے ہے کہ تو آسمان و زمین کا تھامنے والا ہے، حمد تیرے ہی لیے ہے کہ تو آسمان و زمین کا اور جو کچھ اس میں ہے سب کا رب ہے۔ تو سچ ہے، تیرا وعدہ سچا ہے اور تیرا قول سچا ہے، تیری ملاقات سچی ہے، جنت سچ ہے اور دوزخ سچ ہے، سارے انبیاء سچے ہیں اور قیامت سچ ہے۔ اے اللہ! میں تیرے سامنے ہی جھکا، تجھ پر ایمان لایا، تجھ پر بھروسہ کیا، تیری ہی طرف رجوع کیا، تیرے ہی سامنے اپنا جھگڑا پیش کرتا اور تجھ ہی سے اپنا فیصلہ چاہتا ہوں، پس تو میری مغفرت کر دے اگلے پچھلے تمام گناہوں کی جو میں نے چھپا کر کئے اور جو ظاہر کئے، تو ہی میرا معبود ہے، تیرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7499]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو تہجد کے لیے اٹھتے تو پڑھتے: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَقَوْلُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ الْحَقُّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» اے اللہ! حمد تیرے ہی لیے ہے۔ تو آسمانوں اور زمین کو روشن کرنے والا ہے، تعریف تیرے ہی لیے ہے۔ تو آسمانوں اور زمین کو کنٹرول کرنے والا ہے۔ حمد تیرے ہی لیے ہے، تو آسمانوں کا، زمین کا اور جو کچھ ان میں ہے سب کا رب ہے۔ تو برحق ہے، تیرا وعدہ سچا ہے، تیرا کلام بھی برحق ہے، تیری ملاقات مبنی برحقیقت ہے، جنت حق ہے اور دوزخ بھی حق ہے، تمام انبیاء سچے ہیں اور قیامت بھی برحق ہے۔ اے اللہ! میں تیرے حضور سرنگوں ہوا، تجھ پر ایمان لایا، میں نے تجھی پر توکل کیا، تیری ہی طرف رجوع کیا۔ میں تیرے ہی سامنے اپنا مقدمہ پیش کرتا ہوں اور تجھی سے اپنا فیصلہ چاہتا ہوں، اس لیے میرے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دے جو میں نے پوشیدہ کیے ہیں اور جو علانیہ کیے ہیں۔ تو ہی میرا معبود ہے اور تیرے سوا کوئی بھی معبودِ برحق نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7499]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں