🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
91. باب رفع البصر إلى الإمام فى الصلاة:
باب: نماز میں امام کی طرف دیکھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 746
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، قَالَ: قُلْنَا لِخَبَّابٍ:" أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْنَا: بِمَ كُنْتُمْ تَعْرِفُونَ ذَاكَ؟ قَالَ: بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے عمارہ بن عمیر سے بیان کیا، انہوں نے (عبداللہ بن مخبرہ) ابومعمر سے، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ صحابی سے پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی رکعتوں میں (فاتحہ کے سوا) اور کچھ قرآت کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں۔ ہم نے عرض کی کہ آپ لوگ یہ بات کس طرح سمجھ جاتے تھے۔ فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک کے ہلنے سے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 746]
حضرت ابومعمر سے روایت ہے کہ ہم نے حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ ظہر اور نمازِ عصر میں کچھ پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ ہم نے پوچھا: آپ لوگ کیسے پہچانتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک کے ہلنے کی وجہ سے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 746]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 760
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، قَالَ:" سَأَلْنَا خَبَّابًا أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، قَالَ: نَعَمْ، قُلْنَا بِأَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تَعْرِفُونَ، قَالَ: بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ".
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا کہ کہا ہم سے میرے والد نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے سلیمان بن مہران اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمارہ بن عمیر نے بیان کیا ابومعمر عبداللہ بن مخبرہ سے، کہا کہ ہم نے خباب بن ارت سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں قرآت کیا کرتے تھے؟ تو انہوں نے بتلایا کہ ہاں، ہم نے پوچھا کہ آپ لوگوں کو کس طرح معلوم ہوتا تھا؟ فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک کے ہلنے سے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 760]
حضرت ابومعمر رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں قرأت کیا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں۔ پھر ہم نے عرض کیا کہ آپ لوگوں کو کیسے معلوم ہوتا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک کی جنبش سے پتہ چلتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 760]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 761
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِخَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ:" أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ بِأَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ قِرَاءَتَهُ، قَالَ: بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ".
ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے اعمش سے، انہوں نے عمارہ بن عمیر سے، انہوں نے ابومعمر سے کہ میں نے خباب بن الارت سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نمازوں میں قرآت کیا کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہاں! میں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت کرنے کو آپ لوگ کس طرح معلوم کر لیتے تھے؟ فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک کے ہلنے سے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 761]
حضرت ابو معمر رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نماز میں قراءت کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ میں نے عرض کیا: آپ حضرات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کا کیسے پتہ چلتا تھا؟ انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک کے حرکت کرنے کی وجہ سے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 761]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 777
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، قُلْتُ لِخَبَّابٍ:" أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْنَا: مِنْ أَيْنَ عَلِمْتَ؟ قَالَ: بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر بن عبدالحمید نے اعمش سے بیان کیا، وہ عمارہ بن عمیر سے، وہ ابومعمر عبداللہ بن مخبرہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں قرآن مجید پڑھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں! ہم نے پوچھا کہ آپ کو معلوم کس طرح ہوتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ریش مبارک کے ہلنے سے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 777]
حضرت ابو معمر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نماز میں قرأت کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ ہم نے دوبارہ عرض کیا کہ آپ کو کیسے پتا چلتا تھا؟ انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک کی جنبش کی وجہ سے ہمیں معلوم ہو جاتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 777]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 860
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ، فَأَكَلَ مِنْهُ، فَقَالَ:" قُومُوا فَلِأُصَلِّيَ بِكُمْ، فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لَبِثَ، فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْيَتِيمُ مَعِي وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ".
ہم سے اسماعیل بن اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ (ان کی ماں) اسحاق کی دادی ملیکہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر بلایا جسے انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بطور ضیافت تیار کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کھایا پھر فرمایا کہ چلو میں تمہیں نماز پڑھا دوں۔ ہمارے یہاں ایک بوریا تھا جو پرانا ہونے کی وجہ سے سیاہ ہو گیا تھا۔ میں نے اسے پانی سے صاف کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور (پیچھے) میرے ساتھ یتیم لڑکا (ضمیرہ بن سعد) کھڑا ہوا۔ میری بوڑھی دادی (ملیکہ ام سلیم) ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 860]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی دادی حضرت ملیکہ رضی اللہ عنہا نے ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے کے لیے بلایا جو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے فارغ ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اٹھو! میں تمہیں نماز پڑھاؤں۔ چنانچہ میں ایک چٹائی لینے کے لیے اٹھا جو دیر تک پڑے رہنے کی وجہ سے سیاہ ہو چکی تھی، میں نے اس پر پانی چھڑکا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر نماز کے لیے کھڑے ہوئے، ایک یتیم بچہ میرے ساتھ اور وہ بڑھیا ہمارے پیچھے تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 860]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 861
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ:" أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى حِمَارٍ أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى إِلَى غَيْرِ جِدَارٍ، فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْتُ وَأَرْسَلْتُ الْأَتَانَ تَرْتَعُ، وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب زہری نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے، آپ نے فرمایا کہ میں ایک گدھی پر سوار ہو کر آیا۔ ابھی میں جوانی کے قریب تھا (لیکن بالغ نہ تھا) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دیوار وغیرہ (آڑ) نہ تھی۔ میں صف کے ایک حصے کے آگے سے گزر کر اترا۔ گدھی چرنے کے لیے چھوڑ دی اور خود صف میں شامل ہو گیا۔ کسی نے مجھ پر اعتراض نہیں کیا (حالانکہ میں نابالغ تھا)۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 861]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں گدھی پر سوار ہو کر آیا جبکہ میں اس وقت قریب البلوغ تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں دیوار کے علاوہ (کسی چیز کی طرف منہ کر کے) لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ میں صف کے ایک حصے سے گزر کر خود صف میں شامل ہو گیا اور گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا۔ اس ساری کارروائی کے متعلق مجھ پر کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 861]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں