صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
50. باب ذكر النبى صلى الله عليه وسلم وروايته عن ربه:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے رب سے روایت کرنا۔
حدیث نمبر: 7540
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ، أَخْبَرَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفَتْحِ، أَوْ مِنْ سُورَةِ الْفَتْحِ، قَالَ: فَرَجَّعَ فِيهَا، قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ مُعَاوِيَةُ يَحْكِي قِرَاءَةَ ابْنِ مُغَفَّلٍ، وَقَالَ: لَوْلَا أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَيْكُمْ لَرَجَّعْتُ كَمَا رَجَّعَ ابْنُ مُغَفَّلٍ يَحْكِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لِمُعَاوِيَةَ: كَيْفَ كَانَ تَرْجِيعُهُ؟، قَالَ: آ آ آ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ".
ہم سے احمد بن ابی سریح نے بیان کیا، کہا ہم کو شبابہ نے خبر دی، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے معاویہ بن قرہ نے، ان سے عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنی ایک اونٹنی پر سوار تھے اور سورۃ الفتح پڑھ رہے تھے یا سورۃ الفتح میں سے کچھ آیات پڑھ رہے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر آپ نے اس میں ترجیع کی۔ شعبہ نے کہا یہ حدیث بیان کر کے معاویہ نے اس طرح آواز دہرا کر قرآت کی جیسے عبداللہ بن مغفل کیا کرتے تھے اور معاویہ نے کہا اگر مجھ کو اس کا خیال نہ ہوتا کہ لوگ تمہارے پاس جمع ہو کر ہجوم کریں گے تو میں اسی طرح آواز دہرا کر قرآت کرتا جس طرح عبداللہ بن مغفل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح آواز دہرانے کو نقل کیا تھا۔ شعبہ نے کہا میں نے معاویہ سے پوچھا ابن مغفل کیوں کر آواز دہراتے تھے؟ انہوں نے کہا آآآ تین تین بار مد کے ساتھ آواز دہراتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7540]
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ”میں نے فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اونٹنی پر سوار دیکھا جبکہ آپ سورہ الفتح یا اس کی کچھ آیات پڑھ رہے تھے۔“ انہوں نے فرمایا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کرتے وقت «تَرْجِیْع» فرمائی۔“ (راویِ حدیث) معاویہ بن قرہ نے حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کی قراءت کی حکایت کرتے ہوئے کہا: ”اگر لوگ تم پر ہجوم نہ کریں تو میں «تَرْجِیْع» کروں جیسے ابن مغفل رضی اللہ عنہ نے «تَرْجِیْع» کی تھی۔“ وہ اس سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نقل کرتے تھے۔ (شعبہ نے کہا:) میں نے معاویہ سے پوچھا کہ ابن مغفل رضی اللہ عنہ کیسی «تَرْجِیْع» کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: «آ، آ، آ» تین بار مد کے ساتھ آواز دہراتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7540]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4281
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ، يَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى نَاقَتِهِ وَهُوَ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفَتْحِ يُرَجِّعُ، وَقَالَ:" لَوْلَا أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ حَوْلِي لَرَجَّعْتُ كَمَا رَجَّعَ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے معاویہ بن قرہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر اپنے اونٹ پر سوار ہیں اور خوش الحانی کے ساتھ سورۃ الفتح کی تلاوت فرما رہے ہیں۔ معاویہ بن قرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر اس کا خطرہ نہ ہوتا کہ لوگ مجھے گھیر لیں گے تو میں بھی اسی طرح تلاوت کر کے دکھاتا جیسے عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے پڑھ کر سنایا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 4281]
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اونٹنی پر سوار دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ﴿سورة الفتح﴾ بڑی خوش الحانی سے پڑھ رہے تھے۔“ راوی کہتا ہے: ”اگر میرے گرد لوگوں کے جمع ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں بھی اسی طرح خوش الحانی کے ساتھ پڑھ کر سناتا جیسے انہوں نے پڑھ کر سنایا تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 4281]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة