Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
101. باب القراءة فى العشاء بالسجدة:
باب: نماز عشاء میں سجدہ کی سورۃ پڑھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 768
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي التَّيْمِيُّ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ الْعَتَمَةَ، فَقَرَأَ: إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ سورة الانشقاق آية 1، فَسَجَدَ فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ؟ قَالَ: سَجَدْتُ بِهَا خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا حَتَّى أَلْقَاهُ".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے تیمی نے ابوبکر سے، انہوں نے ابورافع سے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عشاء پڑھی، آپ نے «إذا السماء انشقت‏» اور سجدہ کیا۔ اس پر میں نے کہا کہ یہ سجدہ کیسا ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ اس سورت میں میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سجدہ کیا تھا۔ اس لیے میں بھی ہمیشہ اس میں سجدہ کروں گا، یہاں تک کہ آپ سے مل جاؤں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 768]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 766
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ الْعَتَمَةَ، فَقَرَأَ: إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ سورة الانشقاق آية 1، فَسَجَدَ فَقُلْتُ لَهُ: قَالَ: سَجَدْتُ خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا حَتَّى أَلْقَاهُ".
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا اپنے باپ سے، انہوں نے بکر بن عبداللہ سے، انہوں نے ابورافع سے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی۔ اس میں آپ نے «إذا السماء انشقت‏» پڑھی اور سجدہ (تلاوت) کیا۔ میں نے ان سے اس کے متعلق معلوم کیا تو بتلایا کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بھی (اس آیت میں تلاوت کا) سجدہ کیا ہے اور زندگی بھر میں اس میں سجدہ کروں گا، یہاں تک کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاؤں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 766]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1074
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ:" رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَرَأَ: إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ سورة الانشقاق آية 1 فَسَجَدَ بِهَا، فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَلَمْ أَرَكَ تَسْجُدُ؟ قَالَ: لَوْ لَمْ أَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ لَمْ أَسْجُدْ".
ہم سے مسلم بن ابراہیم اور معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشام بن ابی عبداللہ دستوائی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے ابوسلمہ نے کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سورۃ «إذا السماء انشقت‏» پڑھتے دیکھا۔ آپ نے اس میں سجدہ کیا میں نے کہا کہ اے ابوہریرہ! کیا میں نے آپ کو سجدہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔ آپ نے کہا کہ اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کرتے نہ دیکھتا تو میں بھی نہ کرتا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 1074]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1078
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي بَكْرٌ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ الْعَتَمَةَ فَقَرَأَ: إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ سورة الانشقاق آية 1 فَسَجَدَ فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ؟ قَالَ: سَجَدْتُ بِهَا خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ فِيهَا حَتَّى أَلْقَاهُ".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے باپ سے سنا کہا کہ ہم سے بکر بن عبداللہ مزنی نے بیان کیا، ان سے ابورافع نے کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز عشاء پڑھی۔ آپ نے «إذا السماء انشقت‏» کی تلاوت کی اور سجدہ کیا۔ میں نے عرض کیا کہ آپ نے یہ کیا کیا؟ انہوں نے اس کا جواب دیا کہ میں نے اس میں ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں سجدہ کیا تھا اور ہمیشہ سجدہ کرتا ہوں گا تاآنکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 1078]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں