🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
117. بَابُ التَّكْبِيرِ إِذَا قَامَ مِنَ السُّجُودِ:
باب: جب سجدہ کر کے کھڑا ہو تو تکبیر کہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 788
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ شَيْخٍ 0بِمَكَّةَ فَكَبَّرَ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً، فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّهُ أَحْمَقُ، فَقَالَ: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ، سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، وَقَالَ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے بیان کیا، وہ عکرمہ سے، کہا کہ میں نے مکہ میں ایک بوڑھے کے پیچھے (ظہر کی) نماز پڑھی۔ انہوں نے (تمام نماز میں) بائیس تکبیریں کہیں۔ اس پر میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ یہ بوڑھا بالکل بے عقل معلوم ہوتا ہے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا تمہاری ماں تمہیں روئے یہ تو ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ اور موسیٰ بن اسماعیل نے یوں بھی بیان کیا کہ ہم سے ابان نے بیان کیا، کہ کہا ہم سے قتادہ نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے عکرمہ نے یہ حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 788]
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے مکہ مکرمہ میں ایک بزرگ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے (اٹھتے، جھکتے وقت) کل بائیس تکبیرات کہیں۔ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: یہ تو بے وقوف ہے۔ اس پر انہوں نے فرمایا: تجھے تیری ماں گم پائے، یہ تو ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ موسیٰ بن اسماعیل نے کہا کہ ہمیں ابان نے حدیث بیان کی، ان سے قتادہ نے، ان سے حضرت عکرمہ رحمہ اللہ نے یہ حدیث بیان کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 788]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 787
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عِكْرِمَة، قَالَ:" رَأَيْتُ رَجُلًا عِنْدَ الْمَقَامِ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ وَإِذَا قَامَ وَإِذَا وَضَعَ، فَأَخْبَرْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَوَلَيْسَ تِلْكَ صَلَاةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أُمَّ لَكَ".
ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ہشیم بن بشیر نے ابوبشر حفص بن ابی وحشیہ سے خبر دی، انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ایک شخص کو مقام ابراہیم میں (نماز پڑھتے ہوئے) دیکھا کہ ہر جھکنے اور اٹھنے پر وہ تکبیر کہتا تھا۔ اسی طرح کھڑے ہوتے وقت اور بیٹھتے وقت بھی۔ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اس کی اطلاع دی۔ آپ نے فرمایا، ارے تیری ماں مرے! کیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سی نماز نہیں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 787]
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ایک آدمی کو مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ وہ جب بھی جھکتا، اٹھتا، کھڑا ہوتا یا بیٹھتا تو تکبیر کہتا۔ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بتایا تو انہوں نے فرمایا: تیری ماں نہ ہو، کیا یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سی نماز نہیں ہے؟ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 787]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں