صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
116. باب إتمام التكبير فى السجود:
باب: سجدے کے وقت بھی پورے طور پر تکبیر کہنا۔
حدیث نمبر: 787
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عِكْرِمَة، قَالَ:" رَأَيْتُ رَجُلًا عِنْدَ الْمَقَامِ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ وَإِذَا قَامَ وَإِذَا وَضَعَ، فَأَخْبَرْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَوَلَيْسَ تِلْكَ صَلَاةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أُمَّ لَكَ".
ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ہشیم بن بشیر نے ابوبشر حفص بن ابی وحشیہ سے خبر دی، انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ایک شخص کو مقام ابراہیم میں (نماز پڑھتے ہوئے) دیکھا کہ ہر جھکنے اور اٹھنے پر وہ تکبیر کہتا تھا۔ اسی طرح کھڑے ہوتے وقت اور بیٹھتے وقت بھی۔ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اس کی اطلاع دی۔ آپ نے فرمایا، ارے تیری ماں مرے! کیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سی نماز نہیں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 787]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
787
| رأيت رجلا عند المقام يكبر في كل خفض ورفع وإذا قام وإذا وضع |
سنن ابن ماجه |
865
| يرفع يديه عند كل تكبيرة |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 787 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 787
حدیث حاشیہ:
یعنی یہ نماز تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے عین مطابق ہے اور تو اس پر تعجب کرتا ہے۔
لا أم لك عرب لوگ زجر و توبیخ کے وقت بولتے ہیں جیسے ثکلتك امک یعنی تیری ماں تجھ پر روئے۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ عکرمہ پر خفا ہوئے کہ تو اب تک نماز کا پورا طریقہ نہیں جانتا اور ابوہریرہ ؓ جیسے فاضل پر انکار کرتا ہے۔
یعنی یہ نماز تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے عین مطابق ہے اور تو اس پر تعجب کرتا ہے۔
لا أم لك عرب لوگ زجر و توبیخ کے وقت بولتے ہیں جیسے ثکلتك امک یعنی تیری ماں تجھ پر روئے۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ عکرمہ پر خفا ہوئے کہ تو اب تک نماز کا پورا طریقہ نہیں جانتا اور ابوہریرہ ؓ جیسے فاضل پر انکار کرتا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 787]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:787
حدیث حاشیہ:
(1)
پہلے بیان ہوا کہ بنو امیہ کے حکمرانوں نے تکبیرات انتقال کو ترک کر دیا تھا یا وہ بالکل آہستہ کہتے تھے، اس لیے محدثین نے تکبیر انتقال کے متعلق عنوان بندی کر کے ان کی حیثیت کو واضح کیا تاکہ یہ سنت کہیں بالکل متروک نہ ہو جائے۔
دوسرا مقصد یہ بھی ہے کہ یہ تکبیرات، انتقال کی ابتدا سے لے کر انتہا تک حاوی ہونی چاہئیں۔
عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ سجدے کے لیے جب اللہ اکبر کہا جاتا ہے تو سجدے میں پہنچنے سے پہلے پہلے ہی اسے ختم کر دیا جاتا ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے تنبیہ فرما دی ہے کہ سجدے میں جاتے وقت پورے طور پر تکبیر کہنی چاہیے، یعنی اللہ اکبر پورے انتقال کو حاوی ہونا چاہیے۔
(2)
حضرت ابن عباس ؓ نے عکرمہ سے کہا کہ تیری ماں نہ رہے اس سے حقیقت مراد نہ تھی اور نہ کوئی بددعا دینا ہی مقصود تھا بلکہ یہ ایک محاورہ ہے جسے عرب لوگ ڈانٹ ڈپٹ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
اس سے حقیقت مراد نہیں ہوتی۔
حضرت ابن عباس ؓ نے اپنے ہونہار شاگرد حضرت عکرمہ کو اس لیے ڈانٹ پلائی کہ اسے اس سنت کا علم نہیں تھا، حالانکہ اس کا تعلق روزمرہ کی نماز سے ہے۔
(1)
پہلے بیان ہوا کہ بنو امیہ کے حکمرانوں نے تکبیرات انتقال کو ترک کر دیا تھا یا وہ بالکل آہستہ کہتے تھے، اس لیے محدثین نے تکبیر انتقال کے متعلق عنوان بندی کر کے ان کی حیثیت کو واضح کیا تاکہ یہ سنت کہیں بالکل متروک نہ ہو جائے۔
دوسرا مقصد یہ بھی ہے کہ یہ تکبیرات، انتقال کی ابتدا سے لے کر انتہا تک حاوی ہونی چاہئیں۔
عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ سجدے کے لیے جب اللہ اکبر کہا جاتا ہے تو سجدے میں پہنچنے سے پہلے پہلے ہی اسے ختم کر دیا جاتا ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے تنبیہ فرما دی ہے کہ سجدے میں جاتے وقت پورے طور پر تکبیر کہنی چاہیے، یعنی اللہ اکبر پورے انتقال کو حاوی ہونا چاہیے۔
(2)
حضرت ابن عباس ؓ نے عکرمہ سے کہا کہ تیری ماں نہ رہے اس سے حقیقت مراد نہ تھی اور نہ کوئی بددعا دینا ہی مقصود تھا بلکہ یہ ایک محاورہ ہے جسے عرب لوگ ڈانٹ ڈپٹ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
اس سے حقیقت مراد نہیں ہوتی۔
حضرت ابن عباس ؓ نے اپنے ہونہار شاگرد حضرت عکرمہ کو اس لیے ڈانٹ پلائی کہ اسے اس سنت کا علم نہیں تھا، حالانکہ اس کا تعلق روزمرہ کی نماز سے ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 787]
Sahih Bukhari Hadith 787 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي