صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. باب المؤذن الواحد يوم الجمعة:
باب: جمعہ کے لیے ایک مؤذن مقرر کرنا۔
حدیث نمبر: 913
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ،" أَنَّ الَّذِي زَادَ التَّأْذِينَ الثَّالِثَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ كَثُرَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ وَلَمْ يَكُنْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنٌ غَيْرَ وَاحِدٍ، وَكَانَ التَّأْذِينُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ حِينَ يَجْلِسُ الْإِمَامُ يَعْنِي عَلَى الْمِنْبَرِ".
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبد العزیز بن ابوسلمہ ماجشون نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے زہری نے بیان کیا، ان سے سائب بن یزید نے کہ جمعہ میں تیسری اذان عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بڑھائی جبکہ مدینہ میں لوگ زیادہ ہو گئے تھے جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ہی مؤذن تھے۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں) جمعہ کی اذان اس وقت دی جاتی جب امام منبر پر بیٹھتا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 913]
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب اہل مدینہ کی آبادی زیادہ ہو گئی تو اس وقت جمعہ کے دن تیسری اذان کا اہتمام کرنے والے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تو ایک ہی مؤذن تھا، اور جمعہ کے دن اس وقت اذان دی جاتی تھی جب امام منبر پر بیٹھ جاتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 913]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 912
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ:" كَانَ النِّدَاءُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوَّلُهُ إِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَثُرَ النَّاسُ زَادَ النِّدَاءَ الثَّالِثَ عَلَى الزَّوْرَاءِ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: الزَّوْرَاءُ مَوْضِعٌ بِالسُّوقِ بِالْمَدِينَةِ.
ہم سے آدم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے زہری کے واسطے سے بیان کیا، ان سے سائب بن یزید نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں جمعہ کی پہلی اذان اس وقت دی جاتی تھی جب امام منبر پر خطبہ کے لیے بیٹھتے لیکن عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جب مسلمانوں کی کثرت ہو گئی تو وہ مقام زوراء سے ایک اور اذان دلوانے لگے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) فرماتے ہیں کہ زوراء مدینہ کے بازار میں ایک جگہ ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 912]
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں جمعے کے دن پہلی اذان اس وقت ہوتی تھی جب امام منبر پر بیٹھ جاتا تھا، لیکن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں جب لوگ زیادہ ہو گئے تو آپ نے مقام «الزَّوْرَاء» پر تیسری اذان کا اضافہ فرما دیا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ «الزَّوْرَاء» مدینہ کے بازار میں واقع ایک جگہ کا نام ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 912]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة