🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب الندب إلى وضع الايدي على الركب في الركوع ونسخ التطبيق:
باب: رکوع میں ہاتھوں کا گھٹنوں پر رکھنا اور تطبیق کا منسوخ ہونا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 534 ترقیم شاملہ: -- 1191
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، وَعَلْقَمَةَ ، قَالَا: أَتَيْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فِي دَارِهِ، فَقَالَ: أَصَلَّى هَؤُلَاءِ خَلْفَكُمْ؟ فَقُلْنَا: لَا، قَالَ: فَقُومُوا فَصَلُّوا، فَلَمْ يَأْمُرْنَا بِأَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، قَالَ: وَذَهَبْنَا لِنَقُومَ خَلْفَهُ، فَأَخَذَ بِأَيْدِينَا، فَجَعَلَ أَحَدَنَا عَنْ يَمِينِهِ وَالآخَرَ عَنْ شِمَالِهِ، قَالَ: فَلَمَّا رَكَعَ، وَضَعْنَا أَيْدِيَنَا عَلَى رُكَبِنَا، قَالَ: فَضَرَبَ أَيْدِيَنَا، وَطَبَّقَ بَيْنَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ أَدْخَلَهُمَا بَيْنَ فَخِذَيْهِ، قَالَ: فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ: " إِنَّهُ سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ، يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مِيقَاتِهَا، وَيَخْنُقُونَهَا إِلَى شَرَقِ الْمَوْتَى، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ قَدْ فَعَلُوا ذَلِكَ، فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِمِيقَاتِهَا، وَاجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ سُبْحَةً، وَإِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً، فَصَلُّوا جَمِيعًا، وَإِذَا كُنْتُمْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، فَلْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ، وَإِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ، فَلْيُفْرِشْ ذِرَاعَيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ، وَلْيَجْنَأْ وَلْيُطَبِّقْ بَيْنَ كَفَّيْهِ "، فَلَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى اخْتِلَافِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرَاهُمْ.
ابومعاویہ نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابراہیم سے اور انہوں نے اسود اور علقمہ سے روایت کی، ان دونوں نے کہا: ہم حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ پوچھنے لگے: جو (حکمران اور ان کے ساتھ تاخیر سے نماز پڑھنے والے ان کے پیروکار) تم سے پیچھے ہیں، انہوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ ہم نے عرض کی: نہیں۔ انہوں نے کہا: اٹھو اور نماز پڑھو۔ انہوں نے ہمیں اذان اور اقامت کہنے کا حکم نہ دیا، ہم ان کے پیچھے کھڑے ہونے لگے تو انہوں نے ہمارے ہاتھ پکڑ کر ایک کو اپنے دائیں اور دوسرے کو اپنے بائیں طرف کر دیا۔ جب انہوں نے رکوع کیا تو ہم نے اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے، انہوں نے ہمارے ہاتھوں پر ہلکا سا مارا اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو جوڑ کر اپنی دونوں رانوں کے درمیان رکھ لیا۔ انہوں نے جب نماز پڑھ لی تو کہا: یقیناً آیندہ تمہارے ایسے حکمران ہوں گے جو نمازوں کو ان کے اوقات سے مؤخر کریں گے اور ان کے اوقات کو مرنے والوں کی آخری جھلملاہٹ کی طرح تنگ کر دیں گے۔ جب تم ان کو دیکھو کہ انہوں نے یہ (کام شروع) کر لیا ہے تو تم (ہر) نماز اس کے وقت پر پڑھ لینا اور ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لینا۔ اور جب تم تین آدمی ہو تو اکٹھے کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور جب تم تین سے زیادہ ہو تو تم میں سے ایک امام بن جائے اور جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو اپنے بازو اپنی رانوں پر پھیلا دے اور جھکے اور اپنی ہتھیلیاں جوڑ لے، (ایسا لگتا ہے) جیسے میں (اب بھی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (ایک دوسری میں) پیوستہ انگلیوں کو دیکھ رہا ہوں۔ اور (انگلیاں پیوست کر کے) انہیں دکھائیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1191]
حضرت اسود اور علقمہ رحمتہ اللّٰہ علیہ سے روایت ہے کہ ہم عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر، ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے پوچھا، کیا ان لوگوں نے جن کو تم پیچھے چھوڑ آئے ہو (حکمران اور ان کے اتباع) نماز پڑھ لی ہے؟ ہم نے عرض کیا، نہیں، انہوں نے کہا، اٹھو اور نماز پڑھو تو انہوں نے ہمیں اذان اور اقامت کہنے کا حکم نہ دیا۔ اور ہم ان کے پیچھے کھڑے ہونے لگے تو انہوں نے ہمارے ہاتھ پکڑ کر ایک کو دائیں اور دوسرے کو اپنے بائیں کردیا۔ جب انہوں نے رکوع کیا تو ہم نے اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے، انہوں نے ہمارے ہاتھوں پر مارا اور اپنی ہتھیلیوں کو جوڑا پھر ان کو اپنی دونوں رانوں کے درمیان رکھ لیا، جب نماز سے فارغ ہوئے تو کہا، عنقریب تمہارے امیر ایسے ہوں گے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے اور ان کے وقت کو بہت تنگ کر دیں گے، جب تم ان کو دیکھو کہ انہوں نے ایسا کرنا شروع کر دیا ہے تو تم نماز اس کے وقت پر پڑھ لینا اور ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفلی بنا لینا اور جب تم تین آدمی ہو تو اکٹھے کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور جب تم تین سے زیادہ ہو تو تم میں ایک امام بن جائے اور جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو اپنے بازؤں کو اپنی رانوں پر پھیلا دے اور جھکے اور اپنی ہتھیلیاں جوڑ لے گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے اختلاف کو دیکھ رہا ہوں اور ان کو دکھایا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1191]
ترقیم فوادعبدالباقی: 534
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 534 ترقیم شاملہ: -- 1192
وحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، ح، قَالَ: وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ كُلُّهُمْ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالأَسْوَدِ ، أنهما دخلا على عبد الله ، بمعنى حديث أبي معاوية، وفي حديث ابن مسهر، وجرير، فلكأني أنظر إلى اختلاف أصابع رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ رَاكِعٌ.
علی بن مسہر، جریر اور مفضل نے مختلف سندوں کے ساتھ اعمش سے، انہوں نے ابراہیم سے اور انہوں نے علقمہ اور اسود سے روایت کی کہ وہ دونوں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے (آگے ابومعاویہ کی روایت کے ہم معنی روایت بیان کی)، البتہ ابن مسہر اور جریر کی روایت میں (آخری حصہ) اس طرح ہے، جیسے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالف جانب آئی ہوئی (ایک دوسری میں پیوست) انگلیاں دیکھ رہا ہوں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کی حالت میں ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1192]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ سے بیان کرتے ہیں حضرت علقمہ اور اسود سے روایت ہے کہ ہم عبداللّٰہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ ابن مسہر اور جریر کی روایت میں ہے گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے اختلاف (انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کرنا) کو دیکھ رہا ہوں اور اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1192]
ترقیم فوادعبدالباقی: 534
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 534 ترقیم شاملہ: -- 1193
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ وَالأَسْوَدِ ، أنهما دخلا على عبد الله ، فقال: " أَصَلَّى مَنْ خَلْفَكُمْ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَامَ بَيْنَهُمَا، وَجَعَلَ أَحَدَهُمَا عَنْ يَمِينِهِ وَالآخَرَ عَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ رَكَعْنَا، فَوَضَعْنَا أَيْدِيَنَا عَلَى رُكَبِنَا، فَضَرَبَ أَيْدِيَنَا، ثُمَّ طَبَّقَ بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ جَعَلَهُمَا بَيْنَ فَخِذَيْهِ "، فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ: هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
منصور نے ابراہیم سے اور انہوں نے علقمہ اور اسود سے روایت کی کہ وہ دونوں حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کے ہاں حاضر ہوئے تو انہوں نے پوچھا: جو تمہارے پیچھے ہیں، انہوں نے نماز پڑھ لی؟ دونوں نے کہا: جی ہاں۔ پھر وہ دونوں کے درمیان کھڑے ہوئے، ان میں سے ایک کو اپنی دائیں طرف اور دوسرے کو اپنی بائیں طرف (کھڑا) کیا، پھر ہم نے رکوع کیا تو ہم نے اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے، انہوں نے ہمارے ہاتھوں پر (ہلکا سا) مارا، پھر اپنے دونوں ہاتھ جوڑ لیے اور ان کو اپنی رانوں کے درمیان رکھا، جب نماز پڑھ چکے تو کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1193]
حضرت علقمہ اور اسود سے روایت ہے کہ وہ دونوں عبداللّٰہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے پوچھا، کیا تمہارے پیچھے لوگ نماز پڑھ چکے ہیں؟ دونوں نے کہا، ہاں تو وہ ان کے درمیان کھڑے ہوگئے، ایک کو اپنے دائیں کر لیا اور دوسرے کو بائیں، پھر ہم نے رکوع کیا اور اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پہ رکھے تو انہوں نے ہمارے ہاتھوں پر مارا اور پھر اپنے ہاتھوں کو جوڑ لیا، پھر ان کو اپنی رانوں کے درمیان کر لیا جب نماز سے فارغ ہوئے تو کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1193]
ترقیم فوادعبدالباقی: 534
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں