صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
21. باب صفة الجلوس في الصلاة وكيفية وضع اليدين على الفخذين:
باب: نماز میں بیٹھنے اور دونوں رانوں پر دونوں ہاتھ رکھنے کی کیفیت۔
ترقیم عبدالباقی: 579 ترقیم شاملہ: -- 1307
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا قَعَدَ فِي الصَّلَاةِ، جَعَلَ قَدَمَهُ الْيُسْرَى بَيْنَ فَخِذِهِ وَسَاقِهِ، وَفَرَشَ قَدَمَهُ الْيُمْنَى، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ ".
عثمان بن حکم نے کہا: عامر بن عبداللہ بن زبیر نے اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے مجھے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو اپنا بایاں پاؤں اپنی ران اور اپنی پنڈلی کے درمیان کر لیتے اور اپنا دایاں پاؤں بچھا لیتے اور اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں گٹھنے پر اور اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھ لیتے اور اپنی انگلی سے اشارہ کر لیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1307]
عامر بن عبداللہ بن زبیر رحمتہ اللہ علیہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو اپنے بائیں پیر کو اپنی ران اور اپنی پنڈلی کے درمیان کر لیتے اور دائیں پاؤں کو بچھا لیتے اور اپنا بایاں ہاتھ، اپنے بائیں گٹھنے پر رکھ لیتے اور اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھ لیتے اور انگلی سے اشارہ کرتے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1307]
ترقیم فوادعبدالباقی: 579
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 579 ترقیم شاملہ: -- 1308
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ . ح قَالَ: وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظ لَهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَن ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا قَعَدَ يَدْعُو، وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَيَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ، وَوَضَعَ إِبْهَامَهُ عَلَى إِصْبَعِهِ الْوُسْطَى، وَيُلْقِمُ كَفَّهُ الْيُسْرَى رُكْبَتَهُ ".
ابن عجلان نے عامر بن عبداللہ بن زبیر سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب (نماز میں) بیٹھ کر دعا کرتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر اور اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے اور اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے اور اپنا انگوٹھا اپنی درمیانی انگلی پر رکھتے اور بائیں گٹھنے کو اپنی بائیں ہتھیلی کے اندر لے لیتے (پکڑ لیتے۔) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1308]
حضرت عامر بن عبداللہ بن زبیر رحمتہ اللہ علیہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب (نماز میں) بیٹھتے تو دعا کرتے وقت اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھتے اور اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے اور اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے اور اپنا انگوٹھا اپنی درمیانی انگلی پر رکھتے اور اپنے بائیں ہاتھ میں اپنے گٹھنے کو پکڑ لیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1308]
ترقیم فوادعبدالباقی: 579
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة