صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب الدليل على صحة إسلام من حضره الموت ما لم يشرع في النزع وهو الغرغرة ونسخ جواز الاستغفار للمشركين والدليل على ان من مات على الشرك فهو في اصحاب الجحيم ولا ينقذه من ذلك شيء من الوسائل
باب: بیان اس بات کا کہ جو شخص مرتے وقت مسلمان ہو تو اس کا اسلام صحیح ہے جب تک حالت نزع نہ ہو یعنی جان کنی نہ شروع ہو اور مشرکین کے لیے دعا کرنا منع ہے اور جو شرک پر مرے گا وہ جہنمی ہے کوئی وسیلہ اس کے کام نہ آئے گا۔
ترقیم عبدالباقی: 24 ترقیم شاملہ: -- 132
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ، جَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبَا جَهْلٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَمِّ، " قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، كَلِمَةً أَشْهَدُ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ "، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ: يَا أَبَا طَالِبٍ، أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْرِضُهَا عَلَيْهِ، وَيُعِيدُ لَهُ تِلْكَ الْمَقَالَةَ، حَتَّى قَالَ أَبُو طَالِبٍ آخِرَ مَا كَلَّمَهُمْ هُوَ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَأَبَى، أَنْ يَقُولَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا وَاللَّهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ سورة التوبة آية 113 وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ سورة القصص آية 56.
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ جب ابوطالب کی موت کا وقت آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے۔ آپ نے ان کے پاس ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ کو موجود پایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چچا! ایک کلمہ «لا إله إلا الله» کہہ دیں، میں اللہ کے ہاں آپ کے حق میں اس کا گواہ بن جاؤں گا۔“ ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ نے کہا: ابوطالب! آپ عبدالمطلب کے دین کو چھوڑ دیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل ان کو یہی پیش کش کرتے رہے اور یہی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ ابوطالب نے ان لوگوں سے آخری بات کرتے ہوئے کہا: ”وہ عبدالمطلب کی ملت پر (قائم) ہیں“ اور «لا إله إلا الله» کہنے سے انکار کر دیا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں آپ کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا کرتا رہوں گا جب تک کہ مجھے آپ (کے حوالے) سے روک نہ دیا جائے۔“ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ» ”نبی اور ایمان لانے والوں کے لیے جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا کریں، خواہ وہ ان کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں جبکہ ان کے سامنے واضح ہو چکا کہ وہ (مشرکین) جہنمی ہیں۔“ اللہ تعالیٰ نے ابوطالب کے بارے میں یہ آیت بھی نازل فرمائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا: «إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ» ”(اے نبی!) بے شک آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے لیکن اللہ جس کو چاہے ہدایت دے دیتا ہے اور وہ سیدھی راہ پانے والوں کے بارے میں زیادہ آگاہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 132]
سعید بن المسیب رحمہ اللہ نے اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ جب ابو طالب کی وفات کا وقت آ پہنچا تو اس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ ابو طالب کے پاس ابو جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ بھی موجود تھے، سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے چچا! ایک بار «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کہو، میں تمہارے حق میں اللہ کے ہاں اس کے سبب تمہارے (ایمان کی) گواہی دوں گا۔“ ابو جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ نے کہا: اے ابو طالب! کیا تم اپنے باپ عبدالمطلب کی ملت سے اعراض کرو گے (چھوڑ دو گے)؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل اس کو کلمہ پیش کرتے رہے اور اپنی بات دہراتے رہے۔ یہاں تک کہ ابو طالب نے جو آخری بات ان سے کی وہ یہ تھی ”وہ عبدالمطلب کی ملت پر قائم ہے۔“ اور «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کہنے سے انکار کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اللہ کی قسم! میں تیرے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا کرتا رہوں گا جب تک مجھے اس سے روک نہ دیا جائے۔“ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿نبی اور مسلمانوں کے لیے مشرکین کی مغفرت کی دعا کرنا جائز نہیں ہے، خواہ ان کے رشتے دار ہی کیوں نہ ہوں، جب کہ ان کے سامنے ان کا جہنمی ہونا واضح ہو چکا ہے﴾ [سورة التوبة: 113] اور اللہ تعالیٰ نے ابو طالب کے بارے میں یہ آیت بھی اتاری اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب فرمایا: ﴿ہر وہ شخص جس کو آپ چاہیں، آپ اسے راہِ راست پر نہیں لا سکتے، لیکن اللہ تعالیٰ جس کو چاہے راہِ راست پر لے آتا ہے اور وہ راہ یاب ہونے والوں کو خوب جانتا ہے﴾ [سورة القصص: 56] [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 132]
ترقیم فوادعبدالباقی: 24
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) فى الجنائز، باب: اذا قال المشرك عند الموت: لا اله الا الله برقم (1360) وفى فضائل الصحابة، باب: قصة ابو طالب برقم (4884) وفى التفسير، باب: ﴿ مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ ﴾ برقم (4675) وباب: ﴿ إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ ﴾ برقم (4772) وفي الايمان والنذور باب: اذا قال والله لا اتكلم اليوم فصلى اوفرا، او سبح، اكبر، او حمد، او هلل فهو على نيته برقم (6681) - والنسائي فى ((المجتبى من السنن)) 90/4 فى الجنائز، باب النهي عن الاستغفار للمشركين۔»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 24 ترقیم شاملہ: -- 133
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَر . ح وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ كِلَاهُمَا، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ صَالِحٍ انْتَهَى عِنْدَ قَوْلِهِ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ، وَلَمْ يَذْكُرِ الآيَتَيْنِ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ وَيَعُودَانِ فِي تِلْكَ الْمَقَالَةِ، وَفِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ مَكَانَ هَذِهِ الْكَلِمَةِ: فَلَمْ يَزَالَا بِهِ.
معمر اور صالح، دونوں نے زہری سے ان کی سابقہ سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی، فرق یہ ہے کہ صالح کی روایت: «فأنزل الله فيه» ”اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آیت اتاری“ پر ختم ہو گئی، انہوں نے دو آیتیں بیان نہیں کیں۔ انہوں نے اپنی حدیث میں یہ بھی کہا کہ وہ دونوں (ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ) یہی بات دہراتے رہے۔ معمر کی روایت میں المقالۃ (بات) کے بجائے الکلمۃ (کلمہ) ہے، وہ دونوں ان کے ساتھ لگے رہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 133]
معمر رحمہ اللہ اور صالح رحمہ اللہ زہری سے اوپر والی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، فرق یہ ہے کہ صالح رحمہ اللہ کی روایت: «فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ» ”پس اللہ عزوجل نے اس کے بارے میں (آیت) نازل فرمائی“ پر ختم ہو گئی اور انہوں نے دونوں آیتوں کو بیان نہیں کیا، اور اپنی حدیث میں یہ بھی کہا کہ وہ دونوں (ابو جہل اور عبداللہ بن امیہ) اپنی بات دہراتے رہے، اور معمر رحمہ اللہ کی روایت میں اس کی بجائے یہ ہے: ”وہ دونوں برابر اس کے پاس رہے یا بات دہراتے رہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 133]
ترقیم فوادعبدالباقی: 24
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (131)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة