🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. باب استحباب الذكر بعد الصلاة وبيان صفته:
باب: نماز کے بعد کیا ذکر کرنا چاہئیے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 595 ترقیم شاملہ: -- 1347
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ كِلَاهُمَا، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَهَذَا حَدِيثُ قُتَيْبَةَ، أَنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ، أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلَى، وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ، فَقَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالُوا: يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ، وَيَتَصَدَّقُونَ وَلَا نَتَصَدَّقُ، وَيُعْتِقُونَ وَلَا نُعْتِقُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفَلَا أُعَلِّمُكُمْ شَيْئًا تُدْرِكُونَ بِهِ مَنْ سَبَقَكُمْ، وَتَسْبِقُونَ بِهِ مَنْ بَعْدَكُمْ، وَلَا يَكُونُ أَحَدٌ أَفْضَلَ مِنْكُمْ، إِلَّا مَنْ صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُمْ؟ " قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: " تُسَبِّحُونَ، وَتُكَبِّرُونَ، وَتَحْمَدُونَ، دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ، ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ مَرَّةً "، قَالَ أَبُو صَالِحٍ: فَرَجَعَ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ، إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: سَمِعَ إِخْوَانُنَا أَهْلُ الأَمْوَالِ بِمَا فَعَلْنَا، فَفَعَلُوا مِثْلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ، يُؤْتِهِ مَنْ يَشَاءُ، وَزَادَ غَيْرُ قُتَيْبَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، قَالَ: سُمَيٌّ، فَحَدَّثْتُ بَعْضَ أَهْلِي هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ: وَهِمْتَ، إِنَّمَا قَالَ: " تُسَبِّحُ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدُ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتُكَبِّرُ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ "، فَرَجَعْتُ إِلَى أَبِي صَالِحٍ، فَقُلْتُ لَهُ ذَلِكَ، فَأَخَذَ بِيَدِي، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، حَتَّى تَبْلُغَ مِنْ جَمِيعِهِنَّ ثَلَاثَةً وَثَلَاثِينَ، قَالَ ابْنُ عَجْلَانَ : فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، رَجَاءَ بْنَ حَيْوَةَ ، فَحَدَّثَنِي بِمِثْلِهِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عاصم بن نضر تیمی نے کہا: ہمیں معتمر نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں عبیداللہ نے حدیث سنائی، نیز (ایک اور سند سے) قتیبہ بن سعید نے کہا: ہمیں لیث نے ابن عجلان سے حدیث سنائی، ان دونوں (عبیداللہ اور ابن عجلان) نے سمی سے، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی (یہ قتیبہ کی روایت کردہ حدیث ہے) کہ کچھ تنگدست مہاجر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گزارش کی: بلند درجے اور دائمی نعمت تو زیادہ مال والے لوگ لے گئے! آپ نے پوچھا: وہ کیسے؟ انہوں نے کہا: وہ اسی طرح نمازیں پڑھتے ہیں جس طرح ہم پڑھتے ہیں، وہ اسی طرح روزے رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں اور وہ صدقہ کرتے ہیں جبکہ ہم صدقہ نہیں کر سکتے، وہ (بندھوں اور غلاموں کو) آزاد کرتے ہیں جبکہ ہم آزاد نہیں کر سکتے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو کیا پھر میں تمہیں ایسی چیز نہ سکھاؤں جس سے تم ان لوگوں کو پالو گے جو تم سے سبقت لے گئے ہیں اور اس کے ذریعے سے ان سے بھی سبقت لے جاؤ گے جو تم سے بعد (آنے والے) ہیں؟ اور تم سے وہی افضل ہو گا جو تمہاری طرح عمل کرے گا۔ انہوں نے کہا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! (ضرور بتائیں۔) آپ نے فرمایا: تم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ تسبیح، تکبیر اور تحمید (سبحان اللہ، اللہ اکبر، اور الحمد للہ) کا ورد کیا کرو۔ ابوصالح نے کہا: فقرائے مہاجرین دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے: ہمارے مالدار بھائیوں نے بھی جو ہم کرتے ہیں اس کے بارے میں سن لیا ہے اور اسی طرح عمل کرنا شروع کر دیا ہے (وہ بھی تسبیح، تکبیر اور تحمید کرنے لگے ہیں۔) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عنایت فرما دے۔ قتیبہ کے علاوہ لیث سے ابن عجلان کے حوالے سے دیگر روایت کرنے والوں نے یہ اضافہ کیا کہ سمی نے کہا: میں نے یہ حدیث اپنے گھر کے ایک فرد کو سنائی تو انہوں نے کہا: تمہیں وہم ہوا ہے، انہوں (ابوصالح) نے تو کہا تھا: تینتیس مرتبہ سبحان اللہ کہو، تینتیس بار الحمد للہ کہو اور تینتیس بار اللہ اکبر کہو۔ میں دوبارہ ابوصالح کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں یہ بتایا تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا: اللہ اکبر، سبحان اللہ اور الحمد للہ، اللہ اکبر، سبحان اللہ اور الحمد للہ (اس طرح کہو) کہ سب کی تعداد تینتیس ہو جائے۔ ابن عجلان نے کہا: میں نے یہ حدیث رجاء بن حیوہ کو سنائی تو انہوں نے مجھے ابوصالح کے واسطے سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (روایت کرتے ہوئے) اسی کی مانند حدیث سنائی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1347]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ تنگدست مہاجرین، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گزارش کہ مالدار بلند درجات اور سدا بہار نعمتیں لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کیسے؟ انہوں نے کہا، وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں، وہ روزے رکھتے ہیں، جیسے ہم روزے رکھتے ہیں اور وہ صدقہ کرتے ہیں، ہم صدقہ نہیں کرسکتے، وہ آزادی دیتے ہیں، ہم آزاد نہیں کر سکتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ سکھاؤں جس سے تم اپنے سے سبقت لے جانے والوں کو پہنچ جاؤ اور اس کے سبب اپنے بعد والوں سے سبقت لے جاؤ؟ اور تم سے کوئی افضل نہ ہو مگر وہ جو تمہاری طرح کا عمل کرے۔ انہوں نے کہا، کیوں نہیں (ضرور بتلائیں) اے اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم تینتیس مرتبہ ہر نماز کے بعد سُبْحَانَ اللّٰہ، اَللُّٰہُ اَکْبَر اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہو، ابو صالح بیان کرتے ہیں، محتاج مہاجرین دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا، ہمارے مالدار بھائیوں نے ہمارے عمل کو سن کر، ہماری طرح عمل شروع کر دیا ہے۔ (وہ بھی تسبیح، تکبیر تحمید کرنے لگے ہیں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یہ اللّٰہ کا فضل ہے جسے چاہے عنایت فرما دے) قتیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سوا کسی اور نے لیث سے ابن عجلان کے واسطہ سے سَمَیّ سے بیان کیا، میں نے یہ حدیث اپنے گھر کے کسی فرد کو سنائی تو اس نے کہا تم بھول گئے ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا تھا، تینتیس مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہ کہو تینتیس بار اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہو اور تینتیس بار اَللُّٰہ اَکْبَر کہو تو میں دوبارہ ابوصالح کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسے یہ بتایا تو اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا، اَللُّٰہ اَکْبَر، سُبْحَانَ اللِّٰہ اور اَلْحَمْدُ لِلِّٰہ، اَللّٰہُ اَکْبَر، سُبْحَانَ اللّٰہ اَلْحَمْد لِلّٰہ اس طرح کل تینتیس ہو جائے ابن عجلان کہتے ہیں، میں نے یہ حدیث رجاء بن حیوہ کو سنائی تو اس نے مجھے اس طرح ابو صالح کے واسطہ سے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سنائی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1347]
ترقیم فوادعبدالباقی: 595
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 595 ترقیم شاملہ: -- 1348
وحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلَى، وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ، إِلَّا أَنَّهُ أَدْرَجَ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَوْلَ أَبِي صَالِحٍ: ثُمَّ رَجَعَ فُقَرَاءُ المهاجرين 61، إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ، يَقُولُ سُهَيْلٌ: إِحْدَى عَشْرَةَ، إِحْدَى عَشْرَةَ، فَجَمِيعُ ذَلِكَ كُلِّهِ ثَلَاثَةٌ وَثَلَاثُونَ.
امیہ بن بسطام عیشی نے مجھے حدیث سنائی، کہا: ہمیں یزید بن زریع نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں روح نے سہیل سے حدیث سنائی، انہوں نے اپنے والد (ابوصالح) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بلند مراتب اور دائمی نعمتیں تو زیادہ مال والے لوگ لے گئے (جس طرح لیث سے قتیبہ کی بیان کی ہوئی حدیث ہے، مگر انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ابوصالح کا یہ قول داخل کر دیا ہے کہ پھر فقراء مہاجرین لوٹ کر آئے، حدیث کے آخر تک۔ اور حدیث میں اس بات کا اضافہ کیا: سہیل کہتے تھے: (ہر کلمہ) گیارہ گیارہ دفعہ اور یہ سب ملا کر تینتیس بار (یہ سہیل کا اپنا فہم تھا۔)) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1348]
سہیل اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا، اے اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! سرمایہ دار، بلند مراتب اور دائمی نعمتیں لے گئے، جیسا کہ قتیبہ کی لیث سے روایت ہے، مگر اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں ابو صالح کا یہ قول داخل کر دیا ہے کہ پھر فُقَرَاءُ الْمُھَاجِرِیْن لوٹ کر آئے آخر حدیث تک اور حدیث میں یہ اضافہ کیا، سہیل نےکہا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ کلمہ گیارہ گیارہ دفعہ اور یہ سب ملا کر مجموعی طور پر تینتیس بار۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1348]
ترقیم فوادعبدالباقی: 595
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں