صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
31. باب اوقات الصلوات الخمس:
باب: پنجگانہ اوقات نماز کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 614 ترقیم شاملہ: -- 1393
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا بَدْرُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ أَتَاهُ سَائِلٌ، يَسْأَلُهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا، قَالَ: " فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ، وَالنَّاسُ لَا يَكَادُ يَعْرِفُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، ثُمَّ أَمَرَهُ، فَأَقَامَ بِالظُّهْرِ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ، وَالْقَائِلُ، يَقُولُ: قَدِ انْتَصَفَ النَّهَارُ، وَهُوَ كَانَ أَعْلَمَ مِنْهُمْ، ثُمَّ أَمَرَهُ، فَأَقَامَ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ، فَأَقَامَ بِالْمَغْرِبِ حِينَ وَقَعَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَمَرَهُ، فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَخَّرَ الْفَجْرَ مِنَ الْغَدِ حَتَّى انْصَرَفَ مِنْهَا، وَالْقَائِلُ يَقُولُ: قَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَوْ كَادَتْ، ثُمَّ أَخَّرَ الظُّهْرَ، حَتَّى كَانَ قَرِيبًا مِنْ وَقْتِ الْعَصْرِ بِالأَمْسِ، ثُمَّ أَخَّرَ الْعَصْرَ، حَتَّى انْصَرَفَ مِنْهَا، وَالْقَائِلُ يَقُولُ: قَدِ احْمَرَّتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى كَانَ عِنْدَ سُقُوطِ الشَّفَقِ، ثُمَّ أَخَّرَ الْعِشَاءَ حَتَّى كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الأَوَّلِ، ثُمَّ أَصْبَحَ فَدَعَا السَّائِلَ، فَقَالَ: الْوَقْتُ بَيْنَ هَذَيْنِ ".
محمد بن عبداللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث سنائی (کہا:) میرے والد نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں بدر بن عثمان نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں ابوبکر بن ابی موسیٰ نے اپنے والد سے حدیث سنائی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ کے پاس ایک سائل نمازوں کے اوقات پوچھنے کے لیے حاضر ہوا تو آپ نے اسے (زبانی) کچھ جواب نہ دیا۔ کہا: جب فجر کی پھوٹ پھوٹی تو آپ نے فجر کی نماز پڑھائی جبکہ لوگ (اندھیرے کی وجہ سے) ایک دوسرے کو پہچان نہیں پا رہے تھے، پھر جب سورج ڈھلا تو آپ نے انہیں (بلال رضی اللہ عنہ کو) حکم دیا اور انہوں نے ظہر کی اقامت کہی جبکہ سورج ابھی بلند تھا، پھر آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے عصر کے لیے اقامت کہی، پھر جب سورج نیچے چلا گیا تو آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی اقامت کہی، پھر جب شفق غائب ہوئی تو آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے عشاء کی اقامت کہی، پھر اگلے دن فجر میں تاخیر کی، یہاں تک کہ اس وقت سے فارغ ہوئے جب کہنے والا کہے: سورج نکل آیا ہے یا نکلنے کو ہے، پھر ظہر کو مؤخر کیا حتی کہ گزشتہ کل کی عصر کے قریب کا وقت ہو گیا، پھر عصر کو مؤخر کیا کہ جب سلام پھیرا تو کہنے والا کہے: آفتاب میں سرخی آگئی ہے، پھر مغرب کو مؤخر کیا حتی کہ شفق غروب ہونے کے قریب ہوئی، پھر عشاء کو مؤخر کیا حتی کہ رات کی پہلی تہائی ہو گئی، پھر صبح ہوئی تو آپ نے سائل کو بلوایا اور فرمایا: ”(نماز کا) وقت ان دونوں (وقتوں) کے درمیان ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1393]
حضرت ابوبکر بن ابی موسیٰ رحمہ اللہ اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سائل نمازوں کے اوقات پوچھنے کے لیے حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زبانی کوئی جواب نہیں دیا، فجر پھوٹنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز کھڑی کی، جبکہ لوگ (تاریکی کی بنا پر) ایک دوسرے کو پہچان نہیں رہے تھے، پھر جب سورج ڈھل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ظہر کھڑی کرنے کا حکم دیا، کہنے والا کہہ رہا تھا: ”آدھا دن گزر گیا ہے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ان سے زیادہ جانتے تھے، سورج ابھی بلند تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کا حکم دیا اور عصر کی نماز ادا کی، پھر جب شفق غروب ہو گئی تو اسے حکم دیا اور عشاء کی نماز پڑھی، پھر اگلے دن فجر میں تاخیر کی اور کہنے والا کہہ رہا تھا: ”سورج نکل آیا ہے یا نکلنے کو ہے“، پھر ظہر کو مؤخر کیا حتیٰ کہ گزشتہ کل کی عصر کے قریب وقت ہو گیا، پھر عصر کو مؤخر کیا، حتیٰ کہ سلام پھیرا تو کہنے والا کہہ رہا تھا: ”آفتاب سرخ ہو گیا“، پھر مغرب کو مؤخر کیا حتیٰ کہ شفق غروب ہونے کے قریب ہو گئی، پھر عشاء کو مؤخر کیا حتیٰ کہ رات کا پہلا تہائی ہو گیا، پھر صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سائل کو بلوایا اور فرمایا: ”نماز کا وقت ان دونوں اوقات کے درمیان ہے“۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1393]
ترقیم فوادعبدالباقی: 614
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 614 ترقیم شاملہ: -- 1394
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَة ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى سَمِعَهُ مِنْ عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ سَائِلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي.
وکیع نے بدر بن عثمان سے روایت کی، انہوں نے ابوبکر بن ابی موسیٰ سے سن کر یہ حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ ایک سائل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ سے نمازوں کے اوقات کے بارے میں سوال کیا (آگے ابن نمیر کی روایت کی طرح ہے، سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا: دوسرے دن آپ نے مغرب کی نماز شفق غائب ہونے سے پہلے پڑھی۔) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1394]
حضرت ابو بکر بن ابی موسیٰ رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ”ایک سائل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازوں کے اوقات کے بارے میں سوال کیا، پھر مذکورہ بالا روایت بیان کی، ہاں یہ کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے دن مغرب کی نماز شفق کے غروب ہونے سے پہلے پڑھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1394]
ترقیم فوادعبدالباقی: 614
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة