صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
5. باب جواز الجمع بين الصلاتين في السفر:
باب: سفر میں نمازوں کے جمع کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 704 ترقیم شاملہ: -- 1625
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ، أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ، ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا، فَإِنْ زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ، صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ رَكِبَ ".
مفضل بن فضالہ نے عقیل سے، انہوں نے ابن شہاب سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو اس وقت تک موخر فرماتے کہ عصر کا وقت ہو جاتا، پھر آپ (سواری سے) اترتے، دونوں نمازوں کو جمع کرتے، اور اگر آپ کے کوچ کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو ظہر پڑھ کر سوار ہوتے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1625]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کر لیتے تو ظہر کو عصر کے وقت تک مؤخر فرماتے، پھر (سواری سے) اتر کر دونوں کو جمع کر لیتے، پس اگر سورج آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کوچ کرنے سے پہلے ڈھل جاتا تو ظہر پڑھ کر سوار ہو جاتے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1625]
ترقیم فوادعبدالباقی: 704
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 704 ترقیم شاملہ: -- 1626
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ الْمَدَايِنِيُّ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " إِذَا أَرَادَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ، أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَدْخُلَ أَوَّلُ وَقْتِ الْعَصْرِ، ثُمَّ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا ".
لیث بن سعد نے عقیل بن خالد سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں جب دو نمازوں کو جمع کرنا چاہتے تو ظہر کو موخر کرتے حتیٰ کہ عصر کا اول وقت ہو جاتا، پھر آپ دونوں نمازوں کو جمع کرتے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1626]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں جب دو نمازوں کو جمع کرنا چاہتے تو ”ظہر کو مؤخر کرتے حتی کہ عصر کا اول وقت ہو جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں نمازوں کو جمع کر لیتے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1626]
ترقیم فوادعبدالباقی: 704
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 704 ترقیم شاملہ: -- 1627
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " إِذَا عَجِلَ عَلَيْهِ السَّفَرُ، يُؤَخِّرُ الظُّهْرَ إِلَى أَوَّلِ وَقْتِ الْعَصْرِ، فَيَجْمَعُ بَيْنَهُمَا، وَيُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ، حِينَ يَغِيبُ الشَّفَقُ ".
جابر بن اسماعیل نے بھی عقیل بن خالد سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب سفر میں جلدی ہوتی تو ظہر کو عصر کے اول وقت تک موخر کر دیتے، پھر دونوں کو جمع کر لیتے اور مغرب کو موخر کرتے اور عشاء کے ساتھ اکٹھا کر کے پڑھتے جب شفق غائب ہو جاتی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1627]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب سفر میں جلدی ہوتی تو ظہر کو عصر کے اول وقت تک مؤخر کرتے اور دونوں کو جمع کر لیتے اور مغرب کو مؤخر کرتے اور جب شفق غروب ہو جاتا تو اسے اور عشاء کو جمع کر لیتے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1627]
ترقیم فوادعبدالباقی: 704
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة