صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب كراهة الشروع في نافلة بعد شروع المؤذن:
باب: فرض شروع ہونے کے بعد نفل کا مکروہ ہونا۔ اس حکم میں سنت مؤکدہ مثلاً صبح اور ظہر کی سنتیں اور سنت غیر مؤکدہ برابر ہیں نیز نمازی کو امام کے ساتھ رکعت ملنے کا علم ہونا اور نہ ہونا برابر ہیں۔
ترقیم عبدالباقی: 711 ترقیم شاملہ: -- 1649
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرَّ بِرَجُلٍ يُصَلِّي، وَقَدْ أُقِيمَتِ صَلَاةُ الصُّبْحِ، فَكَلَّمَهُ بِشَيْءٍ لَا نَدْرِي مَا هُوَ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا، أَحَطْنَا نَقُولُ: مَاذَا؟ قَالَ: لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ لِي: " يُوشِكُ أَنْ يُصَلِّيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ أَرْبَعًا "، قَالَ: الْقَعْنَبِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَالِكٍ ابْنُ بُحَيْنَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَبُو الْحُسَيْنِ مُسْلِمٌ وَقَوْلُهُ عَنْ أَبِيهِ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ خَطَأٌ.
عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابراہیم بن سعد نے اپنے والد سے حدیث سنائی۔ انہوں نے حفص بن عاصم سے اور انہوں نے عبداللہ بن مالک ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہا تھا جب صبح کی نماز کے لیے اقامت کہی جا چکی تھی، آپ نے کسی چیز کے بارے میں اس سے گفتگو فرمائی، ہم نہ جان سکے کہ وہ کیا تھی، جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے اسے گھیر لیا، ہم پوچھ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا کہا؟ اس نے بتایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”لگتا ہے کہ تم میں سے کوئی صبح کی چار رکعات پڑھنے لگے گا۔“ قعنبی نے کہا: عبداللہ بن مالک ابن بحینہ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے روایت کی۔ ابوالحسین مسلم رحمہ اللہ (مولف کتاب) نے کہا: قعنبی کا اس حدیث میں «عَنْ أَبِيهِ» (والد سے روایت کی) کہنا درست نہیں۔ (عبداللہ کے والد صحابی مالک صحابی تو ہیں لیکن ان سے کوئی حدیث مروی نہیں) [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1649]
عبداللہ بن مالک رضی اللہ عنہ جو بحینہ کے بیٹے ہیں، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہا تھا جبکہ صبح کی نماز کے لیے اقامت کہی جا رہی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ گفتگو فرمائی، جس کو ہم جان نہ سکے جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے اس کو گھیر لیا، ہم پوچھ رہے تھے کہ تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کہا؟ اس نے بتایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”اب تم میں سے کوئی صبح کی چار رکعات پڑھنے لگے گا؟“ قعنبی نے کہا، عبداللہ بن مالک ابن بحینہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں۔ امام ابوالحسین مسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں قعنبی کا اس حدیث میں «عَنْ أَبِيهِ» (باپ کے واسطہ سے) کہنا لغزش ہے۔ امام مسلم رحمہ اللہ کا مقصد یہ ہے کہ مالک، عبداللہ کا باپ ہے اور بحینہ عبداللہ کی ماں ہے اور قعنبی نے بحینہ کو مالک کا باپ سمجھ لیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1649]
ترقیم فوادعبدالباقی: 711
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 711 ترقیم شاملہ: -- 1650
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ ، قَالَ: " أُقِيمَتِ صَلَاةُ الصُّبْحِ، فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَجُلًا يُصَلِّي، وَالْمُؤَذِّنُ يُقِيمُ، فَقَالَ: أَتُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا؟ ".
ابوعوانہ نے سعد بن ابراہیم سے، انہوں نے حفص بن عاصم سے، اور انہوں نے حضرت (عبداللہ) ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: صبح کی نماز کی اقامت (شروع) ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز پڑھتے دیکھا جبکہ موذن اقامت کہہ رہا تھا تو آپ نے فرمایا: ”کیا تم صبح کی چار رکعتیں پڑھو گے؟“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1650]
ابن بحینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صبح کی نماز کھڑی ہوگئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز پڑھتے دیکھا جبکہ مؤذن اقامت کہہ رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَتُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا؟» ”کیا تو صبح کی چار رکعات پڑھے گا؟“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1650]
ترقیم فوادعبدالباقی: 711
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة