صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
17. باب صلاة الليل وعدد ركعات النبي صلى الله عليه وسلم في الليل وان الوتر ركعة وان الركعة صلاة صحيحة:
باب: نماز شب اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قیام اللیل میں رکعتوں کی تعداد، وتر کے ایک ہونے کا بیان اور اس بات کا بیان کہ ایک رکعت صحیح نماز ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 736 ترقیم شاملہ: -- 1717
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُوتِرُ مِنْهَا بِوَاحِدَةٍ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْهَا، اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ، حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ، فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ".
مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ سے، اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو گیارہ رکعت پڑھتے تھے، ان میں سے ایک کے ذریعے وتر ادا فرماتے، جب آپ اس (ایک رکعت) سے فارغ ہو جاتے تو آپ اپنے دائیں پہلو کے بل لیٹ جاتے یہاں تک کہ آپ کے پاس موذن آ جاتا تو آپ دو (نسبتاً) ہلکی رکعتیں پڑھتے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1717]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو گیارہ رکعات پڑھتے تھے، ان میں سے ایک وتر ہوتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس سے فارغ ہو جاتے تو دائیں پہلو پر لیٹ جاتے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مؤذن آ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو ہلکی رکعتیں پڑھتے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1717]
ترقیم فوادعبدالباقی: 736
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 736 ترقیم شاملہ: -- 1718
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُصَلِّي فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ، وَهِيَ الَّتِي يَدْعُو النَّاسُ الْعَتَمَةَ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُسَلِّمُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ وَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ، قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ، حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ لِلإِقَامَةِ ".
عمرو بن حارث نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز سے، جس کو لوگ عتمہ کہتے ہیں، فراغت کے بعد سے فجر تک گیارہ رکعت پڑھتے تھے۔ ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے اور وتر ایک رکعت پڑھتے۔ جب موذن صبح کی نماز کی اذان کہہ کر خاموش ہو جاتا، آپ کے سامنے صبح واضح ہو جاتی۔ اور موذن آپ کے پاس آ جاتا تو آپ اٹھ کر دو ہلکی رکعتیں پڑھتے پھر اپنے دائیں پہلو کے بل لیٹ جاتے حتیٰ کہ موذن آپ کے پاس اقامت (کی اطلاع دینے) کے لیے آ جاتا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1718]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز، جس کو لوگ «العَتَمَة» کہتے ہیں، سے فراغت لے کر فجر تک گیارہ رکعات پڑھتے تھے، ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے اور ایک وتر پڑھتے، جب مؤذن صبح کی نماز کی اذان کہہ کر خاموش ہو جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صبح روشن ہو جاتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مؤذن آ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر دو ہلکی رکعات پڑھتے، پھر اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جاتے، حتیٰ کہ مؤذن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اقامت کی اطلاع کے لیے آ جاتا۔“ ان تین امور میں (واؤ) ترتیب کے لیے نہیں ہے، ترتیب اسی طرح ہے: «إِذَا تَبَيَّنَ الْفَجْرُ» ”جب فجر روشن ہو جاتی“، «وَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ» ”اس کے لیے مؤذن آ جاتا“ اور «وَسَكَتَ الْمُؤَذِّنُ» ”اور مؤذن اذان سے فارغ ہو جاتا“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت پڑھتے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1718]
ترقیم فوادعبدالباقی: 736
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 736 ترقیم شاملہ: -- 1719
وحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَسَاقَ حَرْمَلَةُ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ: وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ، وَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ، وَلَمْ يَذْكُرْ: الإِقَامَةَ، وَسَائِرُ الْحَدِيثِ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَمْرٍ وَسَوَاءً.
حرملہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی (کہا) ہمیں ابن وہب نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے یونس نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ خبر دی۔ اگر حرملہ نے سابقہ حدیث کی مانند حدیث بیان کی، البتہ اس میں ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صبح کے روشن ہو جانے اور موذن آپ کے پاس آتا“ کے الفاظ ذکر نہیں کیے اور ”اقامت“ کا ذکر کیا۔ باقی حدیث بالکل عمرو کی حدیث کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1719]
امام صاحب اپنے دوسرے استاد سے زہری کی اس سند سے روایت بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں صبح کے روشن ہو جانے کا تذکرہ نہیں ہے، اسی طرح مؤذن کی آمد کا ذکر ہے اور اقامت کا ذکر نہیں ہے۔ باقی حدیث اوپر کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1719]
ترقیم فوادعبدالباقی: 736
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة