صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
25. باب الترغيب في قيام رمضان وهو التراويح:
باب: قیام رمضان کی ترغیب یعنی تراویح کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 759 ترقیم شاملہ: -- 1779
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ، إِيمَانًا، وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ".
حمید بن عبدالرحمان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے ایمان (کی حالت میں) اور اجر طلب کرتے ہوئے رمضان کا قیام کیا اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کر دیے گئے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1779]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے رمضان کا قیام ایمان و احتساب کے ساتھ کیا، اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1779]
ترقیم فوادعبدالباقی: 759
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 759 ترقیم شاملہ: -- 1780
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ فِيهِ بِعَزِيمَةٍ، فَيَقُولُ: " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ، إِيمَانًا، وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ "، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ، ثُمَّ كَانَ الأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ عَلَى ذَلِكَ.
امام زہری نے ابوسلمہ (بن عبدالرحمان) سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لازم ٹھہرائے بغیر رمضان کے قیام کی ترغیب دیتے تھے، آپ فرماتے: ”جس نے رمضان کا قیام ایمان (کی حالت میں) اور اجر طلب کرتے ہوئے کیا، اس کے گزشتہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک معاملہ یہی رہا، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت اور عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دور میں بھی معاملہ اسی طرح رہا (ترغیب دی جاتی رہی، اجتماعی طور پر اہتمام نہیں کیا گیا) [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1780]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے قیام کی ترغیب اس کا تاکیدی حکم دیے بغیر دیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”جس نے رمضان کا قیام ایمان اور احتساب کے ساتھ کیا، اس کے گزشتہ گناہ بخش دیے جائیں گے“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک معاملہ یہی رہا، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں معاملہ یہی رہا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دور میں بھی صورت حال یہی رہی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1780]
ترقیم فوادعبدالباقی: 759
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة