🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب الترغيب في قيام رمضان وهو التراويح:
باب: قیام رمضان کی ترغیب یعنی تراویح کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 761 ترقیم شاملہ: -- 1783
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَصَلَّى بِصَلَاتِهِ نَاسٌ، ثُمَّ صَلَّى مِنَ الْقَابِلَةِ فَكَثُرَ النَّاسُ، ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، قَالَ: قَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ، فَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنَ الْخُرُوجِ إِلَيْكُمْ، إِلَّا أَنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ، قَالَ: وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ ".
امام مالک نے ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات مسجد میں نماز پڑھی تو کچھ اور لوگوں نے (بھی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پھر آپ نے اس سے اگلی رات نماز پڑھی تو لوگوں (کی تعداد) میں اضافہ ہو گیا، پھر تیسری یا چوتھی رات لوگ جمع ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر ان کے پاس تشریف نہ لائے۔ جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو تم نے کیا میں نے دیکھا، مجھے تمہارے پاس آنے سے اس کے سوا کسی چیز نے نہیں روکا کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں یہ (نماز) تم پر فرض نہ ہو جائے۔ (عروہ یا ان کے بعد کے کسی راوی نے) کہا: اور یہ رمضان میں ہوا [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1783]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات مسجد میں نماز پڑھی تو کچھ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رات نماز پڑھی تو لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا، پھر تیسری یا چوتھی رات لوگ جمع ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر ان کے پاس تشریف نہیں لائے۔ جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے تمہارے پاس آنے سے صرف اس چیز نے روکا کہ مجھے خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ ہو جائے۔ اور یہ رمضان کا واقعہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1783]
ترقیم فوادعبدالباقی: 761
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 761 ترقیم شاملہ: -- 1784
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَرَجَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ، فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى رِجَالٌ بِصَلَاتِهِ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ بِذَلِكَ فَاجْتَمَعَ أَكْثَرُ مِنْهُمْ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلَةِ الثَّانِيَةِ، فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَذْكُرُونَ ذَلِكَ، فَكَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ، فَخَرَجَ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ، عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْلِهِ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَفِقَ رِجَالٌ مِنْهُمْ، يَقُولُونَ: الصَّلَاةَ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى خَرَجَ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ، فَلَمَّا قَضَى الْفَجْرَ، أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ تَشَهَّدَ، فَقَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ شَأْنُكُمُ اللَّيْلَةَ، وَلَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ صَلَاةُ اللَّيْلِ، فَتَعْجِزُوا عَنْهَا ".
یونس بن یزید نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وسط میں (گھر سے) نکلے اور مسجد میں نماز پڑھی، کچھ لوگوں نے (بھی) آپ کی نماز کے ساتھ نماز ادا کی، صبح کو لوگوں نے اس بارے میں بات چیت کی، چنانچہ (دوسری رات) لوگ پہلے سے زیادہ جمع ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری رات بھی باہر تشریف لائے اور لوگوں نے آپ کی نماز کے ساتھ (اقتداء میں) نماز پڑھی، صبح اس کا تذکرہ کرتے رہے، تیسری رات مسجد میں آنے والے اور زیادہ ہو گئے، آپ باہر تشریف لائے اور لوگوں نے آپ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھی، جب چوتھی رات ہوئی تو مسجد نمازیوں کے لیے تنگ ہو گئی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر ان کے پاس تشریف نہ لائے حتیٰ کہ آپ صبح کی نماز کے لیے تشریف لائے۔ جب صبح کی نماز پوری کر لی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، پھر شہادتین پڑھ کر (یہ خطبے کا حصہ ہیں) فرمایا: اما بعد! واقعہ یہ ہے کہ آج رات تمہارا حال مجھ سے مخفی نہ تھا لیکن مجھے خدشہ ہوا کہ رات کی نماز تم پر فرض نہ کر دی جائے اور تم اس (کی ادائیگی) سے عاجز رہو۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1784]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نکلے اور مسجد میں نماز پڑھنی شروع کی، کچھ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں پڑھی، صبح ہوئی تو لوگوں نے اس کا چرچا کیا، اور لوگ پہلے سے زیادہ جمع ہو گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری رات نکلے اور لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھی، صبح ہوئی تو لوگوں نے اس کا تذکرہ کیا، تیسری رات لوگ مسجد میں زیادہ جمع ہو گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کی، جب چوتھی رات آئی تو مسجد نمازیوں کے لیے تنگ ہو گئی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر ان کے پاس تشریف نہ لائے، ان میں سے کچھ لوگ نماز کی صدا بلند کرنے لگے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف نہ لائے حتیٰ کہ صبح کی نماز کے لیے تشریف لائے۔ جب صبح کی نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، پھر خطبہ پڑھ کر فرمایا: حمد و صلاۃ کے بعد! واقعہ یہ ہے کہ آج رات تمہارا معاملہ مجھ پر مخفی نہ تھا لیکن مجھے یہ خدشہ پیدا ہو گیا کہ رات کی نماز تم پر فرض نہ کر دی جائے پھر تم اس سے عاجز آ جاؤ۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1784]
ترقیم فوادعبدالباقی: 761
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں