صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
46. باب فضل قراءة المعوذتين:
باب: معوذتین کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 814 ترقیم شاملہ: -- 1891
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَمْ تَرَ آيَاتٍ أُنْزِلَتِ اللَّيْلَةَ، لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ قَطُّ؟ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ".
بیان (بن بشر) نے قیس بن ابی حازم سے اور انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا تمہیں معلوم نہیں کہ جو آیتیں آج مجھ پر نازل کی گئی ہیں ان جیسی (آیتیں) کبھی دیکھی تک نہیں گئیں؟ «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» اور «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» ۔" [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1891]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ آج رات جو آیات مجھ پر اتاری گئی ہیں، ان کے مثل کبھی نہیں دیکھی گئیں؟ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] اور ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] ۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1891]
ترقیم فوادعبدالباقی: 814
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 814 ترقیم شاملہ: -- 1892
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُنْزِلَ، أَوْ " أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آيَاتٌ، لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ قَطُّ، الْمُعَوِّذَتَيْنِ ".
محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا: میرے والد نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: مجھ سے اسماعیل نے حدیث بیان کی، انہوں نے قیس سے اور انہوں نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: "مجھ پر ایسی آیتیں اتاری گئی ہیں کہ ان جیسی (آیتیں) کبھی دیکھی تک نہیں گئیں۔ (یعنی) معوذتین۔" [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1892]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”مجھ پر ایسی آیات نازل کی گئی ہیں کہ ان کی مثل کبھی نہیں دیکھی گئیں، یعنی «الْمُعَوِّذَتَيْنِ» ”معوذتین“۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1892]
ترقیم فوادعبدالباقی: 814
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 814 ترقیم شاملہ: -- 1893
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كِلَاهُمَا ، عَنْ إِسْمَاعِيل ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَه، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ وَكَانَ مِنْ رُفَعَاءِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
وکیع اور ابواسامہ نے اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت بیان کی، البتہ ابواسامہ نے عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے جو روایت کی، اس میں ہے، عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بلند مرتبہ ساتھیوں میں سے تھے۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1893]
امام صاحب اپنے دوسرے اساتذہ سے بھی یہی روایت بیان کرتے ہیں اور اس میں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہے کہ ”وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بلند مرتبہ ساتھیوں میں سے تھے۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1893]
ترقیم فوادعبدالباقی: 814
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة