صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
2. باب ما يقال عند المصيبة:
باب: مصیبت کے وقت کیا کہنا چاہیئے؟
ترقیم عبدالباقی: 918 ترقیم شاملہ: -- 2126
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، جميعا، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ ابْنِ سَفِينَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ، فَيَقُولُ مَا أَمَرَهُ اللَّهُ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ أَجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَخْلَفَ اللَّهُ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا ". قَالَتْ: فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ، قُلْتُ: أَيُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ أَوَّلُ بَيْتٍ هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ إِنِّي قُلْتُهَا، فَأَخْلَفَ اللَّهُ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاطِبَ بْنَ أَبِي بَلْتَعَةَ يَخْطُبُنِي لَهُ، فَقُلْتُ: إِنَّ لِي بِنْتًا وَأَنَا غَيُورٌ، فَقَالَ: أَمَّا ابْنَتُهَا فَنَدْعُو اللَّهَ أَنْ يُغْنِيَهَا عَنْهَا، وَأَدْعُو اللَّهَ أَنْ يَذْهَبَ بِالْغَيْرَةِ.
اسماعیل بن جعفر نے کہا: مجھے سعد بن سعید نے عمر بن کثیر بن افلح سے خبر دی، انہوں نے (عمر) ابن سفینہ سے اور انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”کوئی مسلمان نہیں جسے مصیبت پہنچے اور وہ (وہی کچھ) کہے جس کا اللہ نے اسے حکم دیا ہے: «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ’یقیناً ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں‘، ’اے اللہ! مجھے میری مصیبت پر اجر دے اور مجھے اس سے بہتر بدل عطا فرما‘ مگر اللہ تعالیٰ اسے اس (ضائع شدہ چیز) کا بہتر بدل عطا فرماتا ہے۔“ (ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: جب (میرے خاوند) ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو میں نے (دل میں) کہا: کون سا مسلمان ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر (ہو سکتا) ہے! وہ پہلا گھرانہ ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی۔ پھر میں نے وہ (کلمات) کہے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں اس کا بدل عطا فرما دیا، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے نکاح کا پیغام دیتے ہوئے حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کو میرے پاس بھیجا تو میں نے کہا: میری ایک بیٹی ہے اور میں بہت غیرت کرنے والی ہوں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی بیٹی کے بارے میں ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اس کو اس (ام سلمہ رضی اللہ عنہا) سے بے نیاز کر دے اور میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ (بے جا) غیرت کو (اس سے) ہٹا دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2126]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس مسلمان کو مصیبت پہنچے اور وہ (وہ کلمات کہے جن کے کہنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے یعنی وہ کہے، ہم اللہ کے ہی ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اے اللہ! مجھے میری مصیبت میں اجرعطا فرما اور اس کی جگہ اس سے بہتر عطا فرما، تو اللہ تعالیٰ اسے اس کا بہتر بدل عطا فرما دیتا ہے۔“ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کہتی ہیں: جب (میرے خاوند) ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہو گئے تو میں نے اپنے جی میں کہا ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کون سا مسلمان بہتر ہو سکتا ہے وہ پہلا کنبہ ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی۔ پھر میں نے یہ کلمات کہے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کی جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عنائت فرمائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے پیغام دینے کے لیے حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو میرے پاس بھیجا تو میں نے کہا: میری ایک بیٹی ہے اور میں بہت غیرت مند ہوں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی بیٹی کے بارے میں ہم اللہ سے دعا کریں گے، کہ وہ اس کو اس سے بے نیاز کر دے، اور میں اللہ سے دعا کروں گا کہ وہ اس کی (بیجا) غیرت ختم کر دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2126]
ترقیم فوادعبدالباقی: 918
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 918 ترقیم شاملہ: -- 2127
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ سَفِينَةَ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ فَيَقُولُ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ أَجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَجَرَهُ اللَّهُ فِي مُصِيبَتِهِ، وَأَخْلَفَ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا "، قَالَتْ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ كَمَا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْلَفَ اللَّهُ لِي خَيْرًا مِنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابواسامہ نے سعد بن سعید سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے عمر بن کثیر بن افلح نے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے ابن سفینہ سے سنا، وہ بیان کر رہے تھے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”کوئی بندہ نہیں جسے مصیبت پہنچے اور وہ کہے: «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ أَجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا» ’بے شک ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں‘۔ ’اے اللہ! مجھے میری مصیبت کا اجر دے اور مجھے اس کا بہتر بدل عطا فرما‘، مگر اللہ تعالیٰ اسے اس کی مصیبت کا اجر دیتا ہے اور اسے اس کا بہتر بدل عطا فرماتا ہے۔“ (حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: تو جب ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے، میں نے اس طرح کہا جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں ان سے بہتر بدل عطا فرما دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2127]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”کوئی بندہ جسے کوئی مصیبت پہنچے اور وہ کہے: «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ أَجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا» بےشک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اے اللہ! میری مصیبت میں مجھے صلہ دے اور (مجھ سے چھن جانے والی چیز سے) اس کا بہتر بدل عطا دے، تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی مصیبت کا اجر دیتا ہے اور اسے اس سے بہتر جانشین عطا فرماتا ہے۔“ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بتاتی ہیں: کہ جب (میرے خاوند) ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وفات پا گئے تو میں نے اسی طرح کہا جس طرح مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بہتر جانشین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عنایت فرمائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2127]
ترقیم فوادعبدالباقی: 918
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 918 ترقیم شاملہ: -- 2128
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ ، عَنْ ابْنِ سَفِينَةَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ، وَزَادَ، قَالَتْ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ، قُلْتُ: مَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ ثُمَّ عَزَمَ اللَّهُ لِي، فَقُلْتُهَا، قَالَتْ: فَتَزَوَّجْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں سعد بن سعید نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے عمر بن کثیر نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ابن سفینہ سے خبر دی اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا۔۔۔ (آگے) ابواسامہ کی حدیث کے مانند (حدیث بیان کی) اور یہ اضافہ کیا: حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو میں نے (دل میں) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر کون ہو سکتا ہے؟ پھر اللہ تعالیٰ نے میرے ارادے کو پختہ کر دیا تو میں نے وہی (کلمات) کہے۔ اس کے بعد میری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی ہو گئی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2128]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ ہیں وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جیسا کہ ابو اسامہ کی مذکورہ بالا حدیث ہے اور اس میں اضافہ ہے کہ جب ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہو گئے تو میں نے دل میں سوچا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بہتر کون ہو سکتا ہے؟ پھر اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں عزم پیدا کر لیا تو میں نے اس دعا کو پڑھا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی کر لی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2128]
ترقیم فوادعبدالباقی: 918
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة