صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
5. باب في شخوص بصر الميت يتبع نفسه:
باب: میت کی آنکھیں روح کے پیچھے پیچھے دیکھتی ہیں۔
ترقیم عبدالباقی: 921 ترقیم شاملہ: -- 2132
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ يَعْقُوبَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَمْ تَرَوْا الْإِنْسَانَ إِذَا مَاتَ شَخَصَ بَصَرُهُ "، قَالُوا: بَلَى، قَالَ: " فَذَلِكَ حِينَ يَتْبَعُ بَصَرُهُ نَفْسَهُ ".
ابن جریج نے علاء بن یعقوب سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم انسان کو نہیں دیکھتے کہ جب وہ فوت ہو جاتا ہے تو اس کی نظر اٹھ جاتی ہے؟“ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس وقت ہوتا ہے جب اس کی نظر اس کی روح کا پیچھا کرتی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2132]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم نہیں، تم دیکھ نہیں رہے کہ جب انسان مر جاتا ہے، تو اس کی آنکھیں (نظر) اوپر کو اٹھ جاتی ہیں؟“ ساتھیوں نے عرض کی: ”کیوں نہیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس وقت کی بات ہے، جب اس کی بینائی، اس کی روح کا تعاقب کرتی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2132]
ترقیم فوادعبدالباقی: 921
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 921 ترقیم شاملہ: -- 2133
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ الْعَلَاءِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
عبدالعزیز دراوردی نے (بھی) علاء سے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کے مانند) روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2133]
امام صاحب رحمہ اللہ اسی سند کے ساتھ، اپنے دوسرے استاد کی روایت اسی طرح بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2133]
ترقیم فوادعبدالباقی: 921
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة