🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب فيمن يثنى عليه خير او شر من الموتى:
باب: میتوں میں سے جس کی اچھی یا بری تعریف کی جائے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 949 ترقیم شاملہ: -- 2200
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ كُلُّهُمْ، عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: مُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ "، وَمُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ "، قَالَ عُمَرُ: فِدًى لَكَ أَبِي وَأُمِّي، مُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرٌ، فَقُلْتَ وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ، وَمُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرٌّ، فَقُلْتَ: وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ خَيْرًا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ شَرًّا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ "،
عبدالعزیز بن صہیب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک جنازہ گزرا تو اس کی اچھی صفت بیان کی گئی، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی، واجب ہو گئی، واجب ہو گئی۔ اس کے بعد ایک اور جنازہ گزرا تو اس کی بری صفت بیان کی گئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی، واجب ہو گئی، واجب ہو گئی۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں! ایک جنازہ گزرا اور اس کی اچھی صفت بیان کی گئی تو آپ نے فرمایا: ’واجب ہو گئی، واجب ہو گئی، واجب ہو گئی۔‘ ایک اور جنازہ گزرا اور اس کی بری صفت بیان کی گئی تو آپ نے فرمایا: ’واجب ہو گئی، واجب ہو گئی، واجب ہو گئی۔‘ (اس کا مطلب کیا ہے؟) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی تم لوگوں نے اچھی صفت بیان کی اس کے لیے جنت واجب ہو گئی اور جس کی تم نے بری صفت بیان کی اس کے لیے آگ واجب ہو گئی، تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو، تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو، تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2200]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: کہ ایک جنازہ گزرا تو لوگوں نے اس کی تعریف کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی واجب ہو گئی واجب ہو گئی ایک اور جنازہ گزرا تو اس کی برائی بیان کی گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی واجب ہو گئی واجب ہو گئی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ فدا ہوں! ایک جنازہ گزرا اور اس کی تعریف اور خیر کا تذکرہ کیا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی واجب ہو گئی واجب ہو گئی۔ دوسرا جنازہ گزرا اور اس کی برائی اور مذمت بیان کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی واجب ہو گئی واجب ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی تم لوگوں نے بھلائی اور خیر کا ذکر کیا اس کے لیے جنت واجب ہو گئی اور جس کی تم نے برائی بیان کی اس کے لیے آگ واجب ہو گئی تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2200]
ترقیم فوادعبدالباقی: 949
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 949 ترقیم شاملہ: -- 2201
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، كِلَاهُمَا، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَةٍ "، فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَتَمُّ.
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا۔۔۔ اس کے بعد انہوں نے انس سے عبدالعزیز کی (سابقہ) حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی، البتہ عبدالعزیز کی حدیث زیادہ مکمل ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2201]
امام صاحب دوسرے اساتذہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے جنازہ گزرا، عبدالعزیز کے ہم معنی روایت بیان کی ہے لیکن عبدالعزیز کی روایت اس کے مقابلہ میں کامل ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2201]
ترقیم فوادعبدالباقی: 949
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں