صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
21. باب ما جاء في: «مستريح ومستراح منه»:
باب: آرام پانے والے اور جس سے آرام حاصل کیا گیا ان کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 950 ترقیم شاملہ: -- 2202
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرَّ عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ، فَقَالَ: " مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْمُسْتَرِيحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ؟، فَقَالَ: الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ يَسْتَرِيحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا، وَالْعَبْدُ الْفَاجِرُ يَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلَادُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ "،
امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے محمد بن عمرو بن حلحلہ سے، انہوں نے معبدبن کعب بن مالک سے اور انہوں نے حضرت قتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ نے فرمایا: ”آرام پانے والا ہے یا اس سے آرام ملنے والا ہے۔“ انہوں (صحابہ) نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! آرام پانے والا یا جس سے آرام ملنے والا ہے سے کیا مراد ہے؟“ تو آپ نے فرمایا: ”بندہ مومن دنیا کی تکلیف سے آرام پاتا ہے اور فاجر بندے (کے مرنے) سے لوگ، شہر، درخت اور حیوانات آرام پاتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2202]
ابوقتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آرام پانے والا ہے یا لوگوں کو اس سے آرام (چھٹکارہ) حاصل ہو گیا ہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! «مُسْتَرِيحٌ» اور «مُسْتَرَاحٌ مِنْهُ» سے کیا مراد ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن بندہ دنیا کی تکلیفوں اور مشقتوں سے آرام پاتا ہے اور برے بندے سے، بندوں، علاقوں، درختوں اور حیوانات کو آرام مل جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2202]
ترقیم فوادعبدالباقی: 950
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 950 ترقیم شاملہ: -- 2203
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، جَمِيعًا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ ابْنٍ لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ: " يَسْتَرِيحُ مِنْ أَذَى الدُّنْيَا وَنَصَبِهَا إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ ".
یحییٰ بن سعید اور عبدالرزاق نے عبداللہ بن سعید سے، انہوں نے محمد بن عمرو سے، انہوں نے کعب بن مالک کے بیٹے (معبد) سے، انہوں نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (سابقہ حدیث کے مانند) روایت بیان کی اور یحییٰ کی حدیث میں ہے: ”وہ (مومن بندہ) اللہ کی رحمت میں آکر دنیا کی اذیت اور تکان سے آرام حاصل کر لیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2203]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے دوسرے اساتذہ سے بھی یہی روایت نقل کرتے ہیں اور یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ ”مومن بندہ دنیا کی تکلیفوں اور مشقتوں سے نجات پا کر اللہ تعالیٰ کی رحمت حاصل کر لیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2203]
ترقیم فوادعبدالباقی: 950
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة