صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
21. باب ما جاء في: «مستريح ومستراح منه»:
باب: آرام پانے والے اور جس سے آرام حاصل کیا گیا ان کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 950 ترقیم شاملہ: -- 2203
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، جَمِيعًا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ ابْنٍ لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ: " يَسْتَرِيحُ مِنْ أَذَى الدُّنْيَا وَنَصَبِهَا إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ ".
یحییٰ بن سعید اور عبدالرزاق نے عبداللہ بن سعید سے، انہوں نے محمد بن عمرو سے، انہوں نے کعب بن مالک کے بیٹے (معبد) سے، انہوں نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (سابقہ حدیث کے مانند) روایت بیان کی اور یحییٰ کی حدیث میں ہے: ”وہ (مومن بندہ) اللہ کی رحمت میں آکر دنیا کی اذیت اور تکان سے آرام حاصل کر لیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2203]
امام صاحب اپنے دوسرے اساتذہ سے بھی یہی روایت نقل کرتے ہیں،اور یحییٰ بن سعید کی روایت میں ہے کہ ”مومن بندہ دنیا کی تکلیفوں اور مشقتوں سے نجات پا کر اللہ تعالیٰ کی رحمت حاصل کر لیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2203]
ترقیم فوادعبدالباقی: 950
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
محمد بن كعب الأنصاري ← الحارث بن ربعي السلمي