🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
40. باب من مات لا يشرك بالله شيئا دخل الجنة ومن مات مشركا دخل النار:
باب: جو آدمی اللہ کے ساتھ شرک کیے بغیر مر گیا اس کے جنتی ہونے، اور جو شرک پر مرا اس کے جہنمی ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 93 ترقیم شاملہ: -- 269
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْمُوجِبَتَانِ؟ فَقَالَ: " مَنْ مَاتَ، لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ مَاتَ، يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، دَخَلَ النَّارَ ".
ابوسفیان نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: اے اللہ کے رسول! واجب کرنے والی دو باتیں کون سی ہیں؟ آپ نے جواب دیا: جو کسی چیز کو اللہ کے ساتھ شریک نہ کرتا ہوا مرا، وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتے ہوئے مرا، وہ دوزخ میں داخل ہو گا۔ یعنی توحید جنت کو واجب کر دیتی ہے اور شرک دوزخ کو۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 269]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جنّت اور دوزخ کو واجب ٹھہرانے والی دو صفات کون سی ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: جو شرک نہ کرتا ہوا مرا وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتے ہوئے مرا وہ دوزخ میں داخل ہو گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 269]
ترقیم فوادعبدالباقی: 93
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (2320)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 93 ترقیم شاملہ: -- 270
وحَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ، لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَقِيَهُ، يُشْرِكُ بِهِ، دَخَلَ النَّارَ "، قَالَ أَبُو أَيُّوبَ: قَال أَبُو الزُّبَيْر: عَنْ جَابِرٍ.
ابوایوب غیلانی سلیمان بن عبیداللہ اور حجاج بن شاعر نے کہا: ہمیں عبدالملک بن عمرو نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں قرہ نے ابوزبیر کے واسطے سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو کوئی اس حالت میں اللہ سے ملے کہ وہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا، وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو اللہ سے اس حالت میں ملا کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتا تھا، وہ آگ میں داخل ہو گا۔ ابوایوب کی حدیث کے الفاظ میں: ابوزبیر نے ( «حدثنا جابر» جابر نے ہمیں حدیث سنائی کے بجائے) «عن جابر» جابر سے روایت ہے کے الفاظ سے حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 270]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو کوئی اللہ کو اس حالت میں ملا کہ وہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا وہ جنت میں داخل ہو گا، اور جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتا ہوا ملا وہ آگ میں داخل ہو گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 270]
ترقیم فوادعبدالباقی: 93
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (2900)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 93 ترقیم شاملہ: -- 271
وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ِ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ بِمِثْلِهِ.
(قرہ کے بجائے) ہشام نے ابوزبیر کے واسطے سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سنائی: بے شک اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا...... (آگے) سابقہ روایت کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 271]
امام مسلم رحمہ اللہ مذکورہ روایت ایک اور سند سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 271]
ترقیم فوادعبدالباقی: 93
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (2980)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں