🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
41. باب تحريم قتل الكافر بعد ان قال لا إله إلا الله:
باب: کافر کو لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کرنا حرام ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 96 ترقیم شاملہ: -- 277
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ كِلَاهُمَا، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي ظِبْيَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، وَهَذَا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، فَصَبَّحْنَا الْحُرَقَاتِ مِنْ جُهَيْنَةَ، فَأَدْرَكْتُ رَجُلًا، فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَطَعَنْتُهُ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ، فَذَكَرْتُهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَقَتَلْتَهُ؟ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا قَالَهَا خَوْفًا مِنَ السِّلَاحِ، قَالَ: " أَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ، حَتَّى تَعْلَمَ أَقَالَهَا أَمْ لَا؟ " فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا عَلَيَّ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي أَسْلَمْتُ يَوْمَئِذٍ، قَالَ: فَقَالَ سَعْدٌ: وَأَنَا وَاللَّهِ لَا أَقْتُلُ مُسْلِمًا حَتَّى يَقْتُلَهُ ذُو الْبُطَيْنِ يَعْنِي أُسَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ، وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ، فَقَالَ سَعْدٌ: قَدْ قَاتَلْنَا حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ، وَأَنْتَ، وَأَصْحَابُكَ تُرِيدُونَ أَنْ تُقَاتِلُوا حَتَّى تَكُونُ فِتْنَةٌ.
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں ابوخالد احمر نے حدیث سنائی اور ابوکریب اور اسحاق بن ابراہیم نے ابومعاویہ سے اور ان دونوں (ابومعاویہ اور ابوخالد) نے اعمش سے، انہوں نے ابوظبیان سے اور انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی (حدیث کے الفاظ ابن ابی شیبہ کے ہیں) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک چھوٹے لشکر میں (جنگ کے لیے) بھیجا، ہم نے صبح صبح قبیلہ جہینہ کی شاخ حرقات پر حملہ کیا، میں ایک آدمی پر قابوپا لیا تو اس نے «لا إله إلا اللہ» کہہ دیا لیکن میں نے اسے نیزہ مار دیا، اس بات سے میرے دل میں کھٹکا پیدا ہوا تو میں نے اس کا تذکرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اس نے «لا إله إلا اللہ» کہا اور تم نے اسے قتل کر دیا؟ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس نے اسلحے کے ڈر سے کلمہ پڑھا، آپ نے فرمایا: تو نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا تاکہ تمہیں معلوم ہو جاتا کہ اس نے (دل سے) کہا ہے یا نہیں۔ پھر آپ میرے سامنے مسلسل یہ بات دہراتے رہے یہاں تک کہ میں نے تمنا کی کہ (کاش) میں آج ہی اسلام لایا ہوتا (اور اسلام لانے کی وجہ سے اس کلمہ گو کے قتل کے عظیم گناہ سے بری ہو جاتا۔) ابوظبیان نے کہا: (اس پر) حضرت سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اور میں اللہ کی قسم! کسی اسلام لانے والے کو قتل نہیں کروں گا جب تک ذوالبطین، یعنی اسامہ اسے قتل کرنے پر تیار نہ ہوں۔ ابوظبیان نے کہا: اس پر ایک آدمی کہنے لگا: کیا اللہ کا یہ فرمان نہیں: اور ان سے جنگ لڑو حتیٰ کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سارا اللہ کا ہو جائے۔ تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ہم فتنہ ختم کرنے کی خاطر جنگ لڑتے تھے جبکہ تم اور تمہارے ساتھی فتنہ برپا کرنے کی خاطر لڑنا چاہتے ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 277]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک لشکر کے ساتھ بھیجا، ہم صبح صبح جہینہ قبیلہ کی بستی حرقات پہنچ گئے۔ میں نے ایک آدمی پر غلبہ حاصل کیا تو اس نے لا إله إلا الله کہہ دیا، میں نے (اس کو) کاٹ ڈالا۔ اس کے بارے میں میرے دل میں کھٹکا پیدا ہوا، سو میں نے اس کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے لا إله إلا الله کہنے کے باوجود اسے قتل کردیا؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے اسلحہ کے ڈر سے کلمہ پڑھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اس کا دل چیر کر کیوں نہیں دیکھ لیا، تاکہ تمہیں پتا چل جاتا اس نے دل سے کہا ہے یا ڈر سے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل کلمہ دہراتے رہے یہاں تک کہ میں نے خواہش کی کہ میں آج ہی مسلمان ہوا ہوتا، تو سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اور میں اللہ کی قسم! کسی مسلمان کو قتل نہیں کروں گا جب تک ذوالبطین یعنی اسامہ رضی اللہ عنہ اسے قتل کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ اس پر ایک آدمی نے کہا: کیا اللہ کا یہ فرمان نہیں: ان سے لڑو حتیٰ کہ فتنہ مٹ جائے (کسی میں دین سے پھیرنے کی طاقت نہ رہے) اور اللہ کا پورا دین عام ہو جائے۔ تو سعد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ہم نے فتنہ فرو کرنے کی خاطر جنگ لڑی، تو اور تیرے ساتھی فتنہ برپا کرنے کی خاطر لڑنا چاہتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 277]
ترقیم فوادعبدالباقی: 96
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في المغازي، باب: بعث النبي صلی اللہ علیہ وسلم اسامة بن زيد الی الحرقات من جهينة برقم (4021) وفي الديات، باب: قول الله تعالی ﴿وَمَنْ أَحْيَاهَا﴾ برقم (6478) وابوداؤد في ((سننه)) في الجهاد، باب: علی ما يقاتل المشركون برقم (2643) انظر ((التحفة)) برقم (88)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 96 ترقیم شاملہ: -- 278
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو ظِبْيَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ، يُحَدِّثُ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحُرَقَةِ مِنْ جُهَيْنَةَ، فَصَبَّحْنَا الْقَوْمَ فَهَزَمْنَاهُمْ، وَلَحِقْتُ أَنَا، وَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، رَجُلًا مِنْهُمْ فَلَمَّا غَشِينَاهُ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَكَفَّ عَنْهُ الأَنْصَارِيَّ، وَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي حَتَّى قَتَلْتُهُ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا بَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: يَا أُسَامَةُ، أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا كَانَ مُتَعَوِّذًا، قَالَ: فَقَالَ: " أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟ " قَالَ: فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا عَلَيَّ، حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ.
حصین نے کہا: ہمیں ابوظبیان نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جہینہ کی شاخ (یا آبادی) حرقہ کی طرف بھیجا، ہم نے ان لوگوں پر صبح کے وقت حملہ کیا اور انہیں شکست دے دی، جنگ کے دوران میں ایک انصاری اور میں ان میں سے ایک آدمی تک پہنچ گئے جب ہم نے اسے گھیر لیا (اور وہ حملے کی زد میں آ گیا) تو اس نے «لا إله إلا اللہ» کہہ دیا۔ انہوں نے کہا: انصاری اس پر حملہ کرنے سے رک گیا اور میں نے اپنا نیزہ مار کر اسے قتل کر دیا۔ اسامہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب ہم واپس آئے تو یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گئی، اس پر آپ نے مجھ سے فرمایا: اے اسامہ! کیا تو نے اس کے «لا إله إلا اللہ» کہنے کے بعد اسے قتل کر دیا؟ کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! وہ تو (اس کلمے کے ذریعے سے) محض پناہ حاصل کرنا چاہتا تھا۔ کہا: تو آپ نے فرمایا: کیا تو نے اسے «لا إله إلا اللہ» کہنے کے بعد قتل کر دیا؟ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ بار بار یہ بات دہراتے رہے یہاں تک کہ میں نے آرزو کی (کاش) میں آج کے دن سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 278]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جہینہ کی شاخ حرقہ کی طرف بھیجا، تو ہم نے ان لوگوں پر صبح صبح حملہ کردیا اور ان کو شکست دے دی۔ میں اور ایک انصاری آدمی نے ان کے ایک آدمی کا تعاقب کیا، جب ہم نے اس کو گھیرے میں لے لیا (وہ حملہ کی زد میں آ گیا) اس نے لا إله إلا الله کہہ دیا، انصاری اس سے رک گیا، میں نے اپنا نیزہ مار کر اس کو قتل کر دیا۔ اسامہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب ہم واپس آئے تو اس کی اطلاع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ہو گئی (جو خود اسامہ رضی اللہ عنہ نے دی تھی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے اسامہ! کیا تو نے لا إله إلا الله کہنے کے بعد قتل کردیا؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے تو محض پناہ حاصل کرنے کے لیے ایسا کہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: کیا تو نے اسے لا إله إلا الله کہنے کے بعد قتل کر دیا؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار یہ بات دہراتے رہے یہاں تک کہ میں نے آرزو کی اے کاش! میں آج سے پہلے مسلمان نہ ہوتا۔ (آج مسلمان ہوتا تا کہ تمام پچھلے گناہ معاف ہو جاتے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 278]
ترقیم فوادعبدالباقی: 96
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (273)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں