🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب بيان ان القارن لا يتحلل إلا في وقت تحلل الحاج المفرد:
باب: قارن اس وقت احرام کھولے جس وقت کہ مفرد بالحج احرام کھولتا ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1229 ترقیم شاملہ: -- 2984
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ حَفْصَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا، وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ؟، قَالَ: " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ "،
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: میں نے امام مالک کے سامنے پڑھا، انہوں نے نافع سے روایت کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! لوگوں کا معاملہ کیا ہے؟ انہوں نے (عمرہ کے بعد) احرام کھول دیا ہے۔ اور آپ نے اپنے عمرہ (آتے ہی طواف و سعی جو عمرہ کے منسک کے برابر ہے) کے بعد احرام نہیں کھولا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے سر (کے بالوں) کو گوند (یا خطمی بوٹی سے) چپکایا اور اپنی قربانیوں کو ہار ڈال دیے۔ اس لیے میں جب تک قربانی نہ کر لوں۔ احرام نہیں کھول سکتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2984]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت حفصہ رضیاللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے کہا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا وجہ ہے کہ لوگ حلال ہو چکے ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عمرہ سے حلال نہیں ہوئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے سر کے بالوں کو چپکا لیا ہے، اور اپنی ہدی کے گلے میں قلادہ ڈال دیا ہے، اس لیے میں قربانی کرنے سے پہلے حلال نہیں ہو سکتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2984]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1229
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1229 ترقیم شاملہ: -- 2985
وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: مَا لَكَ لَمْ تَحِلَّ؟ بِنَحْوِهِ.
خالد بن مخلد نے مالک سے، انہوں نے نافع سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے فرمایا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ آپ نے احرام نہیں کھولا؟ (آگے) مذکورہ بالا حدیث کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2985]
یہی روایت امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعلیٰ عنہا نے بیان کیا، میں نے کہا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کیوں نہیں کھولا؟ آ گے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2985]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1229
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1229 ترقیم شاملہ: -- 2986
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِكَ؟، قَالَ: " إِنِّي قَلَّدْتُ هَدْيِي، وَلَبَّدْتُ رَأْسِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَحِلَّ مِنَ الْحَجِّ "،
عبید اللہ نے کہا: مجھے نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے انہوں نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: لوگوں کا کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے احرام کھول دیا ہے اور آپ نے (مناسک ادا ہو جانے کے باوجود) ابھی تک عمرہ کا احرام نہیں کھولا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنی قربانی کے اونٹوں کو ہار پہنائے اور اپنے سر (کے بالوں) کو گوند (جیلی) سے چپکایا میں جب تک حج سے فارغ نہ ہو جاؤں۔ احرام سے فارغ نہیں ہو سکتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2986]
حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، کیا وجہ ہے کہ لوگ احرام کھول چکے ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمرہ کا احرام نہیں کھولا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنی ہدی کے گلے میں ہار ڈالا ہے، اور اپنے سر کے بال چپکا لیے ہیں، اس لیے میں اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتا، جب تک حج سے فارغ نہ ہو جاؤں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2986]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1229
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1229 ترقیم شاملہ: -- 2987
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ: " فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ ".
عبید اللہ نے نافع سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے (اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے) عرض کی: اے اللہ کے رسول! (آگے) مالک کی حدیث کے مانند ہے (البتہ الفاظ یوں ہیں): میں جب تک قربانی نہ کر لوں۔ احرام سے فارغ نہیں ہو سکتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2987]
حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آگے باب کی پہلی روایت جو امام مالک سے مروی ہے کی طرح ہے، میں قربانی کرنے تک حلال نہیں ہو سکتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2987]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1229
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1229 ترقیم شاملہ: -- 2988
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَخْزُومِيُّ ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يَحْلِلْنَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، قَالَتْ حَفْصَةُ: فَقُلْتُ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَحِلَّ؟، قَالَ: " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ هَدْيِي ".
ابن جریج نے نافع سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان فرمائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو حجۃ الوداع کے سال حکم دیا تھا کہ وہ (عمرہ کرنے کے بعد) احرام کھول دیں۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے عرض کی: آپ کو احرام کھولنے سے کیا چیز مانع ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اپنے سر (کے بالوں کو) چپکا چکا ہوں۔ اور اپنی قربانی کے اونٹ نحر نہ کر لوں۔ احرام نہیں کھول سکتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2988]
حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے سال اپنی بیویوں کو احرام کھولنے کا حکم دیا، حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، تو میں نے سوال کیا، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حلال ہونے سے کون سی چیز مانع ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے سر کے بال چپکا لیے ہیں اور اپنی ہدی کے گلے میں ہار ڈال دیا ہے، اس لیے میں جب تک اپنی ہدی نحر نہ کر لوں، حلال نہیں ہو سکتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2988]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1229
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں