🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. باب جواز العمرة في اشهر الحج:
باب: حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کا جواز۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1240 ترقیم شاملہ: -- 3009
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ الْعُمْرَةَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ مِنْ أَفْجَرِ الْفُجُورِ فِي الْأَرْضِ، وَيَجْعَلُونَ الْمُحَرَّمَ صَفَرًا، وَيَقُولُونَ إِذَا بَرَأَ الدَّبَرْ وَعَفَا الْأَثَرْ وَانْسَلَخَ صَفَرْ، حَلَّتِ الْعُمْرَةُ لِمَنِ اعْتَمَرْ، فَقَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ صَبِيحَةَ رَابِعَةٍ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً، فَتَعَاظَمَ ذَلِكَ عِنْدَهُمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْحِلِّ؟ قَالَ: " الْحِلُّ كُلُّهُ ".
عبداللہ بن طاوس نے اپنے والد طاوس بن کیسان سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے فرمایا: (جاہلیت میں) لوگوں کا خیال تھا کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا، زمین میں سب سے برا کام ہے۔ اور وہ لوگ محرم کے مہینے کو صفر بنا لیا کرتے تھے، اور کہا کرتے تھے: جب (اونٹوں کا) پیٹھ کا زخم مندمل ہو جائے، (مسافروں کا) نشان (قدم) مٹ جائے اور صفر (اصل میں محرم) گزر جائے تو عمرہ والے کے لیے عمرہ کرنا جائز ہے۔ (حالانکہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے ساتھ چار ذوالحجہ کی صبح کو حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے مکہ پہنچے، اور ان (صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین) کو حکم دیا کہ اپنے حج (کی نیت) کو عمرہ میں بدل دیں، یہ بات ان (صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین) پر بڑی گراں تھی، سب نے بیک زبان کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کیسی حلت (احرام کا خاتمہ) ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکمل حلت۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3009]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (جاہلیت کے دور میں) لوگ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا زمین میں سب سے بڑی برائی سمجھتے تھے، اور وہ محرم کے مہینہ کو صفر قرار دیتے اور کہتے تھے، جب اونٹوں کی پشتوں کے زخم ٹھیک ہو جائیں، اور نقش قدم مٹ جائیں یا زخموں کے نشان مٹ جائیں اور ماہ صفر گزر جائے تو عمرہ کرنے والوں کے لیے عمرہ حلال ہو جاتا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی چار ذوالحجہ کی صبح (مکہ مکرمہ) پہنچے اور انہوں نے حج کا احرام باندھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں، اس کو عمرہ قرار دینے کا حکم دیا، یہ بات ان کے لیے انتہائی گرانی کا باعث بنی، تو انہوں نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کس قسم کا حلال ہونا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکمل طور پر حلال ہو جاؤ۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3009]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1240
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1240 ترقیم شاملہ: -- 3010
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ، فَقَدِمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَصَلَّى الصُّبْحَ، وَقَالَ لَمَّا صَلَّى الصُّبْحَ: " مَنْ شَاءَ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً "،
نصر بن علی جہضمی نے ہمیں حدیث سنائی، (کہا:) میرے والد نے ہمیں حدیث سنائی، (کہا:) شعبہ نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے ایوب سے، انہوں نے ابوعالیہ براء سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ فرما رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا تلبیہ پکارا اور چار ذوالحجہ کو تشریف لائے اور فجر کی نماز ادا کی، جب نماز فجر ادا کر چکے تو فرمایا: جو (اپنے حج کو) عمرہ بنانا چاہے، وہ اسے عمرہ بنا لے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3010]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے لیے احرام باندھا، اور چار ذوالحجہ کو پہنچ کر، صبح کی نماز (مکہ مکرمہ میں) ادا کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھ لی تو فرمایا: جو حج کے احرام کو عمرہ سے بدلنا چاہتا ہو، وہ اس کو عمرہ کا احرام قرار دے لے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3010]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1240
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1240 ترقیم شاملہ: -- 3011
وحَدَّثَنَاه إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْمُبَارَكِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ كُلُّهُمْ، عَنْ شُعْبَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ أَمَّا رَوْحٌ، وَيَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ، فَقَالَ نَصْرٌ: " أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ "، وَأَمَّا أَبُو شِهَابٍ فَفِي رِوَايَتِهِ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُهِلُّ بِالْحَجِّ "، وَفِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا فَصَلَّى الصُّبْحَ بِالْبَطْحَاءِ، خَلَا الْجَهْضَمِيَّ فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْهُ.
یہی حدیث روح، ابوشہاب اور یحییٰ بن کثیر ان تمام نے شعبہ سے اسی سند سے روایت کی، روح اور یحییٰ بن کثیر دونوں نے ویسے ہی کہا جیسا کہ نصر (بن علی جہضمی) نے کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا تلبیہ پکارا البتہ ابوشہاب کی روایت میں ہے: ہم تمام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے نکلے۔ (آگے) ان سب کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطحاء میں فجر کی نماز ادا کی، سوائے جہضمی کے کہ انہوں نے یہ بات نہیں کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3011]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت اپنے مختلف اساتذہ سے، کچھ لفظی فرق کے ساتھ بیان کرتے ہیں، روح اور یحییٰ بن کثیر نے تو نصر کی مذکورہ روایت کی طرح یہی کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا تلبیہ کہا، لیکن ابو شہاب کی روایت میں ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا احرام باندھ کر چلے، ان سب اساتذہ کی روایت یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز بطحاء میں ادا کی، لیکن جہضمی (نصر) کی مذکورہ بالا روایت میں بطحاء کا تذکرہ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3011]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1240
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1240 ترقیم شاملہ: -- 3012
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّدُوسِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لِأَرْبَعٍ خَلَوْنَ مِنَ الْعَشْرِ، وَهُمْ يُلَبُّونَ بِالْحَجِّ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً ".
ہمیں وہیب نے حدیث سنائی، (کہا:) ہمیں ایوب نے حدیث سنائی انہوں نے ابوعالیہ براء سے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سمیت عشرہ ذوالحجہ کی چار راتیں گزارنے کے بعد (مکہ) تشریف لائے۔ وہ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین) حج کا تلبیہ پکار رہے تھے (وہاں پہنچ کر) آپ نے انہیں حکم دیا کہ اس (نسک جس کے لیے وہ تلبیہ پکار رہے تھے) کو عمرہ میں بدل دیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3012]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی عشرہ ذوالحجہ کی چار تاریخ کو حج کا تلبیہ کہتے ہوئے پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں، اسے عمرہ بنا دینے کا حکم صادر فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3012]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1240
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1240 ترقیم شاملہ: -- 3013
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ بِذِي طَوًى، وَقَدِمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُحَوِّلُوا إِحْرَامَهُمْ بِعُمْرَةٍ، إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ ".
معمر نے ہمیں خبر دی انہوں نے ایوب سے انہوں نے ابوعالیہ سے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز ذی طویٰ میں ادا فرمائی اور ذوالحجہ کی چار راتیں گزری تھیں کہ تشریف لائے اور اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو حکم فرمایا کہ جس کے پاس قربانی ہے ان کے علاوہ باقی سب لوگ اپنے (حج کے) احرام کو عمرہ میں بدل دیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3013]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز مقام ذو طویٰ میں پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار ذوالحجہ کو پہنچے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا، جس کے پاس قربانی نہیں ہے، وہ اپنے اس احرام کو عمرہ کا احرام قرار دیں لیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3013]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1240
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں