صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
46. باب التلبية والتكبير في الذهاب من منى إلى عرفات في يوم عرفة:
باب: عرفہ کے دن منی سے عرفات کی طرف جاتے ہوئے تکبیر اور تلبیہ پڑھنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1285 ترقیم شاملہ: -- 3097
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ ، أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، وَهُمَا غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: " كَانَ يُهِلُّ الْمُهِلُّ مِنَّا، فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ، وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ مِنَّا، فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ ".
یحییٰ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث سنائی کہا: میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی کہ محمد بن ابی بکر ثقفی سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے جب وہ دونوں صبح کے وقت منیٰ سے عرفہ جا رہے تھے دریافت کیا: آپ اس (عرفہ کے) دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیسے (ذکر و عبادت) کر رہے تھے؟ انہوں نے کہا: ہم میں سے تہلیل کہنے والا «لا اله الا الله» کہتا تو اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا تھا۔ اور تکبیریں کہنے والا کہتا تو اس پر بھی کوئی نکیر نہ کی جاتی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3097]
محمد بن ابی بکر ثقفی نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا، جبکہ دونوں منیٰ سے عرفات کی طرف جا رہے تھے، آپ حضرات اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، کیا، کیا کرتے تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا، ہم میں سے تہلیل کہنے والا، (لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ) [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3097]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1285
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1285 ترقیم شاملہ: -- 3098
وَحَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : غَدَاةَ عَرَفَةَ مَا تَقُولُ فِي التَّلْبِيَةِ هَذَا الْيَوْمَ؟ قَالَ: " سِرْتُ هَذَا الْمَسِيرَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، فَمِنَّا الْمُكَبِّرُ، وَمِنَّا الْمُهَلِّلُ، وَلَا يَعِيبُ أَحَدُنَا عَلَى صَاحِبِهِ ".
موسیٰ بن عقبہ نے کہا: مجھے محمد بن ابی بکر نے حدیث بیان کی کہا: میں نے عرفہ کی صبح حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے عرض کی: آپ اس دن میں تلبیہ پکارنے کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نے یہ سفر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی معیت میں کیا، تو ہم میں سے کچھ تکبیریں کہنے والے تھے اور کچھ «لا اله الا الله» کہنے والے۔ اور ہم میں سے کوئی بھی اپنے ساتھی (کے عمل) پر عیب نہیں لگاتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3098]
محمد بن ابی بکر رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرفہ کی صبح، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا، آپ اس دن تلبیہ کہنے کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا، میں نے یہ مسافت یا سفر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے ساتھ طے کیے ہے ہم میں سے کوئی (اَللہُ اَکْبَر) [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3098]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1285
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة