🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب ندب النظر إلى وجه المراة وكفيها لمن يريد تزوجها:
باب: جو کسی عورت سے نکاح کاارادہ کرے تو اس کو مستحب ہے کہ اس کا منہ اور ہتھیلیاں دیکھ لے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1424 ترقیم شاملہ: -- 3485
حدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كُنْتُ عَنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَأَخْبَرَهُ: أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، فقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَظَرْتَ إِلَيْهَا؟ "، قَالَ: لَا، قَالَ: " فَاذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا ".
سفیان نے ہمیں یزید بن کیسان سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوحازم سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھا، آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور بتایا کہ اس نے انصار کی ایک عورت سے نکاح (طے) کیا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تم نے اسے دیکھا ہے؟ اس نے جواب دیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور اسے دیکھ لو کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3485]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا، اور اس نے عرض کیا، اس نے ایک انصاری عورت سے نکاح کا ارادہ کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: کیا تو نے اس پر نظر ڈال لی ہے؟ اس نے کہا، نہیں۔ آپ نے فرمایا: جاؤ، اس کو دیکھ لو، کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ (عیب و نقص) ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3485]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1424
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1424 ترقیم شاملہ: -- 3486
وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حدثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، حدثنا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، فقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا؟ فَإِنَّ فِي عُيُونِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا "، قَالَ: قَدْ نَظَرْتُ إِلَيْهَا، قَالَ: " عَلَى كَمْ تَزَوَّجْتَهَا؟ "، قَالَ: عَلَى أَرْبَعِ أَوَاقٍ، فقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَى أَرْبَعِ أَوَاقٍ، كَأَنَّمَا تَنْحِتُونَ الْفِضَّةَ مِنْ عُرْضِ هَذَا الْجَبَلِ، مَا عَنْدَنَا مَا نُعْطِيكَ وَلَكِنْ عَسَى أَنْ نَبْعَثَكَ فِي بَعْثٍ تُصِيبُ مِنْهُ "، قَالَ: فَبَعَثَ بَعْثًا إِلَى بَنِي عَبْسٍ بَعَثَ ذَلِكَ الرَّجُلَ فِيهِمْ.
مروان بن معاویہ فزاری نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں یزید بن کیسان نے ابوحازم سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی حاضر ہوا اور کہا: میں نے انصار کی ایک عورت سے نکاح کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تم نے اسے دیکھا ہے؟ کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہے۔ اس نے جواب دیا: میں نے اسے دیکھا ہے۔ آپ نے پوچھا: کتنے مہر پر تم نے اس سے نکاح کیا ہے؟ اس نے جواب دیا: چار اوقیہ پر۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: چار اوقیہ چاندی پر؟ گویا تم اس پہاڑ کے پہلو سے چاندی تراشتے ہو! تمہیں دینے کے لیے ہمارے پاس کچھ موجود نہیں، البتہ جلد ہی ہم تمہیں ایک لشکر میں بھیج دیں گے تمہیں اس سے (غنیمت کا حصہ) مل جائے گا۔ کہا: اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبس کی جانب ایک لشکر روانہ کیا (تو) اس آدمی کو بھی اس میں بھیج دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3486]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا، میں نے ایک انصاری عورت کو شادی کا پیغام دیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: کیا تو نے اسے دیکھ لیا ہے؟ کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہے۔ اس نے کہا، میں دیکھ چکا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: اس کا کتنا مہر رکھا ہے؟ اس نے عرض کیا، چار اوقیہ چاندی پر (نکاح کیا ہے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (تعجب سے) فرمایا: چار اوقیہ پر؟ گویا تم اس پہاڑ کے پہلو یا کونہ سے چاندی تراش لیتے ہو، ہمارے پاس تجھے دینے کے لیے کچھ نہیں ہے، لیکن ممکن ہے، ہم تمہیں کسی لشکر میں بھیج دیں، تجھے اس سے کچھ مل جائے گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبس کی طرف ایک پارٹی بھیجی اور اس آدمی کو بھی اس میں بھیج دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3486]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1424
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں