صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
5. باب في الإيلاء واعتزال النساء وتخييرهن وقوله تعالى: {وإن تظاهرا عليه}:
باب: ایلاء دار عورتوں سے علیحدہ ہونا۔
ترقیم عبدالباقی: 1475 ترقیم شاملہ: -- 3681
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حدثنا ابْنُ وَهْبٍ. ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، وَاللَّفْظُ لَهُ: أَخْبَرَنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ : أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَت: لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَخْيِيرِ أَزْوَاجِهِ بَدَأَ بِي، فقَالَ: " إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا، فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَعْجَلِي حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ، قَالَت: قَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ، قَالَت: ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلا {28} وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا {29} سورة الأحزاب آية 28-29، قَالَت: فَقُلْتُ: فِي أَيِّ هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ، فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ، قَالَت: ثُمَّ فَعَلَ أَزْوَاجُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ ".
ابن شہاب سے روایت ہے، کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی بیویوں کو اختیار دیں تو آپ نے (اس کی) ابتدا مجھ سے کی، اور فرمایا: ”میں تم سے ایک بات کرنے لگا ہوں۔ تمہارے لیے اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ تم اپنے والدین سے مشورہ کرنے تک (جواب دینے میں) عجلت سے کام نہ لو۔“ انہوں نے کہا: آپ کو بخوبی علم تھا کہ میرے والدین مجھے کبھی آپ سے جدا ہونے کا مشورہ نہیں دیں گے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں (دنیا کا) ساز و سامان دوں اور تمہیں اچھائی کے ساتھ رخصت کر دوں۔ اور اگر تم اللہ اور اس کا رسول اور آخرت کا گھر چاہتی ہو تو اللہ نے تم میں سے نیک کام کرنے والیوں کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔‘“ (عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: میں نے عرض کی: ان میں سے کس بات میں اپنے والدین سے مشورہ کروں؟ میں تو اللہ، اس کا رسول اور آخرت کا گھر چاہتی ہوں۔ کہا: پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج نے وہی کیا جو میں نے کیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3681]
امام صاحب اپنے دو اساتذہ سے بیان کرتے ہیں اور یہ الفاظ حرملہ بن یحییٰ تجیبی کے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ اپنی بیویوں کو (دنیا اور آخرت میں سے ایک کے انتخاب کا) اختیار دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدا مجھ سے کی اور فرمایا: ”میں تم سے ایک معاملہ کا ذکر کرنے لگا ہوں۔ تم پر کوئی تنگی نہیں ہے اگر (اس کے بارے میں فیصلہ کرنے میں) جلد بازی سے کام نہ لو۔ حتی کہ اپنے والدین سے صلاح و مشورہ کر لو۔ وہ بیان کرتی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوب معلوم تھا کہ میرے والدین مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہونے کا مشورہ نہیں دیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”اے نبی! اپنی بیویوں سے فرما دیجیئے، اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کی خواہاں ہو، تو آؤ۔ میں تمہیں دنیا کا سازوسامان دوں اور بڑے اچھے طریقہ سے تمہیں رخصت کروں، اور اگر تم اللہ، اس کے رسول اور آخرت کے گھر کی خواہاں ہو تو اللہ تعالیٰ نے تم خوب کاروں کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔“ (سورۃ احزاب: 28،29) [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3681]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1475
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1475 ترقیم شاملہ: -- 3696
(حديث موقوف) قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ : فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: لَمَّا مَضَى تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَدَأَ بِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ أَقْسَمْتَ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا، وَإِنَّكَ دَخَلْتَ مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ أَعُدُّهُنَّ، فقَالَ: " إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ "، ثُمَّ قَالَ: " يَا عَائِشَةُ، إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا، فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ "، ثُمَّ قَرَأَ عَلَيَّ الْآيَةَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ، حَتَّى بَلَغَ أَجْرًا عَظِيمًا سورة الأحزاب آية 28 - 29، قَالَت عَائِشَةُ: قَدْ عَلِمَ وَاللَّهِ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ، قَالَت: فَقُلْتُ: أَوَ فِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ، فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ، قَالَ مَعْمَرٌ : فَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ : أَنَّ عَائِشَةَ قَالَت: لَا تُخْبِرْ نِسَاءَكَ أَنِّي اخْتَرْتُكَ، فقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ أَرْسَلَنِي مُبَلِّغًا وَلَمْ يُرْسِلْنِي مُتَعَنْتًا "، قَالَ قَتَادَةُ: صَغَتْ قُلُوبُكُمَا مَالَتْ قُلُوبُكُمَا.
زہری نے کہا: مجھے عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی، انہوں نے کہا: جب انتیس راتیں گزر گئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، آپ نے میرے (گھر) سے ابتدا کی، میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ نے قسم کھائی تھی کہ مہینہ بھر ہمارے پاس نہیں آئیں گے، اور آپ انتیسویں دن تشریف لائے ہیں، میں انہیں شمار کرتی رہی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ مہینہ انتیس دن کا ہے۔“ پھر فرمایا: ”عائشہ! میں تم سے ایک بات کرنے لگا ہوں، تمہارے لیے کوئی حرج نہیں کہ تم اپنے والدین سے بھی مشورہ کرنے تک اس میں جلدی نہ کرو۔“ پھر آپ نے میرے سامنے تلاوت فرمائی: ”اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے“ سے لے کر ”بہت بڑا اجر ہے“ تک پہنچ گئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کی قسم! آپ کو بخوبی علم تھا کہ میرے والدین مجھے کبھی آپ سے جدائی کا مشورہ نہیں دیں گے۔ کہا: تو میں نے عرض کی: کیا میں اس کے بارے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں گی؟ میں یقیناً اللہ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آخرت کے گھر کی طلب گار ہوں۔ معمر نے کہا: مجھے ایوب نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ اپنی دوسری بیویوں کو نہ بتائیں کہ میں نے آپ کو چن لیا ہے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے مبلغ (پہنچانے والا) بنا کر بھیجا ہے، کمزوریاں ڈھونڈنے والا بنا کر نہیں بھیجا۔“ قتادہ نے کہا: (صَغَتْ قُلُوبُکُمَا ۖ) (التحریم: 4: 66) کا معنی ہے: تم دونوں کے دل مائل ہو چکے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3696]
امام زہری بیان کرتے ہیں، مجھے عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بتایا کہ جب انتیس راتیں گزر گئیں (دن سمیت) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، ابتدا مجھ سے کی، تو میں نے پوچھا، (آپ کہیں بھول تو نہیں گئے) اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اٹھائی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس ایک ماہ تک نہیں آئیں گے اور آپ انتیسویں دن تشریف لے آئے ہیں۔ میں انہیں (بڑی بے صبری سے) گنتی رہی ہوں، آپ نے فرمایا: ”یہ مہینہ انتیس کا ہے۔“ پھر فرمایا: ”اے عائشہ! میں تجھے ایک بات بتانے لگا ہوں تم پر کوئی تنگی نہیں ہے، اگر اس کے جواب میں جلد بازی نہ کرو، حتی کہ اپنے والدین سے مشورہ کر لو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آیت سنائی: (اے نبی! اپنی بیویوں کو فرما دیجئے، سے لے کر ﴿أَجْرًا عَظِيمًا﴾ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3696]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1475
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة