🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب:
باب:
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1498 ترقیم شاملہ: -- 3761
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ الْأَنْصَارِيَّ، قَالَ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَجِدُ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا، قَالَ سَعْدٌ: بَلَى، وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِالْحَقِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْمَعُوا إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ ".
عبدالعزیز نے ہمیں سہیل سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد (صالح) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اس آدمی کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی (غیر) مرد کو پائے، کیا وہ اسے قتل کر دے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ عزت بخشی، کیوں نہیں! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (لوگو!) جو بات تمہارا سردار کہہ رہا ہو، اس کو سنو۔ [صحيح مسلم/كتاب اللعان/حدیث: 3761]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، اے اللہ کے رسول! بتائیے ایک آدمی، دوسرے آدمی کو اپنی بیوی کے ساتھ پاتا ہے۔ کیا اس کو قتل کر دے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ سعد رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، کیوں نہیں؟ اس ذات کی قسم، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر بھیجا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے سردار کی بات سنو، وہ کیا کہتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللعان/حدیث: 3761]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1498
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1498 ترقیم شاملہ: -- 3762
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا أأمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ؟ قَالَ: نَعَمْ ".
امام مالک نے سہیل سے، انہوں نے اپنے والد (صالح) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پاؤں تو کیا چار گواہ لانے تک اسے مہلت دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ (یہ آیتِ لعان اترنے سے پہلے کا فرمان ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب اللعان/حدیث: 3762]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، اے اللہ کے رسول! اگر میں کسی مرد کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھوں تو کیا اسے چار گواہوں کے لانے تک، مہلت دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كتاب اللعان/حدیث: 3762]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1498
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1498 ترقیم شاملہ: -- 3763
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ وَجَدْتُ مَعَ أَهْلِي رَجُلًا لَمْ أَمَسَّهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، قَالَ: كَلَّا، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، إِنْ كُنْتُ لَأُعَاجِلُهُ بِالسَّيْفِ قَبْلَ ذَلِكَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْمَعُوا إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ، إِنَّهُ لَغَيُورٌ وَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ، وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي ".
سلیمان بن بلال سے روایت ہے، کہا: مجھے سہیل نے اپنے والد (صالح) کے حوالے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پاؤں تو میں اسے ہاتھ نہ لگاؤں حتیٰ کہ چار گواہ پیش کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ انہوں نے کہا: ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں تو اسے اس سے پہلے ہی تلوار کا نشانہ بناؤں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (لوگو!) جو تمہارا سردار کہہ رہا ہے اس بات کو سنو! بلاشبہ وہ غیرت والا ہے، میں اس سے زیادہ غیور ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیور ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللعان/حدیث: 3763]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا، حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ نے پوچھا، اے اللہ کے رسول! اگر میں کسی کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھوں تو میں اسے اس وقت تک کچھ نہ کہوں (ہاتھ نہ لگاؤں) یہاں تک کہ چار گواہ لے آؤں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ اس نے کہا، ممکن نہیں ہے، اس ذات کی قسم! جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر بھیجا ہے۔ میں تو یقیناً اس کے اس سے پہلے ہی تلوار کا نشانہ بناؤں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے سردار کی بات پر کان دھرو۔ وہ بلاشبہ غیرت مند ہے، اور میں اس سے زیادہ غیرت والا ہوں اور اللہ مجھ سے بھی زیادہ غیور ہے (اس کے باوجود اس کا قانون یہی ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب اللعان/حدیث: 3763]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1498
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں