🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
69. باب زيادة طمانينة القلب بتظاهر الادلة:
باب: دلائل کے اظہار سے دل کو زیادہ اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 151 ترقیم شاملہ: -- 382
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلامُ، إِذْ قَالَ: رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي سورة البقرة آية 260، قَالَ: وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ طُولَ، لَبْثِ يُوسُفَ لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ.
یونس نے ابن شہاب زہری سے خبر دی، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن اور سعید بن مسیب سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ شک کرنے کا حق رکھتے ہیں، جب انہوں نے کہا تھا: «رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ» اے میرے رب! مجھے دکھا تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «أَوَلَمْ تُؤْمِن» کیا تمہیں یقین نہیں؟ کہا: «بَلَىٰ وَلَٰكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي» کیوں نہیں! لیکن تاکہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔ آپ نے فرمایا: اور اللہ لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے، (وہ کسی سہارے کی تمنا کر رہے تھے) حالانکہ انہوں نے ایک مضبوط سہارے کی پناہ لی ہوئی تھی۔ اور اگر میں قید خانے میں یوسف علیہ السلام جتنا طویل عرصہ ٹھہرتا تو (ہو سکتا ہے) بلانے والے کی بات مان لیتا۔ (عملاً آپ نے دوسرے انبیاء سے بڑھ کر ہی صبر و تحمل سے کام لیا۔) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 382]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم ابراہیم علیہ السلام سے شک کرنے کے زیادہ مستحق ہیں، جب انھوں نے کہا تھا: اے میرے رب! مجھے دکھا تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا تجھے یقین نہیں ہے؟ ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا: کیوں نہیں (مجھے یقین ہے) لیکن میں چاہتا ہوں میرا دل (مشاہدہ سے) اور زیادہ مطمئن ہو جائے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے! وہ ایک مضبوط ستون کی پناہ چاہتے تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر قید خانہ میں، میں یوسف علیہ السلام جتنا طویل عرصہ ٹھہرتا تو بلانے والے کے بلاوے پر فوراً عمل کرتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 382]
ترقیم فوادعبدالباقی: 151
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في التفسير، باب: ﴿ وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ ﴾ برقم (4537) وفي باب: ﴿ فَلَمَّا جَاءَهُ الرَّسُولُ قَالَ ارْجِعْ إِلَىٰ رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ ..... ﴾ برقم (4694) والمؤلف (مسلم) في الفضائل، باب: من فضائل ابراهيم الخليل عليه السلام برقم (6094) وابن ماجه في ((سننه)) في الفتن، باب: الصبر على البلاء برقم (4026) انظر ((التحفة)) برقم (13325 و 15313)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 151 ترقیم شاملہ: -- 383
وحَدَّثَنِي بِهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ وَأَبَا عُبَيْدٍ أَخْبَرَاهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَفِي حَدِيثِ مَالِكٍ: وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي، قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ حَتَّى جَازَهَا.
مالک نے زہری سے روایت کی کہ سعید بن مسیب اور ابوعبیدہ نے انہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی جو زہری سے یونس کی (روایت کردہ) حدیث کے مانند ہے اور مالک کی حدیث میں (یوں) ہے: تاکہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔ کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی حتی کہ اس سے آگے نکل گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 383]
امام مسلم رحمہ اللہ زہری رحمہ اللہ کی اس سند سے روایت بیان کی ہے آخر میں کہا پھر یہ آیت مکمل پڑھی، (فرق صرف یہ ہے مالک رحمہ اللہ کی روایت «حَتَّى جَازَهَا» (اس سے فارغ ہوئے) اور ابو اویس رحمہ اللہ کی روایت میں «حَتَّى أَنْجَزَهَا» (حتٰی کہ اس کو مکمل کیا) ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 383]
ترقیم فوادعبدالباقی: 151
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في احاديث الانبياء، باب: قول الله تعالى: ﴿ لَّقَدْ كَانَ فِي يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِ آيَاتٌ لِّلسَّائِلِينَ ﴾ برقم (3387) وفى التعبير، باب: رویا اهل السجون والفساد والشرك، لقوله تعالى: ﴿ وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَيَانِ ... الآية ﴾ برقم (6992) ومسلم في ((صحيحه)) في الفضائل، باب: فضائل ابراهيم برقم (6095) انظر ((التحفة)) برقم (12931)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 151 ترقیم شاملہ: -- 384
حَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ كَرِوَايَةِ مَالِكٍ بِإِسْنَادِهِ، وَقَالَ: ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ حَتَّى أَنْجَزَهَا.
ابواویس نے بھی زہری سے اسی طرح روایت کی ہے جس طرح مالک نے کی ہے البتہ اس نے (حتی جازھا) حتی کہ اس سے آگے نکل گئے کے بجائے (حتی أنجزھا) حتی کہ اس کو مکمل کیا کہا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 384]
امام مسلم رحمہ اللہ مذکورہ بالا روایت دوسری سند سے بھی بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 384]
ترقیم فوادعبدالباقی: 151
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (381)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 151 ترقیم شاملہ: -- 6142
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ، إِذْ قَالَ: رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي سورة البقرة آية 260، وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ، طُولَ لَبْثِ يُوسُفَ، لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ ".
یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت شک کرنے کے زیادہ حق دار تھے جب انہوں نے کہا تھا: «رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى» ’اے میرے رب! مجھے دکھا تو کس طرح مردوں کو زندہ کرتا ہے۔‘ اللہ نے ان سے پوچھا: کیا آپ کو یقین نہیں؟ تو انہوں نے کہا: کیوں نہیں! مگر صرف اس لیے (دیکھنا چاہتا ہوں) کہ میرے دل کو مزید اطمینان ہو جائے۔ اور اللہ تعالیٰ حضرت لوط علیہ السلام پر رحم کرے! وہ ایک مضبوط سہارے کی پناہ لیتے تھے۔ اور اگر میں قید خانے میں اتنا لمبا عرصہ رہتا جتنا عرصہ حضرت یوسف علیہ السلام رہے تو میں بلانے والے کی بات مان لیتا (بلاوا ملتے ہی جیل سے باہر آ جاتا۔) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 6142]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: ہم ابراہیم علیہ السلام سے شک کرنے کا زیادہ حق رکھتے ہیں، جب انہوں نے کہا، اے میرے رب! مجھے دکھائیے، آپ مردوں کو کس طرح زندہ کرتے ہیں؟ فرمایا: کیا تمہیں یقین نہیں، کہا، کیوں نہیں، لیکن میں چاہتا ہوں (مشاہدہ سے) میرا دل مطمئن ہو جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے، وہ مضبوط پناہ کا تحفظ چاہتے تھے او راگر میں جیل میں یوسف علیہ السلام کی لمبی قید کاٹتا تو بلانے والے کے ساتھ فوراً چلا جاتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 6142]
ترقیم فوادعبدالباقی: 151
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 151 ترقیم شاملہ: -- 6143
وحَدَّثَنَاه إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبَا عُبَيْدٍ أَخْبَرَاهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ.
امام مالک نے زہری سے روایت کی کہ سعید بن مسیب اور ابوعبید نے انہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یونس کی زہری سے روایت کردہ حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 6143]
یہی روایت امام صاحب نے ایک اور استاد سے بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 6143]
ترقیم فوادعبدالباقی: 151
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 151 ترقیم شاملہ: -- 6144
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَغْفِرُ اللَّهُ لِلُوطٍ، إِنَّهُ أَوَى إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ ".
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا: مضبوط سہارے کی پناہ لی ہوئی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 6144]
لیکن کسی استاد سے سنی ہے، اس میں شبہ کی بنا پر کہہ دیا کہ ان شاءاللہ یعنی ظن غالب یہی ہے کہ عبداللہ بن محمد بن اسماء سےسنی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ لوط علیہ السلام کو معاف فرمائے، وہ مضبوط رکن کی پناہ چاہتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 6144]
ترقیم فوادعبدالباقی: 151
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں