🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب بطلان بيع المبيع قبل القبض:
باب: قبضہ سے پہلے خریدار کو دوسرے کے ہاتھ بیچنا درست نہیں ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1528 ترقیم شاملہ: -- 3848
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ اشْتَرَى طَعَامًا، فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَكْتَالَهُ "، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ: مَنِ ابْتَاعَ.
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر اور ابوکریب نے کہا: ہمیں زید بن حباب نے ضحاک بن عثمان سے حدیث بیان کی، انہوں نے بکیر بن عبداللہ بن اشج سے، انہوں نے سلیمان بن یسار سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص غلہ خریدے تو اسے ناپ کر لے لینے سے پہلے آگے فروخت نہ کرے۔ ابوبکر کی روایت میں (من الشتری کی بجائے) من ابتاع کے الفاظ ہیں (معنی ایک جیسے ہیں)۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3848]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اناج خریدا، اس کا ناپ لیے بغیر فروخت نہ کرے۔ ابوبکر کی روایت میں «اشْتَرَىٰ» جس نے خریدا کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3848]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1528
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1528 ترقیم شاملہ: -- 3849
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ لِمَرْوَانَ: أَحْلَلْتَ بَيْعَ الرِّبَا، فَقَالَ مَرْوَانُ: مَا فَعَلْتُ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَحْلَلْتَ بَيْعَ الصِّكَاكِ، " وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ حَتَّى يُسْتَوْفَى "، قَالَ: فَخَطَبَ مَرْوَانُ النَّاسَ، فَنَهَى عَنْ بَيْعِهَا، قَالَ سُلَيْمَانُ: فَنَظَرْتُ إِلَى حَرَسٍ يَأْخُذُونَهَا مِنْ أَيْدِي النَّاسِ.
عبداللہ بن حارث مخزومی نے ہمیں خبر دی، کہا: ہمیں ضحاک بن عثمان نے بکیر بن عبداللہ بن اشج سے حدیث بیان کی، انہوں نے سلیمان بن یسار سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے مروان سے کہا: تم نے سودی تجارت حلال کر دی ہے؟ مروان نے جواب دیا: میں نے ایسا کیا کیا ہے؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے ادائیگی کی دستاویزات (چیکوں) کی بیع حلال قرار دی ہے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکمل قبضہ کرنے سے پہلے غلے کو بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ کہا: اس پر مروان نے لوگوں کو خطبہ دیا اور ان (چیکوں) کی بیع سے منع کر دیا۔ سلیمان نے کہا: میں نے محافظوں کو دیکھا وہ انہیں لوگوں کے ہاتھوں سے واپس لے رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3849]
سلیمان بن یسار حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت مروان بن حکم رضی اللہ عنہ کو کہا: تو نے سود کو جائز قرار دے دیا ہے، تو مروان رضی اللہ عنہ نے پوچھا: میں نے کیا کیا ہے؟ تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نے دستاویز (ہنڈی) کی بیع کو جائز قرار دیا ہے، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اناج کو قبضہ میں لیے بغیر فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے، تو مروان نے لوگوں کو خطاب کیا اور دستاویز کی بیع سے روک دیا، سلیمان کہتے ہیں: میں نے سپاہیوں (محافظوں) کو دیکھا، وہ دستاویز لوگوں کے ہاتھوں سے چھین رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3849]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1528
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں