🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
71. باب نزول عيسى ابن مريم حاكما بشريعة نبينا محمد صلى الله عليه وسلم:
باب: عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے اور ان کے شریعت محمدی کے موافق چلنے اور اللہ تعالیٰ کا اس امت کو عزت اور شرف عطا فرمانا اور اس بات کی دلیل کہ اسلام سابقہ ادیان کا ناسخ ہے اور قیامت تک ایک جماعت اسلام کی حفاظت میں کھڑی رہے گی۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 155 ترقیم شاملہ: -- 389
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّّلام حَكَمًا مُقْسِطًا، فَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ، وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ، وَيَفِيضُ الْمَالُ، حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ ".
لیث نے ابن شہاب سے حدیث سنائی، انہوں نے ابن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یقیناً قریب ہے کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام تم میں اتریں گے، انصاف کرنے والے حاکم ہوں گے، پس وہ صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کر دیں گے اور مال کی فراوانی ہو جائے گی حتی کہ کوئی اس کو قبول نہ کرے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 389]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قریب ہے کہ تم میں عیسیٰ بن مریم علیہ السلام عادل حاکم بن کر اتریں، تو وہ صلیب کو توڑ دیں گے، اور خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کر دیں گے، اور مال عام ہو جائے گا حتیٰ کہ اسے کوئی قبول نہیں کرے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 389]
ترقیم فوادعبدالباقی: 155
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) فى البيوع، قتل الخنزير برقم (2222) والترمذي في ((جامعه)) في الفتن، باب: ما جاء في نزول عيسى ابن مريم عليهما السلام - وقال: هذا حديث حسن صحیح برقم (2233) انظر ((التحفة)) برقم (13228)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 155 ترقیم شاملہ: -- 390
وحَدَّثَنَاه عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ كُلُّهُمْ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عُيَيْنَةَ: إِمَامًا مُقْسِطًا وَحَكَمًا عَدْلًا، وَفِي رِوَايَةِ يُونُسَ: حَكَمًا عَادِلًا، وَلَمْ يَذْكُرْ: إِمَامًا مُقْسِطًا، وَفِي حَدِيثِ صَالِحٍ: حَكَمًا مُقْسِطًا، كَمَا قَالَ اللَّيْثُ وَفِي حَدِيثِهِ مِنَ الزِّيَادَةِ: وَحَتَّى تَكُونَ السَّجْدَةُ الْوَاحِدَةُ خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ سورة النساء آية 159 الآيَةَ.
سفیان بن عیینہ، یونس اور صالح نے (ابن شہاب) زہری سے (ان کی) اسی سند کے ساتھ روایت نقل کی۔ ابن عیینہ کی روایت میں ہے: انصاف کرنے والے پیشوا، عادل حاکم اور یونس کی روایت میں: عادل حاکم ہے، انہوں نے انصاف کرنے والے پیشوا کا تذکرہ نہیں کیا۔ اور صالح کی روایت میں لیث کی طرح ہے: انصاف کرنے والے حاکم اور یہ اضافہ بھی ہے: حتی کہ ایک سجدہ دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہو گا۔ (کیونکہ باقی انبیاء کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل ایمان ہو گا، اور اولو العزم نبی جو صاحب کتاب و شریعت تھا، آپ کی امت میں شامل ہو گا اور اسی کے مطابق فیصلے فرما رہا ہو گا۔) پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (آخر میں) کہتے ہیں: چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: «وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ» اہل کتاب میں سے کوئی نہ ہو گا مگر عیسیٰ کی وفات سے پہلے ان پر ضرور ایمان لائے گا (اور انہی کے ساتھ امت محمدیہ میں شامل ہو گا۔) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 390]
سفیان رحمہ اللہ، یونس رحمہ اللہ اور ابو صالح رحمہ اللہ، زہری رحمہ اللہ سے مذکورہ بالا روایت نقل کرتے ہیں۔ ابن عینیہ رحمہ اللہ کی روایت میں ہے: «إِمَامًا مُقْسِطًا، وَحَكَمًا عَدْلًا» منصف امام، عادل حکمران۔ اور یونس رحمہ اللہ کی روایت میں صرف «حَكَمًا عَادِلًا» ہے، «إِمَامًا مُقْسِطًا» نہیں۔ اور جیسا کہ لیث رحمہ اللہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے: حتیٰ کہ ایک سجدہ دنیا وما فیہا سے بہتر ہو گا۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آخر میں فرماتے: چاہو تو یہ آیت پڑھ لو! اہلِ کتاب میں سے ہر شخص عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پہلے ان پر ایمان لائے گا۔ ﴿وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا﴾ (النساء: 159) اور قیامت کے دن وہ انھی پر گواہ ہوں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 390]
ترقیم فوادعبدالباقی: 155
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في احاديث الانبياء، باب: نزول عيسی ابن مريم عليهما السلام برقم (3448) انظر ((التحفة)) برقم (13178)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 155 ترقیم شاملہ: -- 391
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَاللَّهِ لَيَنْزِلَنَّ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَادِلًا، فَلَيَكْسِرَنَّ الصَّلِيبَ، وَلَيَقْتُلَنَّ الْخِنْزِيرَ، وَلَيَضَعَنَّ الْجِزْيَةَ، وَلَتُتْرَكَنَّ الْقِلَاصُ فَلَا يُسْعَى عَلَيْهَا، وَلَتَذْهَبَنَّ الشَّحْنَاءُ، وَالتَّبَاغُضُ، وَالتَّحَاسُدُ، وَلَيَدْعُوَنَّ إِلَى الْمَالِ، فَلَا يَقْبَلُهُ أَحَدٌ ".
عطاء بن میناء نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! یقیناً عیسیٰ بن مریم علیہ السلام عادل حاکم (فیصلہ کرنے والے) بن کر اتریں گے، ہر صورت میں صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ موقوف کر دیں گے، جو ان اونٹنیوں کو چھوڑ دیا جائے گا اور ان سے محنت و مشقت نہیں لی جائے گی (دوسرے وسائل میسر آنے کی وجہ سے ان کی محنت کی ضرورت نہ ہو گی) لوگوں کے دلوں سے عداوت، باہمی بغض و حسد ختم ہو جائے گا، لوگ مال (لے جانے) کے لیے بلائے جائیں گے لیکن کوئی اسے قبول نہ کرے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 391]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! عیسیٰ بن مریم علیہ السلام یقیناً حاکم عادل بن کر اتریں گے، ضرور صلیب کو توڑ ڈالیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ موقوف کردیں گے۔ اور ضرور ہی جوان اونٹوں کو چھوڑ دیا جائے گا، اور ان سے محنت و مشقت نہیں لی جائے گی۔ اور یقیناً لوگوں کے دلوں سے عداوتِ باہمی، بغض و حسد ختم ہو جائے گا اور لازماً لوگوں کو مال کی دعوت دی جائے گی، تو اسے کوئی قبول نہیں کرے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 391]
ترقیم فوادعبدالباقی: 155
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14208)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 155 ترقیم شاملہ: -- 392
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ، وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ؟ ".
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے کہا: ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام نافع نے مجھے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وقت تم کیسے (عمدہ حال میں) ہو گے جب مریم کے بیٹے (عیسیٰ علیہ السلام) تم میں اتریں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہو گا؟ (اترنے کے بعد پہلی نماز مقتدی کی حیثیت سے پڑھ کر امت محمدیہ میں شامل ہو جائیں گے۔) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 392]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وقت تمھاری کیا حالت ہو گی جب مریم کے بیٹے (عیسیٰ علیہ السلام) تم میں اتریں گے اور تمھارا امام تم ہی میں سے ہو گا؟ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 392]
ترقیم فوادعبدالباقی: 155
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في احاديث الانبياء، باب: نزول عيسی ابن مريم عليهما السلام برقم (3448) انظر ((التحفة)) برقم (14636)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 155 ترقیم شاملہ: -- 393
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ، فِيكُمْ، وَأَمَّكُمْ؟ ".
ابن شہاب کے بھتیجے نے اپنے چچا (ابن شہاب) کے سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کیسے ہو گے جب مریم کے بیٹے (عیسیٰ علیہ السلام) تمہارے درمیان اتریں گے اور تمہاری پیشوائی کریں گے؟ (جب امامت کرائیں گے تو بھی امت کے ایک فرد کی حیثیت سے کرائیں گے۔) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 393]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمھاری کیا حالت ہو گی جب تم میں مریم کے بیٹے (عیسیٰ علیہ السلام) اتریں گے، اور تمھارا مقتدا اور رہنما ہوں گے؟ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 393]
ترقیم فوادعبدالباقی: 155
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (390)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 155 ترقیم شاملہ: -- 394
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ، فَأَمَّكُمْ مِنْكُمْ؟ "، فَقُلْتُ لِابْنِ أَبِي ذِئْبٍ: إِنَّ الأَوْزَاعِيَّ ، حَدَّثَنَا، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ، وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ، قَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ: تَدْرِي مَا أَمَّكُمْ مِنْكُمْ؟ قُلْتُ: تُخْبِرُنِي، قَالَ: فَأَمَّكُمْ بِكِتَابِ رَبِّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَسُنَّةِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابن ابی ذئب نے ابن شہاب سے سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کیسے ہو گے جب ابن مریم (عیسیٰ علیہ السلام) تم میں اتریں گے اور تم میں سے (ہو کر) تمہاری امامت کرائیں گے؟ میں (ولید بن مسلم) نے ابن ابی ذئب سے پوچھا: اوزاعی نے ہمیں زہری سے حدیث سنائی، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس طرح بیان کیا: اور تمہارا امام تم میں سے ہو گا (اور آپ کہہ رہے ہیں، ابن مریم امامت کرائیں گے) ابن ابی ذئب نے (جواب میں) کہا: جانتے ہو تم میں تمہاری امامت کرائیں گے کا مطلب کیا ہے؟ میں نے کہا: آپ مجھے بتا دیجیے۔ انہوں نے جواب دیا کہ تمہارے رب عزوجل کی کتاب اور تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے ساتھ (تم میں ایک فرد کی حیثیت سے یا تمہاری امت کا فرد بن کر) تمہاری قیادت یا امامت کریں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 394]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمھاری کیا شان ہوگی، جب تم میں ابنِ مریم علیہ السلام اتریں گے اور تمھارے فرد بن کر امامت کریں گے؟ ابن ابی ذئب رحمہ اللہ کے شاگرد نے ان سے پوچھا: اوزاعی رحمہ اللہ نے ہمیں زہری رحمہ اللہ کی نافع رحمہ اللہ سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سنائی، تو یہ الفاظ کہے «وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ» تمھارا امام تم ہی میں سے ہو گا۔ (اور آپ کہہ رہے ہیں: ابنِ مریم علیہ السلام امامت کروائیں گے) ابنِ ابی ذئب رحمہ اللہ نے جواب دیا: جانتے ہو «وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ» کا مقصد کیا ہے؟ شاگرد نے کہا: مجھے آپ بتا دیں! تو استاد نے جواب دیا: کہ تمھارے رب کی کتاب اور تمھارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق تمھاری قیادت و رہنمائی فرمائیں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 394]
ترقیم فوادعبدالباقی: 155
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (390)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں