صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
12. باب من اعتق شركا له في عبد:
باب: مشترکہ غلام کو آزاد کرنے والے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1502 ترقیم شاملہ: -- 3772
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فِي الْمَمْلُوكِ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَيُعْتِقُ أَحَدُهُمَا "، قَالَ: يَضْمَنُ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کے مشترکہ غلام کے بارے میں فرمایا، جن میں سے ایک اپنا حصہ آزاد کر دیتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اگر وہ مالدار ہے تو) وہ (دوسرے کا) ضامن ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 3772]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ غلام جو دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہے اور ان میں سے ایک اپنا حصہ آزاد کر دیتا ہے، تو وہ دوسرے کے حصہ کا ضامن ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 3772]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1502
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1502 ترقیم شاملہ: -- 4331
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فِي الْمَمْلُوكِ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ، فَيُعْتِقُ أَحَدُهُمَا "، قَالَ: يَضْمَنُ،
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے نضر بن انس سے، انہوں نے بشیر بن نہیک سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے دو آدمیوں کے مشترکہ غلام کے بارے میں جن میں سے ایک (اپنا حصہ) آزاد کر دیتا ہے، فرمایا: ”وہ (دوسرے کا) ضامن ہے۔ (کہ اس کے حصے کی قیمت اسے مل جائے گی۔)“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 4331]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مملوک کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو آدمیوں کے درمیان مشترک ہو اور ان میں سے ایک اسے آزاد کر دیتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ خود ذمہ دار ہے۔“ یعنی آزادی دینے والا اگر مال دار ہے تو وہ باقی کو آزاد کرنے کا ذمہ دار ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 4331]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1502
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة